وفاقی کابینہ نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی منظوری دیدی

وفاقی کابینہ نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی منظوری دیدی
وفاقی کابینہ نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی منظوری دیدی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونیوالے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی منظوری دیدی جس کے تحت پاکستان میں رہنے والے افراد چار فیصد ٹیکس ادا کرکے اپنے خفیہ اور ناجائز ذرائع سے بننے والے اثاثے ظاہر کرسکتے ہیں۔

جیونیوز کے مطابق ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت بیرون ملک رہنے والے شہری چھ فیصد ٹیکس دے کر اپنے اثاثے ظاہر کرسکتے ہیں، یہ سکیم 30جون 2019ءکوختم ہوجائے گی اور اس کے بعد اس ایمنسٹی سکیم میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ یادرہے کہ اس سے قبل مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم 21 مئی سے پہلے لائی جارہی ہے، اور یہ آخری موقع ہوگا جس کے بعد صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کریک ڈاو¿ن کریں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت حکومتی وزرا اور ارکان پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے آئی ایم ایف پیکیج اور ٹیکس ایمنسٹی سکیم پر بریفنگ دی جبکہ وزیراعظم اور مشیر خزانہ نے ارکان پارلیمنٹ کے سوالوں کے جوابات بھی دیے۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئندہ بجٹ میں ترقیاتی فنڈ 800 ارب روپے رکھا جائے گا، غریب طبقے کو سہولت دینے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ فنڈ میں 80 ارب روپے کا اضافہ کرکے اس بار فنڈ میں 180 ارب روپے رکھے جائیں گے۔ ایک رکن نے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ ڈالر اور شرح سود کا تعین آئی ایم ایف کرے گا؟ مشیر خزانہ نے جواب دیا کہ شرح سود اور ڈالر کا تعین سٹیٹ بینک کرے گا۔ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم 21 مئی کو آئندہ بجٹ اجلاس سے پہلے لائی جارہی ہے، سکیم کے تحت 4 فیصد ٹیکس ادا کرکے اثاثہ جات ظاہر کیے جا سکیں گے اور بیرون ملک اثاثوں پر 6 فیصد ٹیکس ادا کرکے ظاہر کیے جا سکیں گے، ایمنسٹی سکیم آخری موقع ہوگا، اس کے بعد کریک ڈاو¿ن کریں گے۔

مزید : بزنس