آئل ٹینکرز پر حملے کے بعد سعودی عرب کی تیل نکالنے والی تنصیبات پر ڈرون حملہ

آئل ٹینکرز پر حملے کے بعد سعودی عرب کی تیل نکالنے والی تنصیبات پر ڈرون حملہ
آئل ٹینکرز پر حملے کے بعد سعودی عرب کی تیل نکالنے والی تنصیبات پر ڈرون حملہ

  

ریاض(ڈیلی پاکستان آن لائن )زمین سے تیل نکالنے والی سعودی عرب کی ملکیتی کمپنی ارماکو کی تنصیبات پر ڈرون حملے ہوئے ہیںجس کے بعد بین الااقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

نجی نیوز چینل ہم نیوز کے مطابق سعودی عرب میں انرجی کے وزیر خالد الفالیح نے کہا ہے کہ تنصیبات کی مرمت تک ارماکو کمپنی نے زمین سے تیل نکالنے کا کام بند کردیا ہے تاہم پہلے سے نکالے گئے تیل کی ترسیل جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ ڈرون حملہ دہشت گردی کا واقعہ تھا جس میں دنیا بھر کو تیل فراہم کرنے والی سپلائی لائن کو نشانہ بنایا گیا۔سعودی عرب کی اہم تنصیبات کوحوثی ملیشیا نے سات ڈرونز کے ذریعے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا ۔گزشتہ روز بھی متحدہ عرب امارات کے پانیوں میں سعودی عرب کے دو آئل ٹینکز کو تخریبی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔متحدہ عرب امارت نے اتوار کے روز کہا تھا کہ بحیرہ عرب میں خلیج عمان کے علاقے میں چار بحری جہازوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا ہے جن میں دو سعودی عرب کے تھے۔ایران نے ان حملوں کو ’پریشان کن‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ واقعہ کی باقاعدہ چھان بین کی جائے۔

مزید : بین الاقوامی /عرب دنیا