سفید پوش اور معمر پنشنر کہاں جائیں؟

سفید پوش اور معمر پنشنر کہاں جائیں؟
سفید پوش اور معمر پنشنر کہاں جائیں؟

  

گذشتہ دو روز سے ذہنی یکسوئی سے محرومی کے احساس میں اضافہ ہو گیا، اب پھر سے یہ یقین راسخ ہوتا جا رہا ہے کہ محروم طبقات کی کوئی زندگی نہیں اور اس کورونا رُت نے تو ثابت کر دیا ہے کہ غربت جرم ہے اور اس جرم کی سزا ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنا ہے۔ ان محروم طبقات کی زندگی میں کسی کروٹ چین نہیں۔ لاک ڈاؤن تھا، تو یہ روزی سے محروم ہو کر بھکاری بنتے جا رہے تھے، خصوصی طور پر دیہاڑی دار اور سفید پوش نجی ملازم زیادہ محرومی کا شکار ہو گئے۔دیہاڑی دار تو سڑک پر بیٹھ کر مراعات یافتہ حضرات کی خیرات سے مستفید ہونے کی کوشش کرنے لگے،لیکن سفید پوش ملازم تنخواہ سے محروم ہو جانے پر گھر کی اشیاء بیچنے کی حد تک مجبور ہوا،لیکن یہ بھی نہ بِک پائیں تو دو وقت سے ایک وقت کے کھانے پر آ گیا، یہ لوگ کسی کے سامنے دست ِ سوال بھی دراز نہیں کر سکتے تھے،چنانچہ ادھار کی طرف مائل ہوئے جو مشکل سے ملا، اور اب جب لاک ڈاؤن میں نرمی ہوئی تو یہی دیہاڑی دار اور سفید پوش نشانے پر ہیں کہ یہ طبقات سینی ٹائزر، بار بار ہاتھ دھونے کے لئے صابن اور پانی اور منہ پر چڑھانے کے لئے ماسک بھی نہیں خرید سکتے

اب ان کو کورونا کے سامنے ڈال دیا گیا کہ شکار کر لے، مراعات یافتہ طبقات خصوصاً برسر اقتدار لوگ ماسوا تسلی کے اور کچھ بھی تو نہیں کر سکے، اب لوگ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اربوں روپے کی مالی امداد کا جو ہنگامہ تھا وہ وہ کس کے لئے تھا کہ جس امداد کا اعلان کیا گیا وہ تو ان کو ملی جو پہلے ہی رجسٹرڈ تھے اور ان کو چار ہزار روپے ماہوار مل جاتے تھے جو اب تین ماہ کے یکمشت بارہ ہزار روپے کر کے ادا کئے گئے، کتنے سادہ ہیں لوگ کہ اسے ہی دین سمجھ بیٹھے اور اس پروپیگنڈہ کے سحرمیں گم ہو کر سماجی فاصلے ختم کر کے12ہزار وصول کرنے لگے، جیسے یہ خیرات ہو اور اعلان کرنے والے اپنی جیب سے ادا کر رہے ہوں،جی! ہاں ذرا سوچئے اب تک یہی تاثر ہے؟ لیکن وزیراعظم سے تمام وزراء تک سے یہ تو پوچھ لیجئے کہ انہوں نے اپنی جیب سے کیا دیا، یہ سب تو انہی عوام کے ٹیکسوں سے جمع پونجی ہے،جو ان کو خیرات کے نام پر دی جا رہی ہے اور احسان الگ سے جتایا جا رہا ہے۔

اسی حوالے سے ایک بہت بڑی مثال سامنے ہے اور وہ ہے ان بزرگ افراد کی جن کو معاشرے کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے (تقریروں میں) یہ وہ سینئر شہری ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کے مہ و سال اس ملک کی ترقی کے لئے گذارے یہ ملک کے مختلف اداروں میں (صنعت سے تجارت اور ابلاغ تک) خدمات سرانجام دیتے رہے اور 60 سال کی عمر پا کر ریٹائر ہو گئے،حالانکہ یہ اُس وقت بھی خدمات جاری رکھنے کے اہل تھے، اعتبار نہیں تو سول اور فوجی بیورو کریسی کے اعلیٰ ریٹائرڈ حضرات کو ملاحظہ کر لیں، جن کی اکثریت60تو کیا 65 سال کے بعد بھی اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہے۔ بہرحال بات معمر حضرات کی تھی، ان کی ملازمت کے دوران بعد از ریٹائرمنٹ تحفظ کے لئے سابقہ ادوار میں ”سماجی بہبود“ کا منصوبہ بنا کر قانون بنایا گیا،جس کے مطابق ادارہ رجسٹر کیا جاتا، وہ اپنے ملازمین کی مقررہ تعداد کے مطابق قانون کے مطابق بنائے گئے ادارے جسے ای او آئی بی کہا جاتاہے کوماہانہ حصہ ادا کرتا ہے۔یہ حصہ آجر اور مزدور کا مشترکہ ہوتا ہے۔یوں یہ رقم جو ای او آئی بی کے خزانے میں جمع ہوتی ہے۔

یہ ان کی اپنی ہوتی ہے، رجسٹرڈ ملازم60سال کی عمر کے بعد ریٹائرڈ ہو کر پنشن کا حق دار ہوتا ہے، اب ذرا مراعات یافتہ طبقے کی قانون سازی ملاحظہ ہو کر اس امانت کی تقسیم کے لئے بھی اپنے ہی طبقے کی مزید مراعات کا انتظام کر لیا، ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹیٹیوٹ کے نام سے ادارہ کا بورڈ آف ڈائریکٹر بنا دیا گیا، چیئرمین اور اراکین کو ماہانہ اعزازیہ، کاریں اور دوسری مراعات سے نوازا گیا، جو لاکھوں میں ہیں،اس کے بعد ایک طویل سلسلہ ملازمتوں کا شروع کیا گیا،اضلاع میں کرائے کی عمارتوں میں دفاتر بنائے گئے کہ ریٹائر حضرات کا ریکارڈ رکھا جائے،ان کو رجسٹر کیا جائے اور رجسٹر صنعتی/ کاروباری اداروں سے ماہانہ رقم وصول کر کے انسٹیٹیوٹ کے خزانے میں جمع کرائی جائے۔یہ رقم جلد ہی اربوں میں پہنچ گئی کہ ابتدا میں جہاں پنشنروں کی تعداد کم تھی، وہاں پنشن بھی ایک ہزار روپے ماہوار سے شروع کی گئی تھی، جو پہلے دو ہزار پھر دو تین بار اضافے کے بعد ساڑھے چھ ہزار تک پہنچی، پنشنرز کی عمر بھی بڑھتی رہی اب تو ان کو سال میں دو بار بائیو میٹرک تصدیق کرا کے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ ان میں سے اکثریت بیمار ہے اور یہ پنشن ادویات کے لئے بھی کم ہے، جبکہ ان کے اپنے فنڈز میں اربوں کی خورد برد بھی ہوئی،معاملہ نیب کے پاس، ملزم ضمانت پر سرکاری تحفظ میں ہیں۔

اب ان کی نئی پریشانی اور بدقسمتی کا اندازہ لگائیں کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے کمال مہربانی سے پہ پنشن 15ہزار روپے تک لے جانے کا اعلان کیا اور ابتدا میں دو ہزار روپے ماہانہ اضافے کا اعلان کر دیا، اس پر عمل درآمد میں تاخیر ہوئی تو احتجاج ہوا، اور بڑی مشکل سے اعلان ہوا کہ یکم جنوری2020ء سے اضافہ ہو جائے گا، لیکن یہ نہ ہو سکا کہ اس کے لئے کابینہ کی منظوری ضروری تھی،بورڈ آف ڈائریکٹر نے سمری بنا کر بھجوا دی،لیکن اس کی باری ہی نہ آئی اور اجلاس دوسرے امور پر غور کر کے ملتوی ہوا، یہ سلسلہ اسی طرح رہا اور احتجاج ہوا تو بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ماہ اپریل میں اس توقع کے ساتھ کہ کابینہ منظوری دے ہی دے گی کہ ایجنڈ پر ہے اور معاون خصوصی کا اعلان بھی ہے۔یہ اضافہ معہ جنوری فروری کے واجبات پنشنروں کو ادا کر دیا، لیکن کابینہ کے لئے تو ”احساس پروگرام“ زیادہ اہم ہے جو قومی خزانے سے جاتا ہے اور یہ اضافہ تو خود آجر اور اجیر کی اپنی رقم سے ہونا تھا کابینہ اس پر غور کیوں کرے۔یوں بھی یہ بوڑھے شاید دھرتی کا بوجھ ہیں، ممکن ہے بھوک اور بیماری ہی سے یہ وزن ہلکا کر دیں۔ یہ سمری ایجنڈے پر ہونے کے باوجود منظوری تک نہ پہنچ سکی تو بورڈ والوں کے ہاتھ پیر بھول گئے اور انہوں نے پنشن ہی روک لی،

پھر سوشل میڈیا پر احتجاج ہوا تو بڑی”دیا“ کی اور 10مئی کو اپریل کی پنشن جاری کر دی، پنشنروں نے سُکھ کا سانس لیا کہ اس میں اگر اضافہ (دو ہزار روپے) شامل نہیں تو جنوری سے اپریل تک کے تین مہینوں کا دیا گیا اضافہ بھی کٹوتی کی زد میں نہیں آیا، اور ان کو ساڑھے چھ ہزار مل گئے،اب تو ان ”بڈھوں“ نے یہ مطالبہ کر دیا ہے کہ یہ ادارہ جو سفید ہاتھی بن کر انہی کی رقم کھا رہا ہے، ختم کر دیا جائے اور قانون میں ترمیم کے بعد اسے ڈاکٹر امجد ثاقب کی اخوت کا حصہ بنا دیں کہ رضا کارانہ انتظام چلے، فنڈز میں اضافہ ہو اور پنشنروں کی پنشن بھی بڑھ جائے۔ شاید کہ اُتر جائے آپ کے دِل میں یہ بات!

یہ وضاحت لازم آ گئی کہ گزشتہ کالم میں پیر غائب علی شاہ کا ذکر کرتے ہوئے ضیا الاسلام انصاری کے حوالے سے لکھ دیا کہ وہ بھٹو کے دور میں این پی ٹی کے چیرمین بنے محترم مجیب الرحمان شامی نے توجہ دلائی کہ وہ جنرل ضیا کے دور میں بنے تھے اس سہو پر معذرت ہی کر سکتا ہوں

مزید :

رائے -کالم -