کورونا اور گاؤں کا چودھری

کورونا اور گاؤں کا چودھری

  

گزشتہ 4 ماہ سے عالمی منظر نامہ پر ”کورونا وائرس“ چھایا ہوا ہے ایک پر اسرار بیماری، جس کے پھیلاؤ اور انسداد کے بارے میں دنیا بھر کے ماہرین طب کوئی بھی حتمی رائے نہیں رکھتے چلیں پہلے اس کے پھیلاؤ کے طریقہ کار کا جائزہ لیتے ہیں جو مختلف میڈیا اسٹریم سے معلومات حاصل کئے گئے ہیں، وہ یہ ہیں کہ:

-1 یہ وائرس (جس کی تشکیل انسانی ہے یا غیر انسانی) ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کے کئی راستے اختیار کر سکتا ہے۔ مثلاً کسی متاثرہ شخص سے ہاتھ ملانے سے، اس کے کھانسنے یا چھینکنے سے، متاثرہ شخص کا کسی جگہ، یا کسی چیز کو چھو لینے سے، یہ وائرس اس ایریا، جگہ یا شے پر کئی گھنٹے، بلکہ کئی دنوں تک موجود رہتا ہے۔ (بعد ازاں مختلف اشیاء پر اس کی معیاد بھی مختلف بتائی گئی) جونہی کوئی غیر متاثرہ شخص اس جگہ یا شے کو چھوتا ہے تو وائرس اس میں متنقل ہو جاتا ہے اور جب وہ شخص اپنے اہل خانہ یا دیگر احباب سے ملتا ہے تو گویا وائرس منتقلی کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے شروع شروع میں یہ بتایا جاتا رہا کہ یہ وائرس چونکہ وزن میں قدرے بھاری ہوتا ہے تو متاثرہ انسان کے کھانسنے یا چھینکنے سے سیدھا زمین پر آ گرتا ہے، جسے بعد ازاں ترمیم کر کے یہ بتلایا گیا کہ یہ وائرس 4 یا 6 گھنٹے تک ہوا میں معلق رہ سکتا ہے پہلے کہا گیا کہ غیر متاثرہ شخص کے لئے کسی ماسک وغیرہ کی ضرورت نہیں جسے بوجہ ضروری قرار دے دیا گیا۔

مزید برآں متاثرہ شخص کے ہاتھوں سے گزر کر آنے والا کرنسی نوٹ بھی آفت زدہ قرار پایا، جو کسی غیر متاثرہ انسان کے ہاتھ میں آ کر اسے بھی پازیٹو کر سکتا تھا۔

-2 وائرس کا طریقہئ واردات یہ ایک گھمبیر مسئلہ ہے۔ یہ وائرس جب کسی سے Interact ہوتا ہے (چاہے منہ سے، آنکھوں سے یا ناک سے) تو اپنے ”شکار“ کے گلے میں 3 سے 4 دن تک پڑاؤ کرتا ہے اور چپکے چپکے اپنے لئے زمین ہموار کرتا رہتا ہے پھر کسی ان دیکھے طریقے سے انسانی جسم میں Infect ہو کر اپنی ہزاروں، لاکھوں کاپیاں تیار کر کے متاثرہ انسان کے خلیوں پر اپنا قبضہ جما لیتا ہے اور اگر اس متاثرہ شخص کا اپنا دفاعی نظام کمزور ہے تو یہ وائرس اس کے اعضائے رئیسہ جیسے پھیپھڑے، دل، جگر وغیرہ کا نظام تباہ کر ڈالتا ہے۔ شروع میں یہ مدت تقریباً 15 دن بتائی گئی جو بعد ازاں ایک ماہ یا اس سے بھی زیادہ طوالت اختیار کرتی بتائی گئی۔

-3 ٹیسٹنگ کا طریقہ کار: یہ سب سے اہم ہے لاکھوں، کروڑوں انسانوں میں سے یہ طے کرنا کہ کون شخص Positiv ہے اور کون Negative انتہائی جان جوکھوں کا کام ہے۔ دیگر ممالک سے صرف نظر کرتے ہوئے اپنے وطن عزیز پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ یہاں سرے سے کوئی ایسا سسٹم ہی موجود نہیں جو لیبارٹریاں اس کام پر مامور ہیں، ان کی ”کارکردگی“ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور جو آلات باہر سے در آمد کئے گئے،

ان کے استعمال کی یہاں کسی کے پاس کوئی ٹریننگ نہیں کیونکہ یہ ایک نا گہانی آفت کا نزول تھا اپنے ذاتی دوستوں کا ذکر کریں تو چالیس، پچاس ایسے ہیں جن کے گھر میں کسی کو معمولی بخار کی وجہ سے پورے خاندان کو Positive قرار دے کر قرنطینہ کر دیا گیا اور محض دس روز کے بعد دوبارہ ٹیسٹ کر کے Negtive قرار دے کر واپس گھروں میں لوٹا دیا گیا۔ دیگر ممالک میں ایک امریکی دوست نے بتایا کہ کچھ ایسا ہی معاملہ وہاں چل رہا ہے کسی ڈاکٹر کو یہ بتانے کی اجازت نہیں کہ کون شخص متاثر ہے اور کون غیر متاثر کیونکہ ان کے فیڈرل لاء میں اس بات کی ممانعت ہے۔

-4 بظاہر ڈیٹا کے ممالک میں سب سے زیادہ اثرات یورپی ممالک بھگت رہے ہیں۔ لیکن حیران کن اعداد و شمار کے ساتھ محض برطانیہ اور جرمنی کے صحت عامہ کے اداروں کے اعداد و شمار (جو کہ ریکارڈ پر ہیں) ہمیں بتاتے ہیں کہ برطانیہ میں پچھلے برس یعنی 2019ء میں تقریباً 600000(6 لاکھ) طبی اموات ہوئیں، جو کہ اوسطاً 4 ماہ میں تقریباً 2 لاکھ کے قریب ہیں جبکہ وائرس کی وجہ سے گزشتہ 4 ماہ میں اموات ہزاروں نفوس تک محدود رہیں جرمنی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 2017ء میں ساڑھے گیارہ لاکھ کے قریب انسان طبی وجوہات پر زندگی ہار گئے، جبکہ اس ”مہربان“ وائرس کی بدولت 2020ء کے ابتدائی چار ماہ میں تقریباً 7000 انسان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس منظر نامہ میں یہ اندازہ قائم کرنا چنداں مشکل نہیں کہ ان ممالک کے باسی آیا اس وائرس کا زیادہ نشانہ بنے یا اپنے معاشرتی حالات کے پس منظر میں بہت کم اس وائرس کا شکار ہوئے۔ سپر پاور امریکہ کے حالات (جو ہمیں میڈیا دکھا رہا ہے) ابھی دگرگوں ہیں اور ایک شور و غوغا سا سنائی دے رہا ہے۔

-5 یہ رپورٹس اور اعداد و شمار ایک طرف رکھ دیں اور ماہرین طب کی مزید وضاحتیں سنتے جائیں، جہاں وہ فرما رہے ہیں کہ یہ وائرس اگر اگلے دو چار ماہ تک اختتام پذیر ہو بھی جائے تو آئندہ دسمبر جنوری میں پھر نمودار ہو سکتا ہے یعنی خوف کی فضا میں اگر نرمی آتی بھی ہے تو بے بسی کا دورانیہ طویل تر ہو سکتا ہے۔ اس وائرس سے بچاؤ کے لئے اگر کوئی ویکسین تیار بھی ہو جائے تو کم از کم اٹھارہ ماہ کا وقت لے گی۔ با الفاظ دیگر یہ نہ سمجھا جائے کہ اگر یہ وائرس فی الوقت کمزوری دکھائے گا تو پھر واپس نہیں آئے گا۔

-6 اس موذی وائرس کے بارے میں جو چیدہ چیدہ نکات پیش کئے گئے ہیں، ان کا موازنہ (بتائی گئی وائرس پھیلاؤ والی معلومات) اپنے وطنِ عزیز سے کریں تو ایک عجیب سا احساس تفاخر ہوتا ہے۔ یہاں لاک ڈاؤن کے باوجود عوام کے جم غفیر سڑکوں پر موجود ہیں۔ راشن تقسیم یا امدادی رقوم کے حصول کے لئے باہم دست و گریباں، خورو نوش کی دکانوں پر عوام کی یلغار اور سبزی و فروٹ منڈیوں میں انسانوں کے امڈتے سیلاب کو دیکھیں تو بغیر کسی تردد آدمی کہہ سکتا ہے کہ یہاں تو متاثرہ کیسز لاکھوں سے تجاوز کر جائیں گے، مگر الحمد اللہ! فی الحال تو اپنے عوام کی Immunty کو ہی سلام پیش کریں گے، جو ایسے موذی وائرس کو قریب پھٹکنے نہیں دے رہی۔ نا صرف پاکستان بلکہ عرب ممالک، افریقی ممالک بھی اس موذی کی دست برد سے قدرے محفوظ ہیں۔

-7 Covid-19 کے بارے میں یہ تمام تفصیلات، کیا ظاہر کرتی ہیں؟ کیا یہ وائرس صرف چین، امریکہ، یورپ جیسے ممالک میں فتنہ بن کر نمودار ہوا ہے یا پس پردہ مقاصد کچھ اور ہیں! کیا یہ ممکن ہے کہ اس وائرس کا حلقہ اثر کسی انسانی مرضی کے تابع ہو؟ وہ کون ہو سکتا ہے جو زمانے بھر کی عبادت گاہوں، بڑے بڑے شاپنگ مالز، بڑے بڑے ہوائی مستقر اور انسانی اخلاقیات کو ویرانیوں میں دھکیلنا چاہتا ہے؟کوئی وائرس تو واقعی موجود ہے مگر نہایت ”کنٹرولڈ“ اور ”روبوٹک“ جو دولتمند ہیں، وہ نہایت ذہنی ڈپریشن میں ہیں جو بھوکے ہیں وہ پیٹ بھرنے کی فکر میں ہیں۔ دنیا بھر کے انسان آن لائن ہو چکے، اپنے پیاروں کی تصویریں دیکھ کر آوازیں سن کر پرنم آنکھوں سے خوش ہو رہے ہیں۔ کیا زندگی کی بہاریں اب خلاؤں میں رقص کرتی ہوئی، انسانوں کے موبائل سکرین یا کمپیوٹر سکرین تک محدود ہو جائیں گی؟ ان سوالات کے جواب کا حصول ہمیں ”روحانی بابا“ کے پاس لے گیا۔ وہ کہنے لگے ”جب سرکش اور فتنہ گر انسانوں کا گروہ ٹیکنالوجی کے اوجِ ثریا پر پہنچ جائے تو اس طرح کے واقعات رونما ہوا کرتے ہیں۔ اس گلوبل گاؤں کے دو بڑے ”چودھریوں کو آپس میں اُلجھا کر تمام گاؤں کے انسانوں کو ایک اَن دیکھے فتنے میں ڈال کر، کوئی مخمصہ برپا کر کے، وہ گروہ جن مقاصد کے حصول کے لئے کوشاں ہے، وہ تو خدائے برتر ہی جانتا ہے کہ وہ کیسے با مراد ہو سکتے ہیں، مگر ایک بات طے ہے کہ اپنی جانب سے اُنھوں نے اتمام صحبت کا پورا انتظام کیا ہے۔

جس شخص کو وہ گروہ اب دوبارہ ”بڑا چودھری“ بنانا چاہتا ہے، یہ سارا تماشا اُنہی کا تیار کردہ سکرپٹ ہے۔ Covid-19 کہاں سے آیا، کہاں کہاں گیا، کن لوگوں کو تہہ تیغ کروانا مقصود تھا، وہ ایک علیحدہ داستان ہے، فی الحال وہ گروہ اپنے زیر نگیں انسانوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوتا نظر آ رہا ہے کہ اس وائرس کی ویکسین ہی بچاؤ کا واحد حل ہے اور بہت جلد ویکسین بھی منظر عام پر آ جائے گی جس کے حصول کی خاطر انسان بیتاب ہوں گے۔ نومبر میں ”بڑے چودھری“ کا انتخاب ہونا ہے، اسی لئے اس وائرس کے دوبارہ حملہ کی پیشن گوئی پھیلائی جا رہی ہے، تاکہ ممکنہ طور پر کوئی ووٹر اس ویکسین سے بچ نہ پائے اور ویکسین کیا ہو گی؟ عالمی میڈیا یمں بھی اس پر چہ میگوئیاں جاری ہیں ”ویکسین زدہ“ انسان کیا اس گروہ کے اشاروں کا غلام ہو جائے گا۔

یہ نا ممکنات میں سے نہیں۔ مگر یاد کرو اس وقت کو، جب اسی سرکش گروہ کے اجداد کو ایک مخصوص دن کے لئے مچھلیاں پکڑنے سے منع کیا گیا تو انہوں نے کیا طریقہ اختیار کیا؟ وہ مخصوص دن سے پہلے پانی میں جال پھینک آتے تھے اور وہ دن چھوڑ کر اگلے روز جال نکال لیتے یعنی رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی اب وہی سرکش و نافرمان گروہ کی نسلیں Covid-19 کا جال پھینک کر انسانوں کو نئی ویکسین سے آراستہ کر کے جال کی طرف کھینچنا چاہ رہے ہیں تاکہ اپنے پرورہئ ”چودھری“ کے سر پر پھر سے گلوبل گاؤں کا سہرا سجایا جا سکے، مگر اب کے شاید ”پرانا چودھری“ دھوکا کھاتے کھاتے، اپنے ہی بازوؤں کو توڑتے توڑتے، اپنے قدموں پر خود ہی گر پڑے کیونکہ اس گروہ نے جتنا کام ”پرانے چودھری“ سے لینا تھا لے چکے اور ویکسین زدہ انسانوں کے ووٹ کسی اور ”چودھری“ کے ڈبے سے نکلوا لینا ان کے لئے کون سا مشکل کام ہوگا۔ ابھی اتنا کافی سمجھ کہ اگر ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں تو ابھی ترے بھگتنے کو شیطان اور بھی ہیں

مزید :

رائے -کالم -