آؤ وارننگ وارننگ کھیلتے ہیں

آؤ وارننگ وارننگ کھیلتے ہیں
آؤ وارننگ وارننگ کھیلتے ہیں

  

عوام نے دو دن ہی میں اربابِ اختیار کی چیخیں نکلوا دی ہیں، وارننگ پر وارننگ جاری ہو رہی ہے کہ باز آ جاؤ وگرنہ لاک ڈاؤن پھر لگانا پڑے گا۔ جن تاجر رہنماؤں کے کہنے پر حکومتوں نے لاک ڈاؤن میں نرمی کی وہ اب کہیں نظر نہیں آ رہے بجائے اس پر شرمندہ ہونے کے وہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن میں نرمی چار کی بجائے سات دنوں تک بڑھائی جائے۔ اب سب کو علمائے کرام اچھے لگ رہے ہیں کہ جنہوں نے صدر مملکت سے چوبیس نکاتی معاہدہ کیا، اس پر عملدرآمد بھی کر کے دکھایا حالانکہ وہ دکانداروں سے زیادہ حسا س طبقہ ہے، یہاں تو اندھیر نگری چوپٹ راج کی صورتِ حال پیدا ہو چکی ہے۔ احتیاطی تدابیر پر تین حرف بھیج کر تاجروں نے ثابت کر دیا ہے کہ انہیں صرف عید پر کمائی کرنے کی فکر ہے، کورونا کتنا پھیلتا ہے عید تک کتنی اموات ہوتی ہیں، کتنے ہزار لوگ مزید ہسپتالوں میں داخل ہوتے ہیں، اس سے انہیں قطعاً کوئی غرض نہیں رہے عوام تو انہیں عوام کون کہے اگر وہ کسی کی بات مانیں عورتیں بچوں سمیت ایسے سڑکوں اور بازاروں میں اُمڈ آئے ہیں جیسے انہیں زندگی میں آخری بار عید کی خریداری کا موقع ملا ہو، ان کے ساتھ مردوں کی تعداد بھی کم نہیں، جی ہاں عقل حیران ہے کہ انہی لوگوں کے بارے میں کیا کہا جا رہا تھا کہ ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں رہا، لاک ڈاؤن نے انہیں دو وقت کی روٹی کا محتاج کر دیا ہے، ارے یہ تو سب بھری جیبوں والے ہیں، جو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ خریداری کر کے اپنی عید سنوارنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان بھی اب سوچتے ہوں گے کہ جن لوگوں کو وہ غریب سمجھ رہے تھے، وہ آج بھی خوشحال ہیں اور لاک ڈاؤن نے ان کا بال بھی بیکا نہیں کیا۔

اب اس پر آدمی کا دماغ نہ پھٹے تو اور کیا ہو کہ ایک طرف کورونا روکنے کی ذمہ دار کمیٹی کے سربراہ اسد عمر یہ کہہ رہے ہیں کہ جون جولائی میں کورونا کی شدت بڑھ سکتی ہے اور دوسری طرف حکومتوں نے پوری قوم کو یہ کھلی چھٹی دیدی ہے کہ وہ بارہ گھنٹے کے لئے جس طرح چاہے دندناتی پھرے۔ لڈیاں ڈالے یا بھنگڑے کورونا اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ روزانہ چالیس چالیس اموات ہونے لگی ہیں، ڈیڑھ دو ہزار کیس سامنے آ رہے ہیں اور ہم نے صرف احتیاطی تدایر اختیار کریں کا سافٹ امیج دے کر یہ سمجھ لیا ہے کہ سب کچھ اس کے مطابق ہو جائے گا جو تصویریں سامنے آ رہی ہیں، بازاروں میں رش کی جو ویڈیوز اپلوڈ کی جا رہی ہیں، انہیں دیکھ کر تو لگتا ہی نہیں کہ دنیا میں کوئی وبا آئی ہوئی ہے۔ ایسی وبا جس سے تین لاکھ سے زائد اموات ہو چکی ہیں، یہ تو میلے ٹھیلے کے سماں والی صورتِ حال ہے دنیا بھر میں اس بنیادی حقیقت کو تسلیم کیا گیا کہ صرف سماجی فاصلہ ہی اس وائرس سے بچاؤ کا طریقہ ہے مگر یہاں حکومتیں دباؤ میں آ کے ایسے فیصلے کر چکی ہیں کہ جن کا خمیازہ نجانے ہمیں کس تباہی کی شکل میں برداشت کرنا پڑے۔

تاجروں کو کوسنے دینے کی بجائے حکومتوں کو یہ ذمہ داری خود اٹھانی چاہئے کہ انہوں نے مشکل وقت میں بڑے فیصلے کئے۔ سندھ اور پنجاب نے تو یہ وارننگ جاری کر دی ہے کہ صورتِ حال یہی رہی تو لاک ڈاؤن دوبارہ کرنا پڑے گا۔ سوال یہ ہے وہ کس سے کہہ رہے ہیں، تاجر تنظیموں کے رہنماؤں کو تو سیاست کرنی ہے، وہ اپنے تاجر ووٹروں کو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ایس او پیز پر عمل کرو، کون سا تاجر رہنما اتنی جرأت رکھتا ہے کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کی دکانیں سیل کر سکے۔ ان رہنماؤں نے تو بس دباؤ ڈال کر دکانیں اور بازار کھلوانے تھے، وہ کھلوا لئے باقی رہی بات احتیاطی تدابیر کی تو یہ ان کی سر دردی نہیں، وہ تو اتنا بھی نہیں کرا سکے کہ اپنے تاجروں کو ہی اس بات کا پابند بنا سکیں کہ وہ چہرے پر ماسک پہنیں۔

اُدھر اپوزیشن یہ زور دے رہی ہے کہ عید کے بعد چار ہفتوں کے لئے سخت لاک ڈاؤن کیا جائے۔ یہ عجیب منطق ہے، کیا اس وقت کورونا گہری نیند کے مزلے لے رہا ہے اور عید کے بعد جاگے گا، اس لئے لاک ڈاؤن ضروری ہوگا وبا تو بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ان دس بارہ دنوں میں اگر بے احتیاطی کا یہی عالم رہا تو شاید ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے جگہ ہی نہ رہے چلیں مان لیتے ہیں کہ عید کا سیزن لگوانے کے لئے بازاروں اور دکانوں کو کھولنا ضروری ہے اور سیاسی مجبوری بھی، تو کم از کم احتیاطی تدابیر کو تو یقینی بنایا جائے، ابھی تک لاک ڈاؤن نرم کرنے کے بعد حکومت یا انتظامیہ نے ایس او پیز پر عمل کرانے کے لئے کیا ایکشن لیا ہے۔ کتنے تاجروں کی دکانیں سیل کی ہیں اور کتنے بازاروں کو بند کیا ہے زمینی حقائق یہ ہیں کہ انتظامیہ اور پولیس صرف پانچ بجے کے بعد سڑکوں پر نکلتی ہے تاکہ دکانیں بند کرانے کی نگرانی کر سکے، وگرنہ سارا دن ایس او پیز کی جو دھجیاں اڑائی جاتی ہیں، اس کی انہیں کوئی پروا نہیں ظاہر ہے یہ حکم بھی سرکار نے ہی جاری کیا ہوگا کہ چلتی دکانوں کو بند نہ کراؤ، جیسے بھی احتیاط کے بغیر کھلی ہیں، کھلی رہنے دو، اتنا تو ہو سکتا تھا کہ تاجر رہنماؤں کو ہر ضلع کے افسران اپنے پاس بلاتے اور انہیں باور کراتے کہ طے شدہ احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں ہو رہا، جس پر انتظامیہ کارروائی کرنے پر مجبور ہو گی۔ دفتروں میں بیٹھ کر ایس او پیز بنانے والے ذرا میدان میں نکلیں تو انہیں اندازہ ہو کہ کس طرح کورونا جیسی وباء کو پاکستانیوں نے مذاق سمجھ کر ہوا میں اڑا دیا ہے کسی نے کیا تشویشناک بات کی ہے کہ عید پر خریداری کے لئے مرے جانے والے نجانے عید اپنے بچوں کے ساتھ عید منا بھی پائیں گے یا نہیں۔

اس بات کا تو بہت پہلے سے خدشہ تھا کہ جب لاک ڈاؤن کے بعد سب کچھ کھلے گا تو ایک ہڑبونگ ضرور مچے گی، خاص طور پر جب وقت کی پابندی بھی لگا دی جائے تو تھوڑے وقت میں شاپنگ کے لئے زیادہ افراد کا نکلنا ایک منطقی بات ہے۔ ایک ہی وقت میں جب لاکھوں لوگ بازاروں میں آئیں گے تو احتیاطی تدابیر کہاں باقی رہ جائیں گی۔ چار دن بازار کھول کر اور تین دن بند رکھ کر کورونا سے بچنے کی جو تدبیر ارباب اختیار نے نکالی وہ تو الٹا گلے پڑتی نظر آ رہی ہے۔ ہمارے بھولے بادشاہ عوام میں اتنا شعور ہوتا کہ وہ اپنے برے بھلے کی تمیز کر سکتے تو کیا وہ ستر برسوں سے ایک ہی طرح کے لٹیروں کو اپنے نمائندے منتخب کرتے۔ حکومت نے معاملہ ان پر چھوڑ دیا کہ وہ کورونا سے بچاؤ کے لئے حکومتی ہدایات پر عمل کریں گے حالانکہ انہیں تو صرف اتنا پتہ ہے کہ اگر عید کی خریداری نہ کی تو ایک بڑی سعادت سے محروم ہو جائیں گے۔ کورونا چونکہ کوئی ایسی کیڑی تو ہے نہیں کہ جو کاٹے تو فوراً پتہ چل جاتا ہے، اس نے تو آہستہ آہستہ اندر سے وار کرنا ہوتا ہے، اس لئے ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسے کچھ نہیں ہوا، اس نے بھیڑ اور دکانوں میں جگہ نہ ہونے کے باوجود کوشش کر کے شاپنگ تو کرلی، یہ کامیابی ہی اسے سرشار رکھتی ہے، تا وقتکیہ علامات ظاہر نہ ہونا شروع ہو جائیں روس جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ کورونا نے اس کا کچھ نہیں بگاڑا، آج سب سے آگے جا رہا ہے، ہم بھی جس بے احتیاطی کو اپنا چکے ہیں، اللہ نہ کرے ہم روس سے بھی آگے نکل جائیں۔ کاش عوام عقل سے کام لیں اور کاش حکمران صرف وارننگ جاری کرنے کی بجائے ایس او پیز پر عمل کو یقینی بنانے کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں کہیں یہ عید قوم کے لئے وبال جان نہ بن جائے۔

مزید :

رائے -کالم -