ڈیموں کی تعمیر اور میڈیا کا رول

ڈیموں کی تعمیر اور میڈیا کا رول
ڈیموں کی تعمیر اور میڈیا کا رول

  

حال ہی میں لیفٹیننٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ کو وزیراعظم کا معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات مقرر کیا گیا تو پورا ایک ہفتہ میڈیا پر باجماعت ہاہاکار مچی رہی کہ اگر شبلی فراز کو وزیر اطلاعات و نشریات مقرر کیا گیا ہے تو جنرل عاصم باجوہ کو یہی منصب سونپ دینا چہ معنی دارد تھا؟…… میں نے اس وقت بھی اپنے کالم میں لکھا تھا کہ پاکستان کو بعض ایسے پراجیکٹس کو پایہ ء تکمیل تک پہنچانے کی رفتار تیز تر کرنے کی ضرورت ہے جو ملک و قوم کی ترقی و تعمیر کے لئے اساسی ستونوں (Pillars)کا درجہ رکھتے ہیں۔جنرل عاصم باجوہ کو CPEC اتھارٹی کا چیئرمین بنایا گیا تھا تو اس کا سبب یہ تھا کہ انتظام و انصرام کا جو تجربہ فوج کے سینئر افسروں کو حاصل ہے وہ سویلین آفیسرز / بیورو کریسی کو حاصل نہیں۔ بیشتر قارئین کو فوج کی اندرونی ورکنگ کا پتہ نہیں۔ فوج کی کسی بھی چھوٹی بڑی تنظیم میں اس کے ہیڈکوارٹرز میں جو مناصب (Appointments) موجود ہوتے ہیں ان میں آپریشن، ٹریننگ اور راشن کے شعبے پیش پیش ہوتے ہیں۔ راشن پانی کے شعبے کو فوج میں کوارٹر ماسٹر کیو (Q) کا شعبہ کہا جاتا ہے اور یہ ایک اہم شعبہ شمار ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ آر ڈی ننس (Ordinance) کا ایک اور شعبہ بھی ہوتا ہے جو فوج کے لئے گولہ بارود اور وردی وغیرہ کی فراہمی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

فوج میں کسی بھی درجے کے کمانڈر / کمانڈنگ آفیسر کو آپریشن، ٹریننگ، کیو (Q) معاملات (Matters) اور آرڈننس کے امور کی تدریس کی جاتی ہے۔ ایک انفنٹری بٹالین میں جو تین شعبے اس کی ریڑھ کی ہڈی شمار ہوتے ہیں وہ آپریشنل معاملات، ٹریننگ معاملات اور فراہمی ء راشن وغیرہ کے معاملات ہوتے ہیں۔ بٹالین فوج کی ایک ابتدائی اور اساسی تنظیم ہے اور یہ گویا آرمی تنظیم کی خشتِ اول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فوج کے افسروں کو ان تمام شعبوں کی جانکاری (ٹریننگ وغیرہ) دینے کے لئے ان کو باری باری ان تینوں چاروں شعبوں میں گھمایا جاتا ہے۔ یعنی دو سال کمانڈ پر، دو سال سٹاف پر، دو سال انسٹرکشن (ٹریننگ) پر اور دو سال کوارٹر ماسٹری (راشن وغیرہ)کے شعبے میں …… میں قارئین کو سمجھانے کی خاطر ان مناصب وغیرہ کی چیدہ چیدہ باتوں اور ان کے عہدوں کے دورانیے کی بات کر رہا ہوں۔

کہنا یہ چاہتا ہوں کہ جب عاصم باجوہ کو جرنیلی کا عہدہ دیا گیا تھا تو ان کو بطور لفٹین، کپتان، کرنیل اور بریگیڈیئر کے عہدوں سے گزارا گیا تھا اور ان عہدوں پر تعیناتی کے دوران ان کو کمانڈ، سٹاف، ٹریننگ، آرڈننس اور راشن پانی کے مناصب پر بھی باری باری فائز رکھا گیا تھا۔ جب وہ کورکمانڈر تعینات کئے گئے تھے تو ان کو برسہا برس کا آپریشنل، تدریسی، سٹاف (ڈیسک ورک) اور کیو (Q) معاملات سے ہر سطح کی آگہی کا تجربہ حاصل تھا۔ یعنی بٹالین سے بریگیڈ سے ڈویژن سے کور تک جاتے جاتے وہ ان تمام مراحل سے گزارے گئے تھے۔ اور ان ہی پر کیا منحصر فوج کے تمام افسروں کو ان مدارج و مقامات و مناصب و فرائض سے گزارا جاتا ہے۔ چنانچہ جب ان کو CPEC اتھارٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا تو ان کو اپنی فوجی سروس کی ابتدا سے لے کر ریٹائرمنٹ تک کے مختلف مراحل کا تجربہ حاصل تھا۔

یہ تجربہ بیورو کریٹس کو کم کم حاصل ہوتا ہے۔ شروع ہی سے ان کے شعبے الگ کر دیئے جاتے ہیں۔ انتظامی گروپ، پولیس گروپ، فارن سروس گروپ، حسابات گروپ، پوسٹل گروپ وغیرہ وغیرہ …… یہ بیورو کریٹ اپنے گروپ میں مختلف سطح کا تجربہ حاصل کرتے رہتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ان کے تجربات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے یعنی ایک فیلڈ اور دوسرا سٹاف…… انتظامی گروپ میں اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کا کام فیلڈ اور سٹاف کا کام ہوتا ہے۔ ان کو عوامی مسائل سے سابقہ رہتا ہے جس میں وہ تمام مسائل کسی نہ کسی سطح کے ہوتے ہیں جو ان عہدوں پر فائز بیورو کریٹس کو ادا کرنے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ عوامی مسائل نہ تو اس طرح کے منضبط موضوعات ہوتے ہیں جس طرح کے فوج میں ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کو حل کرنے کے لئے وہ مشینری اور وہ وسائل فراہم ہوتے ہیں جو فوجی کمانڈروں کو ہوتے ہیں۔چنانچہ اگر کسی ڈپٹی کمشنر یا کمشنر کو اپنے ضلع یا ڈویژن میں ایسے مسائل سے سابقہ پڑتا ہے جو فوری حل کے طلبگار ہوتے ہیں تو یہ ”فوری حل“ کم ہی دستیاب ہوتا ہے۔ان کا اپنا دفتر بھی اس طرح کی تقسیم کار کا حامل نہیں ہوتا جس طرح فوج کے کسی بریگیڈ کمانڈر یا ڈویژن کمانڈر کا ہوتا ہے…… نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ CSS کرنے والا انتظامی گروپ کا افسر جب سیکرٹری یا چیف سیکرٹری بنتا ہے تو اس کے فیلڈ اور دفتری تجربات کی گوناگوئی ا ور ہمہ جہتی اس طرح کی نہیں ہوتی جو ایک ڈویژنل یا کور کمانڈر کی ہوتی ہے……

ہم جنرل عاصم باجوہ کی بات کر رہے تھے!

میں یہ عرض کر رہا تھا کہ جنرل کے معاون خصوصی مقرر کئے جانے کے بعد دو میگا پراجیکٹس قوم کے سامنے آئے…… ایک گوادر انٹرنیشنل ائرپورٹ کی تعمیر اور دوسرے بھاشا ڈیم کی تعمیر…… اس ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں ہمیں معلوم ہے کہ ماضی میں ان ڈیموں کے ساتھ کیا گزرتی رہی۔ کالا باغ ڈیم کو جس طرح متنازعہ بنایا گیا اور جس طرح قوم کو IPPs کا تحفہ دے کر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا گیا، وہ کس کو معلوم نہیں؟…… اگلے روز وزیراعظم کو جب اس ڈیم پر بریفنگ دی گئی تو جو وزراء اور ”امراء“ اس اجلاس میں شامل تھے ان میں فیصل واوڈا (آبی وسائل)، اسد عمر(پلاننگ)، شبلی فراز (اطلاعات و نشریات)، علی امین گنڈا پور (کشمیر و گلگت بلتستان) کے علاوہ جو دو فوجی آفسیر شامل تھے ان میں ایک جنرل عاصم باجوہ تھے اور دوسرے جنرل مزمل حسین تھے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ دیامر بھاشا ڈیم ماضی میں کون کون سی رکاوٹوں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا۔ یہ تمام بریفنگ سننے کے بعد وزیراعظم نے ہدائت دی (حکم اور ہدائت میں جو فرق ہے، اس کو ضرور مدنظر رکھیں) تعمیر کا کام فوری طور پر شروع کیا جائے۔ اس تعمیر کے ساتھ ہی 16500نئی آسامیاں پیدا ہوں گی اور سیمنٹ اور سٹیل کی لوکل پروڈکشن کو بے پناہ بڑھاوا ملے گا،4500 میگاواٹ سستی بجلی (ہائیڈل پاور) پیدا ہوگی اور 12لاکھ ایکڑ زرعی زمین سیراب ہوگی۔ (ایک مربع زمین میں 25ایکڑ ہوتے ہیں۔ اس حساب سے 48000مربع زرعی زمین سیراب ہوگی اور پاکستان کی زرعی پیداوار میں جو اضافہ ہوگا اس کے فائدے کا تصور کر لیجئے)……

اب آتے ہیں اپنے میڈیا کی طرف…… اول روز سے ہمارا میڈیا قومی میڈیا نہیں، سیاسی میڈیا بنا ہوا ہے۔ ہر روز پرائم ٹائم میں سرفہرست موضوع سیاسی ہوتا ہے۔ دو روز پہلے کا قومی اسمبلی کا اجلاس یا سینیٹ کا اجلاس تو آپ نے دیکھ لیا۔ اس میں کورونا کے موضوع پر جو ”سیر حاصل اور تفصیلی“ بحث و مباحثہ ہوا وہ بھی آپ نے سَن لیا۔ قومی سطح پر اس وبا سے بچنے کی جو ”تدابیر“ ان قومی اداروں کے در و دیوار نے سنیں، وہ بھی آپ کے علم میں ہیں۔ اس صورتِ حال میں ذرا غور کیجئے اور بتایئے کہ ہم بحیثیت قوم کہاں کھڑے ہیں۔(میرا خیال ہے جہاں آج سے عشروں پہلے کھڑے تھے، وہیں کھڑے ہیں اور ٹس سے مس نہیں ہوئے)…… اب اس دیامر بھاشا ڈیم کی بات کر لیجئے…… چلو کورونا کا موضوع میڈیا پر اس طرح ڈسکس نہیں ہو رہا جس طرح باشعور معاشروں کے میڈیا پر ہو رہا ہے۔ لیکن یہ گوادر انٹرنیشنل اور دیامر بھاشا ڈیم کے موضوعات کی خیر خبر تو میڈیا کو دینی چاہیے تھی۔ حکومت نے جو پریس نوٹ جاری کیا یا جنرل عاصم باجوہ نے جو ٹویٹ کی اس کو ٹی وی چینلوں نے اپنی سکرینوں پر اجاگر کرکے سمجھ لیا کہ بس میڈیا کا قومی فریضہ ختم ہو گیا! ہمارے پرنٹ میڈیا کا حال بھی االاّ ماشاء اللہ یہی ہے جو رات کو ٹی وی پر دیکھا اور سنا صبح قلم پکڑ کر اس کی تکرار سپردِ قرطاس کی اور اخباروں کو بھیج دی……اللہ اللہ خیر سلا……

باشعور اور ترقی یافتہ معاشروں میں میڈیاکا کام قومی سطح کے امور و معاملات پر سیر حاصل بحث و مباحثہ بھی شامل ہوتا ہے…… ہمارے کتنے نیوز چینلوں نے دیامر بھاشا ڈیم کے نقشوں اور خاکوں کی مدد سے قارئین کو انفارم اور ایجوکیٹ کیا؟ اس اجلاس میں وزیراعظم کو جو بریفنگ دی گئی تھی اس کی تفصیلات کس چینل نے حاصل کیں؟…… کس نے جنرل مزمل یا جنرل عاصم باجوہ سے سوال جواب کئے؟…… کس چینل نے وہ گراف اور سکیچ حاصل کرکے ان کو آن ائر کیا جو ایک عام ناظر اور سامع کو دینے ضروری تھے؟…… اور اگر حکومت نے کسی صحافی کو یہ اعداد و شمار اور تفصیلات دینے سے انکار کیا یا ان کا راستہ روکا تو اس کی دہائی کیوں نہ دی گئی؟ جو میڈیا چھوٹی سے چھوٹی متنازعہ بات کو نمک مرچ لگا کر ہمیں دکھاتا اور سناتا ہے، وہ کہاں سویا ہوا ہے…… اور پرنٹ میڈیا اس موضوع پر خصوصی ایڈیشنوں کا اہتمام کیوں نہیں کرتا؟……

حضرات و خواتین گرامی! یہی وہ باتیں ہیں جو ہمارے ایک ذمہ دار معاشرہ بننے کی راہ میں حائل ہیں …… ان پر غور کیجئے اور ان خطوط پر آگے بڑھیئے…… گھسے پٹے راستے پر چلنا زندہ قوموں کا دستور نہیں۔

تراش از تیشہء خود جادۂ خویش

براہِ دیگراں رفتن، عذاب است

(اپنے پھاوڑے سے اپنا راستہ خود تعمیر کرو۔ دوسروں کے بنائے ہوئے راستے پر چلنا عذاب ہے!)

مزید :

رائے -کالم -