معروف کالم نگار سیّد عارف نوناری کی دو کتابوں کی تقریب پذیرائی

معروف کالم نگار سیّد عارف نوناری کی دو کتابوں کی تقریب پذیرائی

  

پاکستان کے نامور معروف کالم نگار، ادیب، دانشور، نقاد اور فیچر رائٹر سیّد عارف نوناری کے اعزاز میں گورنر ہاؤس پنجاب میں دو کتابوں ”گھر کا بھیدی، ریڈکراس اور انسانیت“ کی تقریب رونمائی و پذیرائی کی تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت گورنر پنجاب، چوہدری محمد سرور نے کی جبکہ مہمانان خصوصی مجیب الرحمن شامی، ڈاک ٹر امجد ثاقب، سجاد میر اینکر پرسن، معروف کالم نگار جنگ مظہر برلاس، ڈاک ٹر صغرا صدف، عبد القادرطاہر تھے۔ تقریب رونمائی کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ ٹی وی ریڈیو کے معروف قاری وسیم اللہ امین نے تلاوت کی جبکہ نعت رسول مقبول ٹی وی ریڈیو کے پاکستان کے معروف نعت خواں مرغوب ہمدانی نے نعت پڑھی، دونوں کتابوں گھر کا بھیدی، ریڈکراس اور انسانیت کی تقریب پذیرائی میں ملک کے دانشوروں کالم نگاروں، شاعروں، ادیبوں، ٹی وی اینکرز نے شرکت کی۔ کتابوں پر اظہار خیال کرنے والوں میں ایثار رانا، ناصر بشیر، ڈاکٹر طارق عزیز، ڈاکٹر سعادت سعید، ڈاکٹر امجد طفیل،ڈاکٹر صغرا صدف، راشد محمود اداکار، عتیق انور راجہ، توقیر احمد شریفی، گل نوخیز اختر، رابعہ رحمن کالم نگار، اعتبار ساجد شامل تھے۔ نظامت کے فرائض معروف دانشور مصنف نواز کھرل اور ڈاکٹر عمرانہ مشتاق نے خوبصورت انداز میں سرانجام دیئے۔ گھر کا بھیدی کو مکتبہ جدید لاہور، ریڈ کراس اور انسانیت کو کانٹینل سٹار اردو بازار نے خوبصورت انداز میں شائع کیا ہے۔ ان دونوں کتابوں کی تقریب رونمائی و پذیرائی گورنر ہاؤس میں منعقد کروانے کا مقصد یہ تھا کہ گورنر پنجاب ریڈ کریسنٹ پنجاب کے صدر بھی ہیں، تقریب رونمائی میں دانشوروں، ادیبوں اور کالم نگاروں میں اطہر حسن اعوان، سیّد منیر احمد شاہ، مصطفی کمال، گل چمن شاہ، بدر ظہور چشتی، غلام مرتضیٰ باجوہ، ممتاز راشد لاہوری، نوید مرزا، اعجاز فیروز اعجاز، منور سلطانہ بٹ، اعجاز رضوی، ایم آر شاہد، ڈاکٹر تنویر سرور، حاجی لطیف کھوکھر، اعتبار ساجد، ابرار ندیم (ریڈیو) عبد القادر طاہر (میری گولڈ)، ناصر نقوی، صدام ساگر،بینا گوئندی، ریحا الطاف، چوہدری ریاض مسعود، شعیب مرزا، پروفیسر آمر بالعدل، ڈاکٹر سیّد عبد الوحید، ڈاکٹر امین گیلانی، پروفیسر انتظار حسین، نوید مرزا، ناصف اعوان، ضیا الحق نقشبندی، صوبیہ خان نیازی، شہزاد حفیظ ہاشمی، احمد سہیل نصر اللہ، صبح صادق، حسیب پاشا)عینک والا جن) وسیم عالم، توفیق الرحمن سیفی، عثمان غنی (سعادت) ڈاکٹر عبد المجید گیلانی، مہر عبد الرؤف، صوفی حمد، حافظ سلمان طارق صدائے میو، حسن بانو، شازیہ مفتی، توقیر احمد شریفی، ڈاکٹر امجد ثاقب (اخوت) شوکت علی ناز، ناصر نقوی، کرن وقار، ریاض احمد حسان، عتیق انور راجہ، نذیر انبالوی، اقبال راہی، حسن رشید رامے، عابد احسان، ڈاکٹر افتخار بخاری، عمران طاہر (میری گولڈ) نفیس اقبال، نافع اقبال، ڈاکٹر ثانیہ کھیڑا، محمد جمیل، فریدہ شاہ، بندیا اسحاق، سلیم عباس قیصر، زاہد شیخ، آمنہ بٹ، ناصر اقبال خان اور مہرو رانا نے شرکت کی۔ ڈاکٹر سعادت سعید نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا۔ سیّد عارف نوناری نے اپنی کتاب گھر کا بھیدی مشرقی دانش سے اس طور استفادہ کیا ہے کہ مغربی فکر کے جدید ترین رجحانات کے زیر اثر درآمد کئے جانے والے پانچویں پیڑھی یدھ کے امور دیوانے کا خواب نظر آنے لگے ہیں ان کے کالموں کو اس حقیقت نگاری سے آشنا کیا ہے کہ جو دنیا کے نقشے پر ابھرنے والی ایک عظیم مذہبی ریاست پاکستان کی شناختی بنیادوں کو مستحکم کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ معروف کالم نگار اینکر اور دانشور ایثار رانا نے کتابوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا صحافی اور اچھا انسان، ادیب اور ہونا میں حیران ہوں یہ جرأت کرتا ہے مزاح نگار، بہت آسان کام نہیں ہے لوگ ہنسانے والے کو مراثی سمجھتے ہیں ایثار رانا نے اپنی تقریر میں مزاحیہ فقرات بھی استعمال کیے۔ سچ بات کہنا آرٹ ہے جس کے لئے جرأت کا ہونا بہت ضروری ہے جو ختم ہو گئی ہے۔ عارف کے جتنے کالم پڑھے ہیں اس نے پی آر نہیں بڑھائی جس سے اس کاقد بڑاہوگیا ہو۔ راشد محمود نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا۔ کچھ لوگ ہوتے ہیں حسن عادات عارف نوناری ایسے فرد ہیں جو اپنے اندر میراث پا چکے ہیں اس کلچر لوگوں پاکستان کے لوگوں کا راستہ ایک ہے۔ جو ان کی تحریریں ہیں ان میں میرے لوگوں کے دکھ بھی شامل ہیں اور خوشیاں بھی شامل ہیں۔ معروف مزاح نگار گل نوخیز اختر نے کتابوں کی تقریب رونمائی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہ کہ طنز و مزاح لکھنا بہت مشکل کام ہے، اور یہ مشکل کام عارف نوناری نے اپنے ذمے لیا ہوا ہے۔ وہ بامقصد یعنی مقصدیت سے بھرپور مزاح لکھتے ہیں، ان کے مزاحیہ کالموں میں الفاظ کا چناؤ اور فقرات کی تربیت میں بہت بامعنی چیزیں ملتی ہیں۔ اعتبار ساجد نے کہا کہ عارف نوناری تحریروں کا گلدستہ ہیں۔ وہ ایک اچھے کالم نگار کے ساتھ ساتھ ایک نفیس اور درد دل رکھنے والے انسان بھی ہیں۔ ان کی تحریریں ہمارے لئے اثاثہ ہیں۔ ڈاکٹر امجد طفیل دانشور محقق نے کہا کہ عارف نوناری کے کالم معاشرہ کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے کالم جاندار اور مسائل کے حل سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ان کی تحریریں پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسا یہ ہمارے اپنے گھر کی بات ہے۔ ڈاکٹر طارق عزیز ڈرامہ رائٹر و دانشورنے کہا کہ عارف نوناری کے کالموں میں سنجیدگی اور مزاح دونوں خوبیان موجود ہیں۔ انہیں پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ معاشرہ کے ساتھ کس حد تک وابستہ ہیں۔ ان کی تحریریں معاشرہ کے لئے مشعل راہ ہیں، اور ہمیں علم کے علاوہ نظریات و خیالات بھی مہیا کرتی ہیں۔

رابعہ رحمن کالم نگار نے اظہار خیال میں کہا کہ عارف نوناری اچھے انسان بھی ہیں اور اچھے کالم نگار بھی ہیں۔ ان کے نظریات و خیالات میں کئی طرح کے نظریات شامل ہیں جن کا اظہار وہ اپنے کالموں میں بھرپور انداز میں کرتے ہیں شاعر و کالم نگار عتیق انور راجہ نے کہا کہ عارف نوناری کا شمار پاکستان کے منفرد اسلوب طرز کے کالم نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کی تحریریں مشکل میں راستہ دیکھانے کا وسیلہ ہیں توقیر احمد شریفی نے کہا کہ عارف نوناری ملک و قوم کا اثاثہ ہیں اور ایسے اثاثوں کو ضائع ہونے سے بچانا ہمارا فرض بنتا ہے۔ ڈاکٹر صغرا صدف نے کتابوں کی تقریب رونمائی سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عارف نوناری کا شمار جدید کالم نگاروں میں ہوتا ہے ان کی تحریریں پڑھ کر ہمیں احساس ہوتاہے کہ ان کی سوچ میں کتنی گہرائی ہے۔ اور معاشرہ کو کتنی گہری آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ معروف کالم نگار اور تجزیہ نگار مظہر برلاس نے کہا کہ عارف نوناری ہمارے لئے راہیں متعین کرتے نظر آتے ہیں ان کے کالم ہماری ریاست اور حکومتوں کے لئے راہنمائی مہیا کرتے ہیں۔ معروف کالم نگار ادیب دانشور سید عارف نوناری کی دو کتابوں ''گھر کا بھیدی''ریڈ کراس اور انسانیت''کی تقریب رونمائی گورنر ھاوس میں زیر صدارت گورنر پنجاب چوھدری محمد سرور منعقد ھوئی مہمان خصوصی مجیب الرحمن شامی تھے جبکہ دیگر مہمانوں میں ڈاکٹر امجد ثاقب 'سجاد میر 'مظہر برلاس 'ڈاکٹر صغرا صدف اور عبدالقادر طاھر شامل تھے.طارق عزیز'ناصر بشیر'سعادت سعید' ڈاکٹر امجد طفیل'گل نوخیز اختر'رابعہ رحمن' اداکار راشد محمود 'ڈاکٹر صغرا صدف اور دیگر کالم نگاروں دانشوروں نے کیا تقر یب رونمائی سے گورنر پنجاب چوھدری سرور اور مجیب الرحمن شامی نے خطاب کرتے ھوے کہا کہ کالم نگار 'دانشور اور صحافی معاشرہ میں اھم کردار ادا کرتے ھیں ان کے ذریعہ معاشرہ کی سمت درست ھوتی ھے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -