ملک میں کہیں بھی لاک ڈاؤن نہیں، ٹائیگر فورس کا کام جنازے اٹھانا ہو گا: شاہد خاقان

    ملک میں کہیں بھی لاک ڈاؤن نہیں، ٹائیگر فورس کا کام جنازے اٹھانا ہو گا: ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے کورونا کے بجائے حکومت کو ہدف بنایا،ملک میں کورونا کا پھیلاؤ بہت کم ہے، سکول بند کرنے کا فیصلہ سب کی مشاورت سے کیا، اٹھارویں ترمیم آئین کا حصہ مگر اس میں تبدیلی کی گنجائش موجود ہے۔قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر شفقت محمود کا کہنا تھا اپوزیشن جماعتوں نے کورونا کیسز سامنے آنے پر حکومت پر بلاجواز تنقید شروع کر دی، حالانکہ ہمارے ملک میں کورونا کی صورتحال ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔ حکومت کو مورد الزام ٹھہروانے والوں نے غریب عوام کا کبھی نہیں سوچا جو لاک ڈاون کے دوران بھوک جیسی مشکل صورتحال سے دوچار تھے، وزیراعظم عمران خان ملک میں کورونا کی صورتحال کو روزانہ کی بنیاد پر مانٹیر کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف حکومت کیخلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ کورونا کے دوران صوبوں سے تعاون نہیں کیا، حالانکہ ہم 18 ویں ترمیم کا بھرپور احترام کرتے ہیں کیونکہ یہ آئین کا حصہ ہے۔ کورونا وائرس سے متعلق پارلیمنٹ کے ورچوئل اجلاس کی سفارش حکومت نے کی تھی جسے کورونا لاک ڈاون پر لیکچر دینے والوں نے مسترد کر دیا۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنما و سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کیا پاکستان میں کورونا کیخلاف آگاہی مہم چلائی گئی؟ملک میں کہیں بھی لاک ڈاؤن نہیں،حکومت چاہتی ہے کہ اٹھارویں ترمیم ختم کردے تو کورونا ختم ہوجائے گا،ہمیں الیکشن کی اور افہام تفہیم کی باتیں نہ سنائی جائیں،یہ انتہائی مشکل وقت ہے لیکن وزیراعظم ایک گھنٹے کیلئے ایوان میں آنے کو تیار نہیں، آج پاکستان میں لوگ پارلیمنٹ پر ہنس رہے ہیں۔گیارہ ارب روپ وفاق میں صحت کیلئے رکھے گئے لیکن ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ وینٹی لیٹر کی خریداری پیسہ بنانے کا طریقہ ہے۔ جو ماسک دو روپے کا تھا وہ سو روپے کا فروخت ہورہا ہے۔پہلے ڈاکٹر شفقت محمود تھے اور اب ایک نئے ڈاکٹر صاحب کو پارلیمانی امور کا مشیر بنا دیا ہے،اگر اس طرح کورونا ختم ہوتا ہے تو بتائیں 18 ویں ترمیم کو ختم کر دیتے ہیں۔این ایف سی ایوارڈ تبدیل کرنا ہے، تین صوبے آپ کے پاس ہیں، تبدیل کرلیں، ملک تباہ ہوجائیگا لیکن وفاق کو فائدہ نہیں ہوگا۔ٹائیگر فورس کیا ہے، کون لوگ ہیں پیسے کون دیگا، لگتا ہے کہ ٹائیگر فورس کا کام جنازے اٹھانا ہوگا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا وزیراعظم کے رویہ کے نتیجے میں کورونا کیخلاف اتحاد پر ضرب لگی، چیئرمین پیپلزپارٹی نے پیشکش کی کہ وزیراعظم اس وقت وزیر صحت بھی ہیں وہ پالیسی دیں،وفاق کیلئے جو قربانیاں پیپلزپارٹی کی ہیں وہ کسی کی نہیں، بلاول بھٹو ذوالفقار علی بھٹو کی طرح وفاق کو جوڑنے کے مشن پر ہیں،وزیر تعلیم شفقت محمود اپنی غزل سنا کر چلے گئے لیکن ہمارا شعر سننے کو تیار نہیں،حکومت کی پالیسی دوغلی ہے، کہتی کچھ اور کرتی کچھ ہے۔ہمارے چیئرمین لڑنا نہیں چاہتے، حکومت زبردستی لڑنا چاہتی ہے۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ا ے این پی کے پارلیمانی لیڈر امیر حیدر ہوتی نے کہا این ایف سی ایوارڈ پہلے ہوا یا 18 ویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ بڑھا،18 ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو مزید اختیار دیاگیا ہے، اس ترمیم کیساتھ صوبوں کی ذمہ داریاں بڑھ گئیں،صوبوں کا مطالبہ ہوگا کہ صحت، تعلیم سمیت دیگر شعبوں کی ذمہ داری بڑھی لہٰذا صوبوں کی ڈیمانڈز کم نہیں بڑھے گی ایسا کوئی مسئلہ نہ چھیڑا جائے جس سے ہماری قومی یکجہتی متاثر ہو،کورونا وائرس نے ہر شعبے کو متاثر کردیا ہے، سوچ سمجھ کر فیصلے کئے جائیں۔ہمیں اپنی اپنی سیاسی جماعتوں سے نکل کر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بات کر نی چاہیے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا نفرت اور تعصب میں گُندے لوگوں کیساتھ بات کرنا مشکل ہے،وزیر خارجہ کو درست حقائق نہیں بتائے گئے،لیول تھری کی صرف ایک لیب ہے جو لاہور میں ہے،جنوبی ایشیا میں بہترین تشخیصی سہولیات کے دعوے سے ہم اتفاق نہیں کرتے، معاشی صورتحال مزید ابتر ہو گی۔نیب کا ہمارے دور میں بھی غلط استعمال ہوا،اب بھی غلط استعمال ہو رہا ہے۔آپ کی نظر میں ہم چور ہیں لیکن ہمارے ووٹر سمجھتے ہیں ہم ٹھیک ہیں۔ہمارے ملک میں کرونا کے مریضوں اور اموات کی تعداد درست نہیں،مشیر صحت تو عوام کو جوابدہ نہیں۔جس نے ٹائیگر فورس کی تجویز دی وہ کبھی کونسلر بھی منتخب نہیں ہو سکا،ٹا ئیگر فورس کے بجائے سرکاری ادارے استعمال کریں۔

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -