جی ایس پی پلس معاہدے پر عملدرآمد ہمارے مفاد میں ہے: وزیراعظم

    جی ایس پی پلس معاہدے پر عملدرآمد ہمارے مفاد میں ہے: وزیراعظم

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس معاہدے سے پاکستانی تجارت کو فائدہ ہوا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا جی ایس پی پلس سے متعلق 27 کنونشنز کے نفاذ کو جاری رکھنے کا عزم کرتے ہیں۔ جی ایس پی پلس معاہدے کی 6 انسانی حقوق کنونشنز پر عملدرآمد ہمارے اپنے مفاد میں ہے۔ٹویٹر پر انہوں نے مزید لکھا ہم نے خواتین کو وراثت میں حقوق، چائلڈ لیبر کیخلاف اور خواجہ سراؤں کے حق میں قوانین بنائے ہیں، ہم انسانی حقوق اور صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کے کنونشن پر بھی عملدرآمد کررہے ہیں۔ یورپی یونین ہمارے انسانی حقوق کے قومی ایکشن پلان اور بلین ٹری سونامی منصو بے کی تعریف کر چکا ہے، جیسے جیسے ہماری تجارت اور معیشت جی ایس پی پلس سے فائدہ اٹھائے گی، ہم اپنے لوگوں کے فائدے کیلئے انسانی حقوق کے کنونشنز پر عملدرآمد تیز کریں گے۔بعدازاں وزیراعظم کی زیر صدارت پاکستان پوسٹ ملازمین کی پنشن کے حوالے سے اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران پاکستان پوسٹ پنشن فنڈ کے قیام کی اصولی منظوری دیدی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا پنشن کے نظام کو جدید خطوط پر بنانے کی ضرورت ہے،وزیراعظم نے پاکستان پوسٹ میں اصلاحات کے حوالے سے وزیرِ مواصلات اور انکی ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا۔اجلاس کے دوران خزانہ، مواصلات کی وزارتوں، سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن، نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ پر مشتمل کمیٹی کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔ کمیٹی مجوزہ پنشن فنڈ کے قیام اورانتظام، طریقہ کاراور دیگر تفصیلات کابینہ کو پیش کریگی۔وزیر مواصلات نے بتایا پاک پوسٹ کی جانب سے پہلی دفعہ بزرگ اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن انکے گھر پر فراہم کی گئی ہے۔ اس اقدام کواقوام متحدہ سمیت دنیابھرمیں سراہاجارہاہے۔ پاکستان پوسٹ کی جانب سے پنشنرز کو عید کے موقع پر ایڈوانس پنشن ادا کی جا رہی ہے۔ پاکستان پوسٹ کی جانب سے 26بیش قیمت اراضیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو اب تک کسی بھی استعمال میں نہیں لائی گئیں تھیں۔ ان اراضیوں کی تفصیل جلد کابینہ کے سامنے پیش کر دی جائیں گی اور انکو مثبت مقاصد کیلئے برؤے کار لانے کی منظوری حاصل کی جائے گی۔مشیر اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے مجموعی طور سرکاری ملازمین کی پنشن کے حوالے سے مرتب کی جانے والی تجاویز کے بارے میں وزیرِ اعظم کو آگاہ کیا۔وزیرِ اعظم نے کہا حکومت کے محدود مالی وسائل اور پنشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ پنشن کے نظام کا جدید خطوط پر انتظام یقینی بنایا جائے تاکہ جہاں اس نظام کو بہتر طور پر چلا جا سکے وہاں حکومت پر پڑنے والے بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔ حکومت کو محدود مالی وسائل اور پنشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا ہے۔دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور سیاسی شخصیات کیساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں، اراکین اسمبلی رائے مرتضی اقبال، صمصام بخاری اور پاکستا ن تحریک انصاف کے سینئر رہنما رائے حسن نواز نے ملاقاتیں کیں اس موقع پر پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی میں چیف وہپ ملک محمد عامر ڈوگر بھی ملاقاتوں میں تھے۔ملاقاتوں کے دورا ن کورونا وائرس کی مجموعی صورتحال، پارلیمنٹیرینز کے عوامی فلاحی اورترقیاتی امور پرگفتگو کی گئی اور ملاقات میں زرعی شعبے کی ترقی کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے پارلیمینٹیرینز کو عوام سے رابطے، ان کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا عوامی مسائل کے حل کیلئے حکومت ہر ممکن وسائل فراہم کرے گی، پارلیمینٹیرینز عوام کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ترغیب دیں۔وزیراعظم نے پارلیمنٹیرینز کو ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام یقینی بنانے کی ہدایت کر تے ہوئے کہا عوام کو اشیائے خوردونوش کی دستیابی کو یقینی بنائی جائے۔پارلیمینٹیرینز نے کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے وزیراعظم کے ویژن کی تعریف کی اور لاک ڈاون کی مناسب اور متوازن حکمت عملی کی بدولت عوام خصوصا غریب اور مزدور طبقے کی مشکلات میں کمی لانے کیساتھ ساتھ ان کو ریلیف فراہم کرنے کے حکومتی اقدامات پر وزیراعظم کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔ممبران نے اپنے متعلقہ حلقوں میں عوام کو درپیش مسائل اور ترقیاتی منصوبوں پر وزیراعظم کو آگاہ کیا اور تجاویز پیش کیں۔ ملاقات میں زرعی شعبے کی ترقی کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعظم

مزید :

صفحہ اول -