کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کا اشتراک عمل ناگزیر: وزیر خارجہ

  کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کا اشتراک عمل ...

  

اسلام (سٹاف رپورٹر)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کورونا وباء سے مل کر مقابلہ کرنے اور آگے بڑھنے میں شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) کا اشتراک عمل ناگزیر ہے، کورونا وبا کے تناظر میں کسی طبقہ کے ساتھ مذہب، رنگ ونسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی کسی طبقہ کواس وباء کے لئے مورد الزام ٹھرایا یا نشانہ بنایاجائے، فسطائیت، عسکریت اور متشدد قومیت پسندی کے خلاف ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ دیگر قومیتوں سے بیزاری اور اسلام مخالف سوچ کو دنیا میں پنپنے نہ دیا جائے اور ان رجحانات کو دنیا مسترد کرے، کسی کو یہ اجازت نہیں دینی چاہئے کہ دہشت گردی سے متعلق الزامات کو سیاسی ہتھیار کے طورپر کسی دوسرے ملک، قوم یا مذہب کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کرے، غیرقانونی قبضہ کے شکار عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والوں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہئے اور ان کی مذمت کرنی چاہئے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے ورچول اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس وقت دنیا نظر نہ آنے والے نامعلوم دشمن سے برسرپیکار ہے۔ہفتوں کے اندر ہی کورونا وائرس جنگل کی آگ کی مانند تمام معاشروں اور صحت عامہ کے نظام میں پھیل چکا ہے اور پہلے ہی قلیل وسائل کو مزید ختم کررہا ہے، قیمتی جانیں لے رہا ہے اور معیشت کو اپاہج بنارہا ہے اور دنیا بھر کے کاروبار کو مفلوج بنا رہا ہے،اس افسوسناک صورتحال میں ان تمام خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتا ہوں جن کے پیارے کورونا وباء کی نذر ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ ترقی پزیر ممالک کورونا وباء کے باعث سنگین مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔ عالمی بینک، آئی ایم ایف اور جی 20 کی جانب سے قرض کی ازسرنوتشکیل کے اقدام کا پاکستان خیرمقدم کرتا ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔شاہ محمود نے کہا کہ کورونا وباء کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے ہمیں خطے کی سلامتی کو لاحق دیگر خطرات کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔ امریکہ اور طالبان میں امن معاہدہ ایک تاریخی پیش رفت ہے جس سے افغانستان میں امن اور استحکام کی بحالی کی امیدیں روشن ہوگئی ہیں جبکہ ایس سی او افغانستان رابطہ گروپ کے ذریعے ایس سی او اس اہم مرحلے پر امن واستحکام کے فروغ میں اپنا نہایت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایس سی او کے وباؤں کی روک تھام میں تعاون کے مجوزہ معاہدے اور عالمی ادارہ صحت اور ایس سی او کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، اس موقع پر سفارشات پیش کرنا چاہوں گا، اول ہمیں عالمی قانون اور اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کی مرکزیت کو بنیادی اصول کے طورپر تسلیم کرنا ہوگا اور معیار بنانا ہوگا۔ کورونا وبا کے تناظر میں کسی طبقہ کے ساتھ مذہب، رنگ ونسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی کسی طبقہ کواس وباء کے لئے مورد الزام ٹھرایا یا نشانہ بنایاجائے۔دوم، یہ کہ بہترین طریقوں کو اختیارکیاجائے اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کے لئے صحت کی وزارتوں میں رابطوں کو بڑھایا جائے۔ سوم، یہ کہ ہمیں ایک ایسا طریقہ کار وضع کرنا چاہئے جہاں کورونا وائرس پر مشترکہ تحقیق کے لئے ہم سائنسی اور تکنیکی صلاحیت کو جمع کرسکیں تاکہ کورونا وباء کے علاج کے لئے ویکسین کی تیاری یا کسی شفا کے حصول کی راہ ہموار ہوسکے۔ چہارم، یہ کہ ایس سی او ممالک کو نادار طبقات اور معاشروں کی معاشی مدد کے پہلو سے تبادلہ خیال کرنا چاہئے۔ پاکستان کی اس ضمن میں تجویز ہوگی کہ ایس سی او کی سطح پر مشترکہ ورکنگ گروپ برائے انسداد غربت اور سینٹر آف ایکسیلنس تشکیل دیاجائے۔ آخر میں میری تجویز ہوگی کہ ہمیں اپنے ہسپتالوں اور لیبارٹریوں میں تعاون مزید بڑھانا چاہئے اور ایس سی او ہسپتال الائنس کی تشکیل کے لئے کام کرنا چاہئے۔ 75 برس قبل جیسے متشدد قومیت پسندی کی قوتوں کے خلاف دنیا نے فتح حاصل کی تھی، آج کورونا وباء کے خلاف دنیا کو اسی اتحاد اور مقصدیت پر آنا ہوگا تاکہ اس چیلنج کے خلاف دنیا فتح حاصل کرے۔ ایس سی او میں یہ کردکھانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے،سینٹ پٹرز برگ میں سربراہان مملک کی کونسل کے متوقع اجلاس کے حوالے سے ہم روسی پریذیڈنسی کی کامیابی کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔

شاہ محمود

مزید :

صفحہ اول -