وزیرصنعت پنجاب کا مارکیٹوں کا دورہ، ایس او پیز کی خلاف ورزی پر دکانداروں کو وارننگ

            وزیرصنعت پنجاب کا مارکیٹوں کا دورہ، ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ...

  

لاہور(این این آئی) صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نے انارکلی بازار،اچھرہ بازار اور دیگر مارکیٹوں کا دورہ کیا اورطے کردہ ایس او پیز پر عمل درآمد کا جائزہ لیا، میاں اسلم اقبال نے مارکیٹوں میں ایس او اپیز پر عمل درآمد نہ ہونے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے دکانداروں کو سخت وارننگ دی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ تاجر برادری نے ایس او پیز پر عمل درآمد کا وعدہ کیا تھا لیکن مارکیٹوں میں صورتحال اس کے بر عکس نظر آ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تاجروں کے ساتھ طے ہوا تھا کہ مارکیٹوں میں بچوں کے داخلے پر ممانعت ہو گی لیکن مارکیٹوں میں بچوں کی بڑی تعداد نظر آرہی ہے۔ دکانداروں کے علاوہ خریدار بھی ماسک کے بغیر آ رہے ہیں جو خطرناک ہے۔اگر یہی صورتحال رہی تو پھر اوقات کار میں کمی اور مارکیٹوں کو بند بھی کیا جا سکتا ہے۔اس حوالے سے جلد فیصلہ کر لیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شاپنگ مالز کے حوالے سے پالیسی بنا رہے ہیں، جلد اچھی خبر ملے گی۔انہوں نے کہا کہ انارکلی بازار میں پارکنگ کے مسئلہ کے حل کیلئے جلد لائحہ عمل بنائیں گے۔ صوبائی وزیر نے دکانداروں اور شہریوں میں ماسکس بھی تقسیم کئے۔دوسری جانب آل پاکستان انجمن تاجران نے صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کے بیان پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے فی الفور عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا۔صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ نے کہا ہے کہ کسی وزیر یا مشیر کو تاجروں کے بارے اس طرح کے الفاظ ادا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے لہٰذاوزیراعظم عمران خان صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کے بیان کا نوٹس لیں۔انہوں نے کہا کہ بجائے ہماری داد رسی کے ہمارے بارے میں جن الفاظ کا چناؤ کیا جارہا ہے وہ مناسب نہیں۔تاجر پچھلے دو ماہ سے جس مشکل کا شکار ہیں اس کا کسی کو اندازہ ہی نہیں،وزیر صنعت کو تنخواہ پوری مل رہی ہے اس لئے ان کا لہجہ جارہانہ ہے۔آل پاکستان انجمن تاجران کے سیکرٹری جنرل نعیم میر نے صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور چیمبر میں آکر صوبائی وزیر نے جس طرح کا بیان دیا وہ ذمہ داری کے زمرے میں نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے تین فریق ہیں جن میں تاجر، خریدار اور انتظامیہ ہے اور جب تک تینوں ایک پیج پر نہیں آئیں مثبت نتائج نہیں آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ کمیٹیوں کے قیام، پانی کے انتظام اور ٹریفک کا رش نہ لگنے دینے کی ذمہ داری حکومت اور انتظامیہ کی تھی لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

اسلم اقبال/تاجر

مزید :

صفحہ اول -