پی آئی سی کے پروفیسر ظفر طفیل کورونا کا شکار

  پی آئی سی کے پروفیسر ظفر طفیل کورونا کا شکار

  

لاہور(جاویداقبال) لاک ڈون میں نرمی کے خطرناک نتائج سامنے آنے لگے ہیں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے شعبہ کارڈیک سرجری کے چیئرمین پروفیسر ظفر طفیل بھی کرونا کا شکار ہوگئے ہیں اس طرح لاہور ٹیچنگ ہسپتال دس خواتین کے سرجری کے آپریشن کیے گئے خواتین کے آپریشن ہوئے وہ تمام کرونا پازٹیو نکلی جن کے آپریشن کرنے والے ڈاکٹر اور دیگر شامل ہیں جن کی تعداد چالیس گھروں میں قید ہوگئے ہیں اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ انہیں دوران آپریشن کرونا سے حفاظت کے لیے ضروری سازوسامان اور کرونا کیٹس فراہم نہ کی گئیں فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ہیلتھ پروفیشنلز جو کرونا وائرس کا شکار ہوئے ان کی تعداد 800 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 36 ہزار سے بڑھ گئی ہے کرونا وائرس سے متاثر ہونے والیفرنٹ لائن فائٹر 62% ڈاکٹر زہیں رپورٹ کے مطابق لاک ڈون میں نرمی ہونے کے بعد لوگوں نے کرونا کو مذاق بنا لیا ہے خریدار اور عوام دونوں حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایس او پیز کو پاؤں تلے روند رہے ہیں جس کے بعد حکومت نے فیصلہ کر کر لیا ہے کہ اس سے پہلے کہ صورتحال نقاب ہو جائے لاڈ ان کو دوبارہ سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس حوالے سے ہیلتھ پروفیشنل پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر اشرف نظامی کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر اسفند یار حکومت کا لاک ٹون نرم کرنے کا فیصلہ پاگل پن تھا اس سے کرو نا کے مریضوں کی آمد میں ریکارڈ اضافہ ہوگیا ہے حکومت کو دوبارہ لاک ڈاؤن کی طرف جانا پڑے گا جو کرفیو جیسا ہوسکتا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ ہفتے سے لاک ڈاؤن میں سختی کی جائے اس حوالے سے وزیراعظم کے اسپیشل اسسٹنٹ ڈاکٹر شہباز گل سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ حکومت بڑی باریک بینی سے اس کا جائزہ لے رہی صوبوں سے رابطے میں ہیں تمام ادارے الرٹ ہیں اور حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اگر حالات خراب ہوتے ہوئے نظر آئے تو پھر فیصلے میں نظرثانی کرنا پڑے گی حوالے سے پیپلز پارٹی سندھ کے رہنما مولا بخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ کے سندھ میں کرونالاک ڈون میں نررمی میں وفاقی حکومت نے زبردستی کروائیں اگر کرونا وائرس کی صورتحال خوفناک کوئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر ہوگی۔

خطر ناک نتائج

مزید :

صفحہ اول -