مارچ میں لارج سکیل مینو فیکچرنگ کی پیداوار میں 23فیصد کمی

      مارچ میں لارج سکیل مینو فیکچرنگ کی پیداوار میں 23فیصد کمی

  

کراچی (اکنامک رپورٹر)ملک میں لاک ڈاؤن کے دوران صنعتوں کے بند ہونے کے باعث بڑے پیمانے پر ہونے والی مینوفیکچرنگ یعنی لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) کی پیداوار میں مارچ کے مہینے میں سالانہ بنیاد پر 22.95 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اپریل کے اعداد وشمار مارچ سے بھی زیادہ مایوس کن ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان ادارہ شماریات (پی ایس بی) کے جاری کردہ اعداد و شمار مارچ کے دوران عالمی معیشت کی سست روی کے مقامی مینوفیکچرنگ پر اثرات ظاہر کرتے ہیں جب صوبوں میں جزوی لاک ڈاؤن نافذ تھا۔تاہم آئندہ ماہ جب پی ایس بی ڈیٹا جاری کرے گا تو اس میں اپریل میں نافذ ہونے والے مکمل لاک ڈاؤن کے اثرات کہیں زیادہ ہوں گے جس کا اندازہ اپریل میں مجموعی برآمدات کے اعدادو شمار سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس کے مطابق گزشتہ ماہ برآمدات میں 54فیصد کی کمی آئی ہے۔

ہانہ بنیادوں پر لارج اسکیل مینوفیکچرنگ فروری کے مقابلے مارچ میں 21.99 فیصد کم رہی۔فروری میں کووِڈ 19 کے بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ پر اثرات بہت معمولی تھے اور سالانہ بنیاد پر اس میں 1.15 فیصد جبکہ ماہانہ بنیاد پر 0.91 فیصد کمی ہوئی تھی۔

مزید :

کامرس -