محلوں میں رہنے والے ریاست مدینہ کی باتیں کر رہے ہیں،منیر حسین گیلانی

  محلوں میں رہنے والے ریاست مدینہ کی باتیں کر رہے ہیں،منیر حسین گیلانی

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) اسلامک ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین اور سابق وفاقی وزیر تعلیم سیدمنیر حسین گیلانی نے کہا ہے کہ شاہی محلات میں رہنے والے ریاست مدینہ کی بات کرکے منافقت کر رہے ہیں۔ مصطفائی نظام یا ریاست مدینہ کی بنیاد سماجی، سیاسی، معاشرتی اور معاشی انصاف ہے اگر معاشرے میں یہ رائج نہیں تویہ آمرانہ نظام تو ہو سکتا ہے، ریاست مدینہ نہیں۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ پہلے یثرب کہلاتی تھی۔ جہاں رسول اللہ کی تشریف آوری سے پہلے ہی یہودی اور مسیحی موجود تھے وہ یمن اور فلسطین سے خاص طور پر نقل مکانی کرکے مدینہ میں آئے، کیونکہ ان کی کتابوں میں درج تھا کہ یہاں یثرب میں آخری نبی آئے گا۔ رسول اللہ کی آمد سے پہلے یثرب میں بنی خزرج اور بنی اوس قبائل کے درمیان لڑائیاں جاری رہتی تھیں۔

اور صلح کروانے کے لیے عرب سردار عبداللہ بن اوبئی کردار ادا کرتا تھا۔ منیر گیلانی نے کہا کہ معاشرے میں اگر عدل نہیں تو یہ کوئی بھی نظام کہلاسکتا ہے، مگر اسلامی معاشرہ نہیں۔

 ن کا کہنا تھا کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریاست مدینہ میں نظام عدل قائم کیا،رہن سہن میں خود کوعام مسلمان سے بڑا ظاہر کیا اور نہ ہی مراعات لیں۔جب فتح خیبر ہوا تومسلمانوں کے معاشی حالات کافی حدتک بہتر ہو گئے تھے لیکن حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں کئی کئی دن تک چولہا نہیں جلتا تھا۔ سید منیر گیلانی نے کہا کہ نظام مصطفٰی کا بنیادی اصول یہی ہے کہ حکمران مدینہ کے نچلے طبقے کے مطابق حکمران زندگی گزاریں۔فتح مکہ کے بعد باقی مسلمانوں کے اچھے گھر بھی بن گئے تھے لیکن رسول اللہ کا گھر عام لوگوں کی طرح ہی رہا۔ازواج مطہرات وسائل نہ ہونے کی شکایت کرتیں۔ پیغمبر اکرم کی صاحبزادی فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہا کے پاس گھر کے کام کاج کے لئے کوئی کنیز نہ تھی۔ حضور نے کوئی محل نہیں بنایا کیونکہ مسیحیت اور یہودیت میں پہلے سے یہی ہوتا چلا آرہا تھا کہ بڑے لوگوں کے پاس بڑے گھراور دولت کے انبار تھے اور خاص طور پر مذہبی طبقہ نے بڑے بڑگھر بنا لیئے تھے لیکن عام آدمی اس سے محروم رہتا تھا۔گویا اسلام کے مطابق چند ہاتھوں میں دولت کا ارتکاذ اسلامی نظام کی نفی ہے۔ مواخات مدینہ ہوا توجن اصحاب رسول کے پاس دو گھر تھے انہوں نے ان میں سے ایک اپنے دوسرے مسلمان بھائی کو دے دیا۔سابق وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ معاشرے میں اگر تبدیلی نہیں آرہی تو حکمران منافقت سے کام لے رہے ہیں۔ریاست مدینہ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔اس کا مطلب ہے کہ ریاست مدینہ کا نعرہ،دراصل اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے لگایا جارہا ہے۔ ریاست مدینہ کی آئیڈیل پیغمبر اکرم کی حیات مقدسہ ہے نہ کہ مصطفی کمال پاشا کا نظام یا امریکہ کا سرمایہ دارانہ نظام۔منیر گیلانی نے کہا کہ اگر اسلام نے بھی لوگوں کے حقوق نہیں دینے تھے تو اللہ تعالیٰ کو مسیحیت اور یہودیت جیسے مذاہب کی موجودگی میں آخری دین مبین اسلام کی کیا ضرورت تھی؟۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی آئیڈیل شخصیت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہم مسلمان پیغمبر کی طرح زندگی گزارتے ہیں؟ ان کے گھر والے رسول اقدس کے خاندان کی طرح خودکو اسلام پر قربان کرتے ہیں؟ اگر یہ جذبہ ہم میں موجود ہے تو ہم واقعی نبی رحمت کے غلام اور امتی کہلانے کے حقدار ہیں، ورنہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں رسول اللہ نے خود کو نہیں بلکہ چھوٹے طبقے کو اپ گریڈ کیا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -