حکومتی خزانے پر بوجھ بننے والے افسران کو فارغ کردیا جائیگا‘ سائرہ اسلم

  حکومتی خزانے پر بوجھ بننے والے افسران کو فارغ کردیا جائیگا‘ سائرہ اسلم

  

جام پور (نامہ نگار) سیکرٹری تعلیم پنجاب کی زیر صدارت جنوبی پنجاب کے تین اضلاع کے تعلیمی افسران کا اجلاس۔ ناقص کارگردگی اور فنڈز کا صیح استمال نہ کرنے پر ڈیرہ اور لیہ کے افسران سے اظہار برہمی۔ دونوں اضلاع کے سی ای او ز سے جواب طلب۔ حکومتی خزانہ پر بوجھ بننے والے افسران کو فارغ کر دیا جائے گا۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ روز سیکرٹری تعلیم (بقیہ نمبر8صفحہ6پر)

پنجاب سائرہ اسلم نے چارج سمبھالنے کے بعد ضلع راجن پور۔ ڈیرہ غازی خان۔ لیہ کے تعلیمی افسران کا اجلاس طلب کیا۔ جس میں راجن پور سے سی ای او تعلیم ثناء اللہ سہرانی۔ ڈی ای او عطاء حسین سیلرہ۔میڈیم طاہرہ شاہین۔ ڈپٹی ڈی ای اوز ڈاکٹر امجد اسلام پتافی۔ وزنانہ ڈپٹی ڈی ای وز اور دیگر اضلاع افسران نے شرکت کی۔ سی ای او راجن پور نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ای سی روم کی کٹ کی فراہمی کے لیے پنتالیس سکولوں کے لیے ستائیس لاکھ جبکہ کمپوٹر کی فراہمی کے لیے ساٹھ لاکھ روپے مختص کرنے کے علاوہ تعمیر پروگرام کے تحت مسنگ سہولیات کی فراہمی کے لیے پنتالیس لاکھ روپے رکھے گئے جن میں بعض سکیموں پر کام جاری ہے۔ اور اسی فی صد کام مکمل ہو نے کے قریب ہے۔ تعلیمی ریکنگ میں ضلع راجن پور چھتیس نمبر سے نکل کرکے انیس نمبر پر آچکا ہے۔ تمام ٹیم باہمی روابط کو ممکن بناتے ہوئے علاقائی تعلیم کی فراہمی کے لیے کوشاں ہیں۔ دوہزار پندرہ کے اساتذہ کو ریگولر کرتے ہوے متعدد اساتذہ اور دیگر عملہ کی پروموشن کا عمل تکمیل کے مراحل میں ہے۔ سیکرٹری تعلیم پنجاب نے شاندار کارگردگی پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے افسران کو باقاعدہ وزٹ کرکے کام کی کوالٹی اور معیار کو چیک کرتے ہوئے مقرہ وقت میں تکمیل کرنے کا حکم دیا۔ سی ای او تعلیم کو ہدایت کی کہ وہ تیس جون سے قبل منصوبوں کو مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کریں اور کوئی فنڈز لیپس نہ ہوں۔ اجلاس میں ڈیرہ اور لیہ کی تعلیمی کارگردگی مایوس کن اور فنڈز کا صیح مصرف نہ ہو نے پر سیکرٹری تعلیم افسران پر برس پڑیں اور اظہار ناپسندیدگی کرتے ہوئے کہا کہ جوافسر کام نہیں کریں گے ان کو سیٹ پر رہنے کا کوئی حق نہ ہے۔ اب کام چلے گا بہانے نہیں چلیں گے۔ جس نے کام کرنا ہے کرئے ورنہ اپنا تبادلہ کرالیے۔ انہوں نے سی ای او ڈیرہ غازی اور سی ای او تعلیم لیہ سے ایک ہفتہ کے اندر جواب طلب کر لیا تاکہ مزید ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جائے۔ واضع رہے کہ ارکان اسمبلی نے سپیکر پنجاب اسمبلی کو شکایت کی کہ ضلع افسران کی لاپروائی کی وجہ سے تعمیر نو کے منصوبوں کے لیے مختص فنڈز خرچ نہ ہو نے پر ضائع ہو گئے۔ جس پر چیف سیکرٹری پنجاب نے ایکشن لیتے ہوئے سیکرٹری تعلیم پنجاب کو معاملہ کو چیک کرکے رپورٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔

سائرہ اسلم

مزید :

ملتان صفحہ آخر -