شریف فیملی منی لانڈرنگ کیس،ملوث 10ملزمان کا مزید جوڈیشل ریمانڈ

شریف فیملی منی لانڈرنگ کیس،ملوث 10ملزمان کا مزید جوڈیشل ریمانڈ

  

لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت نے شریف فیملی کیلئے مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کرنے میں ملوث 10ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 5 جون تک توسیع کر دی۔احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے کیس پر سماعت کی،ملزمان کو کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے سبب عدالت میں پیش نہیں کیا گیا،نیب کے پراسیکیوٹر کی جانب سے ریفرنس سے متعلق رپورٹ پیش کرتے ہوئے عدالت کوبتایا گیا کہ ملزمان میں قاسم قیوم،فضل داد،مسرور انور، نثار احمد اور شعیب قمر شامل ہیں جبکہ ملزم آفتاب محمود، شاہد رفیق اور مشتاق چینی کی لاہور ہائی کورٹ سے درخواست ضمانت منظور ہوچکی ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو مزید بتایا کہ اس کیس میں میاں شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے خلاف تین ملزمان وعدہ معاف گواہ بھی بن چکے ہیں،ملزم مشتاق چینی، شاہد رفیق اور آفتاب محمود نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت اپنے بیان قلمبند کرو چکے ہیں قاسم قیوم منی چینجر کا کاروبار کرتا تھا اور غیر قانونی طورپرشہبازشریف،حمزہ اورسلمان وغیرہ کے اکاونٹ میں ڈالرز اوردرہم منتقل کیے فضل داد شہباز شریف کا پرانا ملازم ہیاورمختلف لوگوں سے رقوم جمع کر کے قاسم قیوم کو پہنچاتا تھا، قاسم قیوم مشکوک بینک ٹرانزیکشنز سے یہ رقوم شہبازشریف کے خاندان کے اکاونٹس میں منتقل کرتا تھا نیب رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ فضل داد 2005 ء سے سلمان شہباز کا ملازم ہیرقوم منتقلی کے لیے شہباز شریف خاندان کے ملازمین سمیت دیگر کے اکاونٹس اور شناختی کارڈ استعمال کئے گئے فضل داد عباسی نے بھی شہباز شریف خاندان کے مختلف افراد کے اکاونٹس میں بڑی رقوم منتقل کی ہیں، ملزم آفتاب محمود "عثمان انٹرنیشنل"نامی فارن کرنسی ایکسچینج لندن اور برمنگھم سے آپریٹ کرتا رہا ہے تاہم غیرقانونی طور پر حمزہ شہباز، سلمان شہباز و دیگر کے اکاؤنٹس میں بوگس ٹی ٹی لگاتا رہاہے۔

مزید :

علاقائی -