لائسنس میں دو سال کیلئے توسیع کے مطالبات صحیح اور جائز ہیں،ایمل ولی

لائسنس میں دو سال کیلئے توسیع کے مطالبات صحیح اور جائز ہیں،ایمل ولی

  

پشاور(سٹی رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ زندگی کے دیگر شعبہ جات کی طرح کنٹریکٹرز بھی کورونا وائرس لاک ڈاون سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں،اے این پی کنٹریکٹرز کے مطالبات کے ساتھ کھڑی ہیں اور حکومت وقت سے کرتی ہے کہ وہ کنٹریکٹرز کے مطالبات منظور کریں۔ ولی باغ چارسدہ سے لوئیر دیر کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے وفد سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن پاکستان انجینئرنگ کونسل سے لائسنس میں دو سال کیلئے توسیع اور فیس معاف کرنے کا مطالبہ کرتی ہے، اے این پی مشکل کی اس گھڑی میں کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے اس مطالبے کے ساتھ کھڑی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں متعلقہ ادارے کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے مشکلات کو دیکھتے ہوئے اُن کے اس مطالبے کو منظور کریں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سے جہاں ہر طبقہ متاثر ہوا ہے وہاں گورنمنٹ کنٹریکٹرز بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں حکومت وقت کو اُن کے مشکلات کا ازالہ کرتے ہوئے اُن کے مطالبات فوری طور پر منظورکرنا چاہیے،اے این پی کو دیگر شعبوں کی طرح کنٹریکٹرز کے مشکلات کابھی ادراک ہے۔ ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ کنٹریکٹرز کے لائسنس میں توسیع نہ کرنا اور مشکل کی اس گھڑی میں سرکاری ٹھیکداروں سے بڑے بڑے فیسوں کا مطالبہ خود سیلیکٹڈ کے تمام دعووں کی خلاف ورزی ہے،سیلیکٹڈ ایک طرف ملک بھر میں تعمیراتی صنعت کی ترقی اور کنٹریکٹرز کو مراعات کی بات کررہا ہے جبکہ دوسری جانب سرکاری کنٹریکٹرز حکومتی پالیسیوں کے خلاف میدان عمل میں ہے،کیا یہ کھلا تضاد نہیں کہ جن لوگوں نے تعمیراتی صنعت کو پروان چڑھانا ہے وہ لوگ حکومت وقت کے پالیسیوں کے خلاف سراپہ احتجاج ہے جبکہ وزیراعظم یہ کریڈیٹ لینے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ تعمیرانی صنعت کو ترقی کی راہ پر گامزن کررہا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -