اٹھارہویں آئینی ترمیم 1973 کے آئین کا تسلسل ہے، حیدر ہوتی

اٹھارہویں آئینی ترمیم 1973 کے آئین کا تسلسل ہے، حیدر ہوتی

  

پشاور(سٹی رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر اور رکن قومی اسمبلی امیرحیدرخان ہوتی نے کہا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم 1973کے آئین کا تسلسل ہے، آج قوم کورونا وبا کا مقابلہ کررہی ہے، ایسے حالات میں ایسے معاملات کو چھیڑنے سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ قومی اسمبلی میں کورونا وبا بارے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیرحیدر خان ہوتی نے کہا کہ اس ترمیم کے بعد صوبوں کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں، آج صوبوں کا مطالبہ یہ وسائل کو کم کرنے کا نہیں بلکہ بڑھانے کا ہونا چاہیے۔ کیونکہ صحت اور تعلیم سمیت کئی معاملات صوبوں کے سپرد کئے جاچکے ہیں، یقیناً اب صوبوں کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ میں حصہ بڑھانے کا مطالبہ آئیگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد کسی این ایف سی ایوارڈ کا اجرا نہیں کیا گیا، آج اگر اٹھارہویں آئینی ترمیم کو این ایف سی ایوارڈ سے جوڑا جارہا ہے تو یہ سراسر غلط ہے کیونکہ اٹھارہویں ترمیم بعد میں ہوئی تھی۔این ایف سی ایوارڈ کو اٹھارہویں ترمیم کے ساتھ لنک نہ کیا جائے لیکن ہم درخواست کریں گے کہ ان حالات میں ایسے مسائل کو نہ چھیڑا جائے جس سے یکجہتی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ امیرحیدرخان ہوتی کا کہنا تھا کہ کورونا وبا نے زندگی کا ہر شعبہ متاثر کیا ہے اب لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا جاچکا ہے تو ٹیسٹنگ کی صلاحیت کو بڑھاتے ہوئے یہ دیکھنا ہوگا کہ پہلے متاثرہ افراد کی شرح 10 فیصد تھی، اب لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعدیہ شرح کتنی بڑھے گی۔اگر ریڈ لائن عبور نہیں کیا جارہا تو ٹھیک ورنہ ان فیصلوں پر نظرثانی کرنی ہوگی۔کورونا ٹیسٹنگ صلاحیت ابھی اتنی نہیں بڑھائی گئی جتنی بڑھنی چاہیے،محدود ٹیسٹنگ کے باوجود صرف خیبرپختونخوا میں پانچ ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں،سب سے زیادہ اموات بھی خیبرپختونخوا ہی میں ہورہی ہیں،آج بھی ایسے لوگ ہیں جن میں علامات موجود ہیں لیکن ہسپتال جانا نہیں چاہتے کیا ہمارے پاس انکے لئے کوئی پلان ہے؟اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ جس طرح دہشتگردی کے جنگ کے وقت بحران کے بعد کے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے ضروریات کا اندازہ لگایا گیا تھا،آج ایک بار پھر مرکزی و صوبائی حکومتوں کو یہ تجزیہ کرنیکی ضرورت ہے۔انہوں نے کورونا وائرس کے خلاف لڑنے والے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز،ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف، ایمبولینس ڈرائیور سے لے کر ہسپتال کے چوکیدار تک کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کورونا کے حوالے سے آج حالات قدرے قابو میں ہیں لیکن ہم اپنے ڈاکٹرز کے نہیں سن رہے، خدانخواستہ حالات یورپ اور امریکا جیسے ہوئے تو اس مشکل سے جان چھڑانا مشکل ہوگا۔جب سندھ کے ڈاکٹرز کہتے ہیں، ہم انہیں کیوں نہیں سنتے، پنجاب، خیبرپختونخوا کے ڈاکٹرز ہمیں کچھ بتارہے ہیں لیکن ہم سننے کو تیار نہیں۔ یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں ہر 10ہزار افراد کیلئے 30فزیشن، ہمارے 10سے بھی کم،وہاں 81نرسز، ہمارے پانچ سے بھی کم، ترقی یافتہ ممالک میں 55ہسپتال بیڈز جبکہ ہمارے ہاں صرف چھ موجود ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -