کرونا نے پوری دنیا کا نظام زندگی تہہ وبالا کیا،ہوٹل مالکان

کرونا نے پوری دنیا کا نظام زندگی تہہ وبالا کیا،ہوٹل مالکان

  

پشاور (سٹی رپورٹر)کورونا وائرس نے جہاں پوری دنیا میں نظام زندگی کو تہہ و بالاکیا ہو اہے وہاں سیاحت کے شعبے کو بھی شدید نقصانات سے دوچار کردیا ہے۔خیبر پختونخو اکے شمالی ضلع چترال میں آباد کیلاش قبیلے کے سالانہ تہوار کی رنگینیاں بھی کورونا وائرس کی نذرہوگئی جس کی وجہ سے علاقے میں سیاحت اور خصوصی طور پر ہوٹلنگ کے شعبے کو بدترین مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ہے واضح رہے کہ اس سال کیلاش قبیلے کے ایک تہوار چیلم جوش کا انعقاد ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب دنیا کورونا وائرس کی یلغار کی وجہ سے بندشوں کا سامان کر رہا ہے۔ جس کے آثرات سے کیلاش قبیلے کا تہوار چیلم جوش بھی محفوظ نہ رہ سکا اور گزشتہ سال کے مقابلے میں علاقے میں خوف کے سائے میں تہوار محدود پیمانے پر منایا جائیگا۔کیلاش وادی میں قائم تقریبا چھوٹے بڑے چالیس ہوٹل مالکان جن کو کیلاش قبیلے کے تہواروں کا بے چینی سے انتظار رہتا ہے نے اس صورتحال پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقامی ہوٹل مالک نے بتایا کہ گزشتہ سال ہزاروں سیاحوں نے چیلم جوش کے موقع پر کیلاش ویلی کا رخ کیا تھا جس کے نتیجے میں وادی کے تمام ہوٹل ہاوس فل کا بورڈ لگانے پر مجبور ہوئے تھے، لیکن اس سال وادی کے سارے ہوٹلوں پر مایوسیوں کے گہرے بادل چھائے رہے۔کیلاش کے ایک مقامی شخص یاسر عرفات نے میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ سال ہوٹلوں جگہ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مقامی کمیونٹی کو بھی مالی فوائد حاصل کرنیکا موقع ملا تھا،کیونکہ بہت سارے سیاح مقامی لوگوں کے گھروں میں پے انگ گیسٹ کے طور پر قیام کر رہے تھے، جس کی وجہ سے وادی میں معاشی سرگرمیوں کو خوب فروغ ملا تھا۔دوطرف چلم جوش کے محدود پیمانے پر انعقاد سے ضلع چترال کے مرکزی شہر چترال سٹی میں بھی قائم ہوٹل شدید متاثر ہونگیں جو اس دفعہ ماضی کے برعکس چیلم جوش کے لئے آنے والے سیاحوں کی میزبانی سے محروم رہیں گئے۔واضح رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاو کے خطرے کے پیش نظر ضلع چترال کی انتظامیہ نے دفعہ 144کے تحت غیر مقامی افراد کے چترال میں داخلے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ جس کے منفی آثرات سے وادی کیلاش کی تہوات چیلم جوش بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔یاد رہے کہ چترال میں صدیوں سے آباد کیلاش قبیلے کے سالانہ تہواروں کے مواقع پر غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد کے ساتھ اندرون ملک سے بھی ہزاروں سیاح وادی کیلاش کا رخ کرتے ہیں ِ َ۔بڑی تعداد میں سیاحوں کی چترال سٹی آمد سے نہ صرف وادی کیلاش کے لوگوں کو اقتصادی فوائد حاصل ہوتے ہیں بلکہ مجموعی طور چترال کے کاروباری طبقے کو بھی ثمرات سے مستفید ہونے کے مواقع ملتے رہتے تھے جو کہ اس سال میسر نہیں ہونگیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -