وفاقی اور صوبائی حکومت گٹھ جوڑ میں مصروف، عوام اور سیاسی جماعتیں ایک پیج پر: وسیم اخر

وفاقی اور صوبائی حکومت گٹھ جوڑ میں مصروف، عوام اور سیاسی جماعتیں ایک پیج پر: ...

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کراچی میں مشکل میں ہے کراچی کے ہسپتال جو غریبوں اور ناداروں کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرتے ہیں انہیں نظر انداز کیا جارہا ہے وفاقی اور صوبائی حکومت آپس میں سیاست کررہی ہیں جبکہ کراچی کے تمام لوگ اور سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہیں۔ یہ بات انہوں نے کراچی انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی سینٹر فیڈرل بی ایریا میں دعا فاؤنڈیشن کی جانب سے ہسپتال کے لیے دی گئی اشیاء کی وصولی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن‘ سینئر ڈائریکٹر کوآرڈی نیشن مسعود عالم‘ سابق ٹاؤن ناظم فاروق نعمت اللہ‘ ڈاکٹر فیاض عالم اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ میئر کراچی نے کہا کہ شہریوں کا کام ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وباء سے بچاؤ کے لیے آگے آئیں اور شہری حکومت کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ استطاعت سے زیادہ کام کیا جائے اور کراچی میں قائم این جی اوز اگر آگے آکر کام کریں گی تو ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے۔ کراچی پورے ملک کی ضرورت پوری کرتا ہے اس وقت کراچی کو اور اس کے لوگوں کو مدد کی ضرورت ہے۔کے ایم سی کے ہسپتالوں کو نظر انداز کرنا اور انہیں فعال نہ کرنے کی پالیسی سمجھ سے بالا تر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے ہسپتالوں کو پہلے حق ملنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ میئر کراچی نے کہا کہ انہوں نے پرائیویٹ ہسپتالوں کے مالکان اور CEOکو بلا کر ایک میٹنگ کی جس میں ان سے درخواست کی کہ وہ ہماری مدد کریں اور ہمیں کٹس فراہم کریں تاکہ ہم اپنی لیبارٹریوں میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن نے کے ایم سی کی لیبارٹری کو اپ گریڈ کرنے کے لیے 10لاکھ روپے فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی سیاسی لڑائی سے کراچی کے لوگ مشکل میں ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ میئر کراچی نے کہا کہ انہوں نے NDMAکے چیئرمین سے بھی درخواست کی کہ وہ ہمیں کٹس فراہم کریں اور کورونا وائرس کے حوالے سے کے ایم سی کے ہسپتالوں سے جو خدمات دی جا سکتی ہیں اس کے لیے کے ایم سی تیار ہے۔ میئر کراچی نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی نرمی سے خدشہ ہے کہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوجائے گا۔ تاجروں‘ صنعتکاروں‘ چھوٹے دکانداروں اور شہریوں کے بے حد اصرار پر لاک ڈاؤن نرم کیا گیا ہے اور اب ان کا یہ فرض ہے کہ وہ تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، سماجی فاصلے کو برقرار رکھیں تاکہ کاروبار اسی طرح کھلا رہے اور لوگوں کی روز مرہ زندگی معمول پر آئے۔میئر کراچی نے کہا کہ ہم سیاست سے بالا تر ہو کر کام کررہے ہیں اور کورونا وائرس کی وباء میں صرف خدمت خلق کا جذبہ پیش نظر ہے۔ ہمیں اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ کون سی سیاسی جماعت شہریوں کی مدد کے لیے ہم سے تعاون کررہی ہے۔ اس لیے کہ اس وقت شہر اور شہریوں کی زندگی مقدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کے لیے بہت وقت پڑا ہے میں صوبائی اور وفاقی حکومت سے درخواست کروں گا کہ وہ سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس وباء سے شہریوں کو بچانے کے لیے اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ عباسی شہید ہسپتال کراچی کا تیسرا بڑ اہسپتال ہے لیکن کے ایم سی اپنے وسائل سے اس ہسپتال کو نہیں چلا پا رہی۔ اس لیے مخیر حضرات اور ادارے اس ہسپتال کو چلانے کے لیے سامنے آئیں اور ادارے کی مدد کریں۔ میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی کے چار ہسپتالوں میں فلٹر کلینک بنائے گئے ہیں اور اب کورونا وائرس کا ٹیسٹ بھی کے ایم سی کی لیبارٹری میں مفت کیا جائے گا۔ اس موقع پر ڈاکٹر فیاض عالم اور سینئر ڈائریکٹر میڈیکل سروسز ڈاکٹر سلمیٰ کوثر نے بھی خطاب کیا۔

مزید :

صفحہ اول -