سوچ چوہدری اور امید بر آ ڈونکی راجہ

سوچ چوہدری اور امید بر آ ڈونکی راجہ

  

چوہدری نیاز تارڑ ڈی پی او آفس کے احاطہ میں پہنچے تو سلام لینے اور اپنا چہرہ دکھانے کے لئے ارد گرد موجود افراد کی چوہدری صاحب کی جانب دوڑ لگ گئی ؛ چوہدری صاحب سلام دعا کرتے کرتے چہرے پر مسکراہٹ سجائے دفتر کے اندر چلے گئے اور باہر کھڑےافراد چوہدری صاحب کی تعریفوں کے پُل باندھنے کے لئے چہہ مگوئیاں کرنے لگے. کوئی کہہ رہا تھا کہ چوہدری صاحب بہت دلیر انسان ہیں 5 قتل کر کے بھی باعزت بری ہو گئے اور کچھ کہہ رہے تھے کہ چوہدری صاحب ہمیشہ الیکشن میں مخالف امیدوار کا جینا حرام کردیتے ہیں اس لئے ہر کوئی سوچ سمجھ کر چوہدری صاحب کے مقابل کھڑا ہوتا ہے کوئی کہہ رہا تھا کہ چوہدری صاحب بہت نیک دلانسان ہیں مجھ پر ایک مشکل آ گئی تھی اور چوہدری صاحب نے میرا مسئلہ حل کروا دیا تھا دوسرے نے پوچھا کیا مشکل آئی تھی تواس نے بتایا ایک ڈکیتی کے چکر میں میرا بھائی حوالات بند ہو گیا اور چوہدری صاحب نے تھانیدار سے لین دین کروا کر میرے بھائیکو بے قصور کروا لیا تھا -

چوہدری صاحب جب ڈی پی او آفس میں داخل ہوئے تو ڈی پی او صاحب نے اپنی کُرسی سے کھڑے ہوکر ہاتھ ملانے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا اور اپنے ساتھ والے صوفہ پر بیٹھنے کے لئے ہاتھ کے اشارہ سے تشریف آوری کی درخواست کی۔ اس دوران ایک سائل اپنی جائیداد کے لین دین کے مسئلہ میں ثبوت کے طور پر ایک موٹی سے فائل کی ورق گردانی کرتےہوئے اپنی حقِ ملکیت ہونے کو ثابت کر رہا تھا مگر اس دوران چوہدری صاحب کی ہلکی سی کھانسی کا اشارہ سمجھ کر فورًا سائل کو قدرے مشکوک الفاظ کی مد میں تنقید کر تے ہوئے اور دیگر چند سخت سوالات کے تبادلہ جات کے بعد مخالف پارٹی کو مظلوم بنانےکی کوششیں شروع کر دیں اور پھر آدھ گھنٹہ میں ہی تمام توپوں کا رخ ایک طرف ہونے کی وجہ سے مظلوم سے ملزم اور ملزم سےمعصوم بن کردونوں پارٹیاں وہاں سے روانہ ہو گئیں ۔ اور جاتے ہوئے سائل پارٹی کو اس تجربہ کی مد میں کئی نصیحتیں مل گئیں کہ الیکشن ہوں یا کہ دیگر دنیا داری کے معاملات ہمیشہ علاقہ کے وڈیرے یا چوہدری یا بدنامی و بدمعاشی میں اپنی مٽال آپ ہونےوالے افراد سے اچھے تعلقات استوار کرنا ہوں گے۔

یہ واقعہ باقائدہ کسی محصوص ڈی پی او صاحب سے جُڑا نہیں بلکہ یہ کہانی ہراس محکمہ ، دفتر اور کمرہ انصاف کا ہے جہاں پاکستان میں موجودہ جمہوری نظام کی وجہ سے تمام شہری ان تمام معاملات پر عمل پیراہونے کو جزو لازم سمجھتے ہیں اور ہر کوئی ملازم و آفیسر حتٰی کہ چوہدری صاحب بھی نا چاہتے ہوئے بھی اس پر عمل پیرا ہونے کی ہرممکن کوشش کرتے ہیں کیونکہ اگر چوہدری نیاز تارڑ ایک شریف النفس انسان بن جائیں گے تو ایک دن وہ بھی سائل والی کرسی پربراجمان ہو کر آخر میں ناکام لوٹیں گے اور اگر افسرِ اعلٰی چوہدری صاحب کی حکم عدلی کریں گے تو ان کی نوکری اور عہدہ کو خطرہلاحق ہو گا یا ان کو موجودہ عہدہ یا جگہ سے ہٹا کر کسی ایسی جگہ تعینات کر دیا جائے گا جہاں دورانِ نوکری شام کے وقت تک ان کیحالت اس مزدور جیسی ہو جائےگی جو پورا دن کسی فیکٹری میں دن بھر محنت مشقت کر کے شام کے وقت گھر لوٹتے ہی تھکا ہاراٹھیک طرع سے کھانا بھی نہیں کھا سکتا ۔ اس لئے اگر ہم سب کو اس معاشرہ میں آرام اور عزت والی زندگی گزارنی ہے تو چوہدری صاحب یا افسرِ اعلٰی جیسا رویہ یا دفتر سے باہر چوہدری صاحب سے ہاتھ ملانے یا سلام کرنے والی عوام کا حصہ بننا پڑے گا یاپھر کسی انسانی سمگلر کو پیسے دے کر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر بیرونِ ملک فرار ہونے کی کوشش کرنی ہو گی ۔ کیونکہ اس ملک کا نظامبدلنے والے کو ڈونکی کنگ ؛ بیوقوف یا پاگل گردانا جاتا ہے ۔ اور اچھے اعلٰی افسران کو اپنے خاندان یا زندگی سے ہاتھ دھونا پڑ سکتاہے یا اچھے عدالتی فیصلے کرنے والے کو اس کی اوقات میں رہنے کی تنقید کی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ سڑکوں اور مجمع میں تذلیل کیجاتی ہے ۔

پاکستان کے موجودہ نظام میں تبدیلی اس وقت تک نہیں آ سکتی جب تک اس ملک میں بسنے والی عوام اپنی ذاتیات سے ہٹ کراپنے معاشرے میں بہتری لانے کی سوچ رکھتے ہوئے اس کا باقائدہ طور پر عملی مظاہرہ نہیں کرے گی ۔ اور معاشرہ صرف اپنی برادری یا گاؤں و قصبہ یا شہر تک محدود نہیں ہو نا چاہئے بلکہ پورے ملک کی عوام کو اخوت کے دائرے میں لانے کی نیت سے یکجان ہونا ہو گا ۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -