امریکہ میں بھی غیرملکیوں کیلئے نئی پریشانی، لاکھوں افراد کے جلد اپنے وطن واپس لوٹنے کا امکان بڑھ گیا کیونکہ ۔۔۔

امریکہ میں بھی غیرملکیوں کیلئے نئی پریشانی، لاکھوں افراد کے جلد اپنے وطن ...
امریکہ میں بھی غیرملکیوں کیلئے نئی پریشانی، لاکھوں افراد کے جلد اپنے وطن واپس لوٹنے کا امکان بڑھ گیا کیونکہ ۔۔۔

  

نیویارک (ویب ڈیسک) امریکی صدر ٹرمپ کی امیگریشن مخالف پالیسی، اقدامات، معیشت کی تباہی اور بیروزگاری کی بلند شرح کے باعث اس بات کاامکان بڑھ گیاہے کہ امریکا میں عارضی ورک ویزا H-1B پر امریکا آکر کام کرنے والے افرادکو اپنے آبائی ممالک واپس آنا پڑے۔

ایک اندازے کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ غیر ملکی افراد اس عارضی ورک ویزا پر کمپیوٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی اوردیگر شعبوں میں اپنی خصوصی مہارت کے کام کررہے ہیںا ن پانچ لاکھ افراد کا 70 فیصدبھارتی شہری ہیں۔ کورونا وائرس کے باعث وضع کردہ رولز کے مطابق H-1B ویزا ہولڈرز ملازمت سے لے آف (LAYOFF) ہونے کی صورت میں امریکی شہری کی طرح بیروزگاری الاﺅنس اور ایسی مراعات کے اہل نہیں ہیں۔ امریکی اخبار ”نیویارک ٹائمز“ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس تجویز پر بھی غور کررہی ہے کہ کوررونا کے باعث بیروزگار ہونے والے ایچ ون بی ویزا ہولڈرز اگر ایک معینہ مدت میں اپنی موجودہ مہارت کی جاب حاصل نہ کرپائیں تو انہیںواپس اپنے آبائی وطن جانے کیلئے کہہ دیا جائے اور تعمیل نہ کرنے کی صورت میں ڈیپورٹ کردیا جائے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے اس بارے میں بھی ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے کی توقع کی جارہی ہے۔صدر ٹرمپ کے اس اقدام سے بھارت، امریکا تعلقات پر بھی اثر پڑےگا۔ اس سلسلے میں امریکی میڈیا میں خبروں کی اشاعت نے امریکا میں بھارتی کمیونٹی میں سخت پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس عارضی و رک ویزا پر پاکستانی بھی کام کررہے ہیں مگر بھارتیوں کے مقابلے میں ان کی تعداد بہت کم ہے۔ صدر ٹرمپ کی اس سخت پالیسی کا مقصد امریکی شہریوں کی بیروزگاری کو کم کرنا ہے فی الوقت امریکا میں بیروزگاری کی شرح 14.7 فیصد ہے لیکن ماہرین بیروزگاری کی شرح 20 فیصد تک پہنچنے کے امکانات بیان کررہے ہیں۔

ادھر صدر ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کے چار امریکی سینیٹروں نے صدر کے نام ایک مشترکہ تفصیلی خط 7 مئی کو لکھا ہے جس میں امریکی شہریوں کیلئے روزگار کی فراہمی کو ترجیح دینے کیلئے اقدامات پر زور دیا ہے۔ اس خط سے اندازہ ہوتاہے کہ امریکا میں صدارت اور کانگریس کے انتخابات کی سیاسی ضرورت کے تقاضوں کاکتنا بوجھ ہے۔ H-1B ویزا ہولڈرز کے بارے میں سخت اقدامات پر غور کے علاوہ امریکی یونیورسٹیوں میں تعلیم مکمل کرنے و الے طلبہ کو جو آپشنل پریکٹکل ٹریننگ پروگرام کے تحت غیر ملکی گریجویٹس کو کام کرنے کی جو سہولت حاصل ہے اسے بھی ختم کرنے کی تجویز ٹرمپ انتظامیہ کے زیر غور ہے جس سے دو لاکھ 20 ہزار فارن گریجویٹس بھی متاثر ہوں گے۔

ری پبلکن سینیٹروںکی جانب سے صدر ٹرمپ کو لکھے گئے خط سے جہاں ری پبلکن پارٹی کی جانب سے صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کی حمایت ظاہر ہوتی ہے وہاں اپنی پارٹی کی جانب سے صدر ٹرمپ پر ”ڈومور“ کے لئے دباﺅ بھی ظاہر ہوتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -