کورونا وائرس کے بعد اب ٹوائلٹ کے ڈیزائن میں کیا تبدیلی آئے گی؟

کورونا وائرس کے بعد اب ٹوائلٹ کے ڈیزائن میں کیا تبدیلی آئے گی؟
کورونا وائرس کے بعد اب ٹوائلٹ کے ڈیزائن میں کیا تبدیلی آئے گی؟

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی وباءنے انسانوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دی ہیں۔ ماہرین پیش گوئی کر رہے ہیں کہ اس وباءکی وجہ سے لوگوں کے رویوں سے لے کر رہن سہن تک پر بہت زیادہ اثر پڑے گا اور ان میں تبدیلی آئے گی۔ اب رہن سہن کے حوالے سے امریکہ میں ایک بڑی تبدیلی کی بات شروع ہو گئی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق امریکہ میں پبلک ٹوائلٹس کو از سرنو ایسے طریقے سے بنانے کی بات چل نکلی ہے کہ ان کے ذریعے کورونا وائرس یا دیگر اقسام کے وائرسز نہ پھیلنے پائیں۔ موجودہ ٹوائلٹس میں جب رفع حاجت کے بعد فلش کیا جاتا ہے کہ ان سے ہوا کا ایک بھبھوکا نکلتا ہے اور یہ ہوا پورے ٹوائلٹ، حتیٰ کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پورے ریسٹ روم میں پھیل جاتی ہے۔

چونکہ کئی تحقیقات میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ لوگوں کے پاخانے میں بھی کورونا وائرس موجود ہوتا ہے لہٰذا اس ہوا میں شامل پانی کے نظر نہ آنے والے قطروں میں کورونا وائرس بھی موجود ہو سکتا ہے اور پبلک ٹوائلٹس میں کی جانے والی ایک تحقیق میں اس کی تصدیق بھی ہو چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس ریسٹ روم میں آنے والے دیگر لوگوں میں سانس کے ذریعے داخل ہونے کا غالب امکان ہوتا ہے چنانچہ ٹوائلٹس کو ’ری ڈیزائن‘ کیا جانا چاہیے۔ ’امریکن ریسٹ روم ایسوسی ایشن‘ بھی ٹوائلٹس کو ری ڈیزائن کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ہمیں سنگل پرسن، جینڈر نیوٹرل باتھ رومز بنانے چاہئیں اور کموڈز پر ایسے ڈھکن لگانے چاہئیں جو فلش کرتے وقت ہوا کو باہر جانے سے روکیں۔ ان تبدیلیوں کے پیش نظر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں امریکہ کے ریسٹ رومز یکسر مختلف ڈیزائن میں بنائے جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق کمپنیاں اور سکول بھی ایسی ٹیکنالوجی پر غور کر رہے ہیں کہ ایسے کموڈ بنائے جائیں جن کے ہینڈل کو ہاتھ لگائے بغیر فلش کیا جا سکے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -کورونا وائرس -