ریپ کا مجرم جسے جیل میں ڈالا گیا تو وہاں بھی باز نہ آیا، ایک کے بعد دوسری ملازمہ کو نشانہ بنانے لگا

ریپ کا مجرم جسے جیل میں ڈالا گیا تو وہاں بھی باز نہ آیا، ایک کے بعد دوسری ...
ریپ کا مجرم جسے جیل میں ڈالا گیا تو وہاں بھی باز نہ آیا، ایک کے بعد دوسری ملازمہ کو نشانہ بنانے لگا

  

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کے بدترین جنسی درندوں میں سے ایک گزشتہ روز 40سال قید کاٹنے کے بعد جیل میں ہی موت کے گھاٹ اتر گیا۔ ڈیلی سٹار کے مطابق اس شخص کا نام پاﺅل سٹیفن تھا جسے بے شمار خواتین کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کے جرم میں قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن اس شخص نے جیل جا کر بھی اپنی مذموم حرکات جاری رکھیں۔اسے آسٹریلیا کی کیسوارینا جیل میں گزشتہ 15سال سے قید تنہائی میں رکھا جا رہا تھا کیونکہ اس نے جیل کی ایک خاتون ٹیوٹر کو چاقو کی نوک پر اپنے سیل میں مغوی رکھ لیا تھا اور اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بناڈالا تھا۔ جیل گارڈز نے بمشکل خاتون ٹیوٹر کو اس کے چنگل سے بازیاب کرایا تھا۔

اس سے پہلے اس نے 1992ءمیں جیل کی ایک خاتون ملازم کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناڈالا تھا اور 1986ءمیں اس نے جیل کی ماہر نفسیات خاتون پر جنسی حملہ کر دیا تھا۔ 1979ءمیں اسے ایک رات کے لیے کام کی غرض سے جیل سے باہر نکالا گیا اور اس نے باہر جاتے ہی ایک خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔ 1984ءمیں یہ ایک بار جیل سے بھاگ گیا اور قحبہ خانے جا کر اس نے دو جسم فروش عورت کے ساتھ جنسی زیادتی کر ڈالی۔رپورٹ کے مطابق پاﺅل سٹیفن نے 1977ءمیں محض 17سال کی عمر میں ایک نرس کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جس پر اسے پہلی بار قید کی سزا ہوئی تھی۔

مزید :

بین الاقوامی -