پاکستان کے سب سے شرمناک جرم میں سزا پانیوالے کو عدالت نے رہا کردیا

پاکستان کے سب سے شرمناک جرم میں سزا پانیوالے کو عدالت نے رہا کردیا
پاکستان کے سب سے شرمناک جرم میں سزا پانیوالے کو عدالت نے رہا کردیا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان میں چائلڈ پورنو گرافی کے پہلے قیدی کی سزا معطل کردی، عدالت نے سات سال قید پانے والے مجرم سعادت امین عرف انکل منٹو کی سزا معطل کرتے ہوئے اسے اپیل کے فیصلے تک رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

انگریزی جریدے "ڈان" کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے مجرم کی سزامعطلی کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے رانا ندیم احمد ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ چائلڈ پونی گرافی کا جرم پاکستان میں سرزد نہیں ہوا جبکہ مدعی ناروے کا شہری ہے, تحقیقاتی ایجنسی مبینہ طورپر ناروے میں موجود ایجنٹ کو گرفتار کرنے یا تفتیش میں بھی ناکام رہی ، ملزم کی طرف سے بیرون ملک سے وصو ل کردہ رقم چائلڈ پورنوگرافی کے بدلے میں نہیں تھی ۔موقف میں عدالت کو بتایا گیا کہ سائبر کرائم کورٹ نے ملزم سعادت امین عرف انکل منٹو کو سات سال قید کی سزا سنائی اور 2017 سے وہ سزا بھگت رہے ہیں تاہم کیس کیخلاف اپیل پر تاحال فیصلہ نہیں ہوسکا، عدالت سے درخواست ہے کہ وہ سزا کو معطل کرتے ہوئے ضمانت پر رہائی کا حکم دے کیونکہ وہ ضمانتی بانڈز جمع کرانے پر تیار ہیں، ملزم کے وکیل کی درخواست پر سماعت کے بعد جسٹس فاروق حیدر نے سزا معطل کرتے ہوئے ملزم کو دو دو لاکھ کے دوبانڈز جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیدیا۔

یاد رہے کہ اپریل 2018 میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے سرگودھا کے سعادت امین کو   سات سال قید کی سزا سنائی تھی اور الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کے تحت بارہ لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا تھا، پراسیکیوشن کی طرف سے بتایا گیا کہ ملزم پاکستان سے آپریٹ ہونیوالے نیٹ ورک کا فعال کارندہ تھا ، وہ دس سے بارہ سالہ بچوں کا استحصال کرتا اور اس کی قابل اعتراض تصاویرو ویڈیوز بناتا اور پھر پیسوں کی خاطر استعمال میں لاتا۔ یہ بھی بتایا گیا تھاکہ ملزم کے قبضے سے ساڑھے چھ لاکھ سے زائد تصاویر و ویڈیوز برآمد کی گئیں۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -جرم و انصاف -