وزیر اعظم نے اپنے کتے کے نام پر ۔۔۔۔سینیٹر مشاہد اللہ خان نے ایسی بات کہہ دی کہ تحریک انصاف کے ورکرز غصے سے آگ بگولہ ہو جائیں گے

وزیر اعظم نے اپنے کتے کے نام پر ۔۔۔۔سینیٹر مشاہد اللہ خان نے ایسی بات کہہ دی ...
وزیر اعظم نے اپنے کتے کے نام پر ۔۔۔۔سینیٹر مشاہد اللہ خان نے ایسی بات کہہ دی کہ تحریک انصاف کے ورکرز غصے سے آگ بگولہ ہو جائیں گے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینئر رہنما سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ  کسی جگہ حکومت نظر نہیں آرہی، حکومت خود اشرافیہ ہے،وزیر اعظم نے اپنے کتے کے نام پر ٹائیگر فورس بنا دی، ملک میں کرونا کی وبا پھیلی ہے اور یہ سندھ میں لوہا منوانے کی بات کررہے ہیں،آپ ایمپائر کی انگلی کے باوجود پنجاب میں ہارے پھر پنجاب میں کون سا لوہا منوایا ہے؟چھ وزیروں نے قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کی کوشش کی،حکومت شہبازشریف، بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان سے بات کریں، انہیں بلائیں،وہ آپ کا ساتھ دیں گے۔

سینیٹ اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ پوری دنیا کرونا کی وبا کی لپیٹ میں ہے،وقت کے ساتھ معلوم ہوگا کہ کرونا وائرس قدرتی ہے یا انسان کا بنایا ہوا ہے؟دنیا میں کرونا سے تین لاکھ لوگ ہلاک ہوچکے ہیں،ڈاکٹر اپنی جان خطرے میں ڈال کر لوگوں کا علاج کررہے ہیں، اصل سوال ہے یہ ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹ کا کورونا بحران میں کیا کام ہے؟موجودہ صورتحال میں پارلیمنٹ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے،دو ماہ بعد پارلیمنٹ کا اجلاس ہورہا ہے،حکومت کو خود قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس بلانا چاہیے تھا،قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس اپوزیشن کی ریکوزیشن پر ہورہے ہیں،ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر الزام لگایا ہے کہ یہ چائنا وائرس ہے،چینی وزیرخارجہ نے امریکہ کو سخت جواب دیا،اب تو کرونا کے بارے بچے بچے کو معلوم ہوچکا ہے، وزیراعظم ملک کا سب سے ذمے دار آدمی ہے، کیا وزیراعظم نے اپنی ذمہ داری نبھائی؟ وزیراعظم نے ذمہ داری نہیں نبھائی، وزیراعظم اجلاس میں نہیں آئے،وہ کیا کر رہے ہیں پتا تو لگے؟ کہتے ہیں کہ قائد حزب اختلاف نہیں آرہے، قائد حزب اختلاف کو جو مسئلہ ہے وہ شکر ہے وزیراعظم کو نہیں ہے، کہتے ہیں سیاست نہ کرو، جیسے سیاست گالی ہے، سیاست نہ کرو جو کہتے ہیں وہ اپنے آپ کو گالی دیتے ہیں،ہم تو سیاست کریں گے، یہ ہمارا کام ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کسی جگہ حکومت نظر نہیں آرہی ہے، غریبوں کو راشن فلاحی تنظیمیں دے رہی ہیں،وفاقی حکومت کو کرونا پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے تھا،حکومت نے شہبازشریف، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان کے تعاون  کے بیان کو ٹھکرا دیا،اپنے کتے کے نام پر ٹائیگر فورس بنا دی گئی،لاک ڈاؤن کے بارے یونیفارم پالیسی ہونی چاہیے تھی،وسیم اکرم پلس نے پنجاب میں وزیراعظم کے فیصلوں کے برعکس فیصلے کیے،وزیراعظم نے لاک ڈاؤن کے حوالے سے کس اشرافیہ کی بات کی۔

سینیٹر مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ پالیسی یکساں ہونی چاہیے، آپ ایک اعلان کرتے ہیں اور آپ کے وزرائے اعلیٰ برعکس اقدمات کرتے ہیں،آپ کہتے ہیں اشرافیہ نے لاک ڈاؤن کیا، آپ کس کو اشرافیہ کہہ رہے ہیں؟ یہ کہنا بے بسی کی انتہا ہے، حکومت خود اشرافیہ ہے، کیا کابینہ میں موجود لوگ اشرافیہ سے تعلق نہیں رکھتے؟ کورونا بحران کے دوران ہی چینی گندم کیاسکینڈل آرہے ہیں جس میں حکومت کے لوگ ملوث ہیں، وباپھیلی ہے اور آپ کرپشن میں لگے ہیں، رمضان میں تو کرپشن چھوڑ دیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت قومی اتفاق رائے پیدا کرے، کل کشمیر کمیٹی کا چیئرمین منتخب ہوا، 13 لوگوں نے واک آوٹ کیا،پاکستان کی تاریخ میں کبھی کشمیر کمیٹی سے واک آوٹ نہیں ہوا،شہبازشریف، بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان سے بات کریں، انہیں بلائیں، وہ آپ کا ساتھ دیں گے،ملک میں کرونا کی وبا پھیلی ہے اور یہ سندھ میں لوہا منوانے کی بات کررہے ہیں، آپ ایمپائر کی انگلی کے باوجود پنجاب میں ہارے پھر پنجاب میں کون سا لوہا منوایا ہے ؟ ختم نبوتﷺصرف پاکستان کا نہیں پورے عالم اسلام کا مسئلہ ہے،ختم نبوتﷺ پر ایمان کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوتا،ہم وہ کردار ادا نہیں کرنا چاہتے جو پی ٹی آئی نے ہمارے خلاف کیا،نوازشریف پر جوتا پھینکا گیا، وزیر داخلہ کو گولی ماری گئی اور وزیرخارجہ پر سیاہی پھینکی گئی،پوری دنیا میں قادیانی پاکستان کے خلاف سر گرم ہیں،کیا قادیانیوں نے کبھی کشمیر اور فلسطین میں ہونے والے مظالم کی بات کی،دنیا بھر میں مظالم کرنے والے قادیانیوں کو کیوں تحفظ فراہم کرتے ہیں؟چھ وزیروں نے قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کی کوشش کی،حکومت قادیانیوں کو نہیں کلمے کو وزن دے اور آگ میں نہ کودے۔

مزید :

قومی -