ہمیں کامیاب بننا ہے یا غلام۔۔۔؟؟

ہمیں کامیاب بننا ہے یا غلام۔۔۔؟؟
ہمیں کامیاب بننا ہے یا غلام۔۔۔؟؟

  

ایک لا طینی کہاوت ہے "اگر تم اپنی زندگی بدلنا چاہتےہو تو سب سے پہلے تمہیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا! "

انسان کی امیری یا دولت کا تعلق اس کے وسائل اور دستیاب پیسے سے نہیں ہوتا بلکہ ایک فرد کی امیری کا تعلق اس کی سوچ سے ہوتا ہے ۔ایک نوجوان جس کا تعلق گجرات کے علاقے بانٹؤا سے تھا. یہ نوجوان تعلیم مکمل نہ کر سکا کراچی میں کپڑے کا کاروبار شروع کیا یہ کاروبار بھی فیل ہو گیا ' سوتر منڈی میں کسی نے پٹھان مزدور کو چاقو مار دیا ' مزدور کو ہسپتال پہنچانے کا بندوبست نہیں تھا `اس نوجوان نے مزدور کو ریڑھی پر ڈال کر ہسپتال پہنچایا . اس نوجوان کو آج دنیا عبدالستار ایدھی کے نام سے جانتی ہے . وہ عبدالستار ایدھی جن کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہے ایدھی صاحب کی کریڈیبلٹی کا یہ عالم تھا یہ کسی بھی سٹرک پر کھڑے ہو جاتے تو عورتیں اپنا زیور اتار کر ان کی جھولی میں ڈال دیتی مرد اپنا پرس ان کے حوالے کر دیتے .عبدالستار ایدھی کو یہ انعام اور مقام کس کی وجہ سے ملا ؟ ان کو یہ مقام صرف ان کی سوچ سے ملا اگر ایدھی صاحب بھی باقی لوگوں کی طرح بے حس ہو جاتے تو وہ اس انعام اور عزت سے مرحوم رہتے .

سوچ کا کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی میں بڑا کردار ہے اگر ہم غریب اور امیر ممالک کا موازنہ کریں تو ان میں ایک چیز مشترک ہے وہ ہے ان کی سوچ. غریب قومیں اس لئے غریب ہیں کیونکہ ان کی سوچ غریب ہے اور امیر قومیں اس لئے امیر ہیں کیونکہ کے ان کی سوچ امیر ہے .کسی جماعت کے امتحانات میں لاکھوں بچے حصہ لیتے ہیں،ان میں سے صرف تین بچے ہی پوزیشن لیتے ہیں،ان پوزیشن کے پیچھے ان بچوں کی سوچ ہے اگر یہ بچے بھی عام بچوں کی طرح سوچتے تو یہ بھی صرف پاس ہوتے پوزیشن ہولڈر نہیں.سوچ کی وسعت کا دوسرا نام برداشت ہے،جس شخص میں برداشت نہیں ہوتی اس کی سوچ کبھی وسیع نہیں ہوتی،جو شخص رحم نہیں کرتا اس کی سوچ میں وسعت نہیں آتی اور جو شخص صابر نہیں ہوتا،اس کی سوچ کبھی پختہ نہیں ہوتی،جو شخص بلا خوف و تردد سچ اور جھوٹ کی گواہی نہیں دیتا اس کی سوچ کبھی وسیع نہیں ہو سکتی ۔

اگر ہم کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سوچ بڑی کرنی ہو گی ورنہ یہ دنیا ہمیں اپنا غلام بنا لے گی اور ہم اس غلامی میں پتہ نہیں کب تک زندہ رہیں. کیوں کہ غلام صرف وقت گزارتے ہیں ان کا کامیابی اور ناکامی سے کوئی تعلق نہیں اب یہ ہم پر ہے ہمیں کامیاب بننا ہے یہ غلام.

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -