سندھ میں پانی کی قلت

سندھ میں پانی کی قلت

  

 سندھ کے تین بیراجوں گدو، سکھر اور کوٹری پر پانی کی شدید قلت ہو گئی ہے۔اس وقت پانی کا بہاؤ معمول کے بہاؤ سے 40فیصد کم بتایا جا رہا ہے۔ کوٹری، حیدرآباد بیراج پر پانی کی کمی کی وجہ سے کینجھر جھیل کو بھی فراہمی کم ہونے کا اندیشہ ہے،جس سے کراچی کو پانی کی فراہمی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ محکمہ داخلہ سندھ نے بعض مقامات پر پانی چوری کے واقعات کی وجہ سے رینجرز تعینات کرنے کا اشارہ دیا ہے، ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں میں کمی کی وجہ سے دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ اوسط سطح سے کم ہے۔ اندرون سندھ اور کراچی میں پانی کی کمی ایک مستقل مسئلہ ہے۔ سیاسی طور پر بااثر خاندان ترجیحی بنیادوں پر اپنی زمینوں کے لیے وافر مقدار میں نہری پانی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جبکہ ہاریوں کے لیے زیادہ مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ پانی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے بارش کے پانی کو محفوظ کرنا، سمندری پانی کو قابل استعمال بنانا اور ڈرپ ایری گیشن سسٹم کو اپنا نا وقت کی ضرورت ہے جبکہ استعمال شدہ پانی بھی زراعت کے لیے فلٹر کیا جاسکتا ہے۔ کراچی میں استعمال شدہ پانی ٹریٹمنٹ کے بغیر سمندر میں گرایا جارہا ہے جو آلودگی کا سبب بن رہا ہے۔پانی کی غیر قانونی فروخت کراچی میں کاروبار کی شکل اختیار کرچکی ہے، لوگ ٹینکر مافیا کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔ کراچی واٹر بورڈ گذشتہ 14 برس سے محکمہ بلدیات حکومت سندھ کے کنٹرول میں ہے لیکن مسائل پہلے سے زیادہ بڑھ چکے ہیں اور پانی کی قیمت بھی عام آدمی کی پہنچ میں نہیں رہی،حکومت کو اس پر فوری توجہ دینا اور کے 4 منصوبے کو جلد مکمل کرانا ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -