ہم (صحافی) خود کہاں کھڑے ہیں؟

 ہم (صحافی) خود کہاں کھڑے ہیں؟
 ہم (صحافی) خود کہاں کھڑے ہیں؟

  

حالات ایسے ہیں کہ بار بار نسٹلیجیا کا دورہ پڑتا ہے، آج بھی مجھے پھر سے ایک بہت پرانی محفل یاد آ رہی ہے۔ ملک کے نگران وزیراعظم ملک معراج خالد (مرحوم) پاک چین دوستی کے علمبردار تھے اور انہوں نے ایشیا اور افریقہ کے استحکام کے لئے بھی انجمن بنائی ہوئی تھی، مال روڈ کے عقب میں دیال سنگھ مینشن کے ایک فلیٹ میں ان کی رہائش اور دفتر بھی تھا۔اس دفتر میں اکثر تقریبات بھی ہوا کرتی تھیں۔یہ میرے ابتدائی رپورٹنگ کا زمانہ تھا، تب ملک معراج خالد  پیپلزپارٹی کے اہم ترین رہنما تھے،انہی دِنوں صحافت کے موضوع پر ایک مجلس میں ہفت روزہ ”چٹان“ والے شعلہ بیان مقرر اور رائٹر آغا شورش کاشمیری(مرحوم) مہمان خصوصی تھے، میں روزنامہ”امروز“ کی طرف سے کوریج کے لئے گیا تھا۔ یوں مجھے بھی آغا شورش کاشمیری کے ایک مفید تر لیکچر سننے کا موقع بھی مل گیا،انہوں نے صحافت کے حوالے سے جانبداری اور غیر جانبداری کے پہلو پر بھی اظہارِ خیال کیا،ان کے بقول صحافت میں ہر دو پہلو موجود ہیں۔رپورٹنگ کی جائے تو اس میں مکمل غیر جانبداری ہونا چاہئے۔البتہ کالم، ضمون یا تجزیہ تحریر ہوتا ہے تو اس میں غیر جانبداری ممکن نہیں،البتہ دیانت لازم ہے ان کا موقف تھا کہ جب کالم، مضمون لکھا یا تجزیہ کیا جاتا ہے تو تحریر کنندہ کے اپنے خیالات نہ ہوں تو قاری کو بات سمجھانا مشکل ہوتا ہے،اس حوالے سے انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ اس جانبداری کا یہ مطلب و مقصد قطعاً نہیں کہ کسی کی توہین کی جائے یا سوچ سمجھ کر مخالفت کی جائے،کیونکہ تحریر کنندہ کو حالات کی روشنی میں اپنی رائے دینا ہوتی ہے اور یہ لازم نہیں کہ یہ رائے سو فیصد درست بھی ہو،وہ صحافیوں کے کسی سیاسی جماعت کے ترجمان ہونے کو ناپسند کرتے تھے اور ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا صحافی بھی عام شہری ہوتے ہیں اگر وہ ملک کی کسی سیاسی جماعت کے پروگرام اور اس کے رہنماؤں کو پسند کرتے ہیں تو وہ اس سیاسی جماعت میں شمولیت کے لئے آزاد ہیں، تاہم پھر وہ آزاد صحافی نہیں  رہیں گے۔

مجھے یہ سب یوں یاد آیا کہ میں نے جب1963ء میں پیشہ ئ  صحافت اختیار کیا تو ایوب دور تھا، نیشنل پریس ٹرسٹ وجود میں آ چکا تھا اور پی پی ایل کے اخبارات بھی این پی ٹی کے زیر اہتمام تھے اور اس میں کام کرنے والے سینئراور جونیئر لوگوں میں ترقی پسندانہ نظریات کے حامل لوگوں کی اکثریت تھی،چنانچہ یہ رنگ مجھ پر بھی چڑھا، تاہم سلسلہ تعلیم مسجد سے شروع ہونے اور حضرت علامہ ابو الحسنات کی خدمت نے وہ رنگ نہ چڑھنے دیا  جس کے لئے ان ترقی پسندوں کو الزام دیا جاتا تھا۔یہ الگ بات ہے تاہم جن خیالات کا اظہار آغا شورش کاشمیری نے کیا اس سے ملتی جلتی نصیحتیں ”امروز“ کے سینئر بھی کیا کرتے تھے، مجھے یہ بھی یاد ہے کہ میرے سینئر خبر کے حوالے سے ہمیشہ اس بات کو ترجیح دیتے کہ بعض باتیں مقرر بار بار دہراتے ہیں، رپورٹر کے لئے ضروری نہیں کہ جوں کا توں لکھے اسے ترتیب ایسی رکھنا چاہئے کہ مقرر کی کی بات بھی آ جائے اور وہ دہرائی نہ جائے،پھر یہ بھی بتایا گیا کہ خبر کی تحریر خود رپورٹر کے اپنے الفاظ میں تو ہو،لیکن مقرر کی باتوں  کے مفہوم میں تبدیلی نہیں ہونا چاہئے اگر کہیں کوئی بہت اہم یا سخت الفاظ ہوں اور وہ ضبط تحریر میں لانا بھی ضروری  ہوں  تو ان کو کاموں میں اسی طرح لکھ دیا جائے، جیسا مقرر نے کہا ہو، اسی طرح مضمون اور کالم کے حوالے سے بھی کہا جاتا کہ خیالات جو بھی ہوں وہ قابل مواخذہ یعنی توہین آمیز نہیں ہونا چاہئیں۔الحمدللہ بہت سی کمزوریوں اور خامیوں کے باوجود میں نے آج تک یہ مدنظر رکھا اور پھر طویل عرصہ والی کورٹس رپورٹنگ نے بھی ازالہ حیثیت عرفی کے حوالے سے بہت کچھ سکھایا۔

اب عرض یہ کرنا ہے کہ آج کے دور میں یہ تخصیص ہی مشکل ہو گئی کہ کون کیا ہے اور کس کی  گوٹ کہاں پھنسی ہوئی ہے، الزام تراشی کی زد میں اگر یہ پیشہ ہے تو اس میں ایک حد تک حقیقت بھی ہے۔اس سے میرے جیسے لوگ پریشان ہیں، جو سب پر تنقید کر لیتے تاہم کسی کی توہین سے بہت دور رہتے ہیں کہ ہمارے لئے سبھی مقدم اور محترم ہیں، اساتذہ کی تربیت کی وجہ سے ہمیشہ یہی کوشش ہوئی ہے کہ قطعی ذاتی خیالات و تصورات تحریر پر حاوی نہ ہوں اور تنقید کرتے وقت مقصد تعمیر ہو، یا پھر حالات کی اپنے نقطہ نظر سے تشریح ہو اور ایسا بارہا کیا ہے۔اکثر دوستوں کا اعتراض بھی سہا ہے تاہم بدقسمتی سے آج کے دور میں یہ سمجھنا اگرچہ مشکل نہیں کہ ”کون کون ہے“ یا کون کیا ہے، تاہم اس کے باوجود ہمارے بھائی کسی نہ کسی سیاسی نظریے نہیں، اس جماعت سے وابستہ ہو جاتے ہیں اور ان کی تحریروں میں بھی اس جماعت کے رہنماؤں کی تقریروں کا رنگ نمایاں ہو جاتا ہے، بدقسمتی سے حالیہ دہائی سے اس عمل میں تیزی آئی ہے اور آج تو پرنٹ ہی نہیں الیکٹرونک میڈیا پر بھی ایسی زبان استعمال کی جاتی ہے جو نہ صرف اخلاق کے لحاظ سے مناسب نہیں،بلکہ صریحاً کسی ایک جماعت کی حمایت میں اسی کا طرزِ عمل ہوتا ہے۔

میں نے اور میرے اس اخبار نے ہمیشہ قومی مفاہمت کی بات کی، ہمارا موقف ہے کہ قومی مسائل اور امور پر کم از کم نکات طے کر کے سب کو ایک نقطہ نظر اختیار کرنا چاہیے، جمہوریت کا نام ہی نہ لیں اس پر روح کے مطابق عمل بھی کریں، یہ بات طے شدہ ہے کہ سیاسی استحکام ہی سے معاشی استحکام مشروط ہے،اور یہی ہمارے یہاں مفقود ہے۔ ایک اور روش جو پختہ کر دی گئی ہے وہ آئینی اداروں پر حملہ ہے جس کسی کو کسی ادارے کی کوئی بات یا فیصلہ پسند نہیں آتا، کھلے بندوں اسے برا کہا جانے لگتا ہے اور اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ جو  حضرات کسی آئینی ادارے یا اس سے منسلک معزز ارکان کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں، جب وقت پڑتا ہے تو پھر اسی ادارے کے پاس جا کر انصاف طلب کرتے ہیں،اس  سلسلے میں عدلیہ(ہر نوع کے عدالتی اختیار والی) تو ہدفِ تنقید بنتی ہی ہے لیکن اب حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ قومی سلامتی کا ادارہ بھی انتباہ پر مجبور ہو گیا ہے۔

مزید یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے 1963ء ہی سے صحافتی ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینا شروع کر دیا تھا اور الحمد للہ تمام مصائب، مسائل، بے روزگاری اور حوالات،جیل بھی ڈرا اور بھگا نہ سکی، لیکن خود میرے اپنے ہی پیشہ وار بھائیوں نے مجھے مجبور کر دیا، ایک عرصہ سے ان سرگرمیوں سے الگ ہو کر اپنے صحافتی پیشہ وارانہ فرائض ہی سرانجام دیتا ہوں، کہ آج ایک نہیں پانچ فیڈریشن ہیں اور جس کی دم اٹھائیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اللہ معاف کر دے۔

مزید :

رائے -کالم -