کچھ گمشدہ بریکنگ نیوز

 کچھ گمشدہ بریکنگ نیوز
 کچھ گمشدہ بریکنگ نیوز

  

 ملک میں موجود ہ سیاسی افراتفری اور بحران کے سبب کچھ ایسی خبریں جن کا آغاز بریکنگ نیوز سے ہوتا ہے پوری قوم کو غمزدہ کرنے اور معاشرے کو اس کی زد میں لانے کے بعد اچانک غائب ہو جاتی ہیں۔ جرائم کس ملک میں نہیں ہوتے،ترقی یافتہ معاشروں میں میڈیا   بھی دیگر شعبوں کی طرح بالغ ہو چکا ہے اور  اسی لئے ان کے ہاں خبریت کو بھی  نظام  کے تا بع رکھا گیا ہے لیکن یہاں تو ابھی نظام ہی تشکیل نہیں پا سکا ۔ ہمارے ہاں ایسی ایسی بریکنگ نیوز چل جاتی ہیں جن کی سچائی کو جانے بغیر ہی معاشرے میں پھیلا دیاجاتا ہے  یہ اس قدر خطرناک ہے جس کی سنگینی کا اندازہ  نہ تو میڈیا کے ذمہ داران کر پا رہے ہیں اور نہ ہی حکومتی سطح پر اس کی روک تھام کے لئے کوئی موثر پیش رفت ہو سکی ہے،لیکن کیا کریں کہ صرف میڈیا کو ہی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا بلکہ قانون نافذ کرنیو الے ادارے بھی تب تک حرکت میں نہیں آتے جب تک کسی جرم کی کوئی بریکنگ نیوز نہ چل جائے۔ آپ پچھلے کچھ عرصے میں ہی اس کا ایک سرسری جائزہ لیں تو آپ کو حقیقت حال کا اندازہ ہو جائے گا۔پچھلے دنوں میانوالی میں باپ کی اپنی نوزائیدہ بچی کو قتل کر دینے کی خبر نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا۔ بیٹی پیدا ہونے پر ایک تعلیم یافتہ  باپ نے اس معصوم کوموت کے گھاٹ اتار دیا اور اس کے ننھے جسم میں گولیاں اتار دیں۔بلا شبہ یہ ایک دہلا دینے والا انفرادی واقعہ ہے جس کے منطقی انجام تک اہل خبر کو اس کی  کچھ نہ کچھ اپ ڈیٹ ضرور دینی چاہئے۔ حیرت ہے کہ ہمارے سوشل میڈیا کا رویہ اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے کہ وہاں بھی اس اہم واقعے کی پیش رفت پر کہیں کچھ دکھائی نہیں دیا۔

حال ہی میں پتوکی میں پیش آنے والے واقعے نے بھی ہمارے معاشرے کی بے حسی  اور بے خوفی  کا ڈھنڈورا پیٹا جب  ایک شادی کی تقریب  کے باہر ایک پاپڑ بیچنے والے سے ہونے والے جھگڑے میں  اسے باراتیوں کی طرف سے مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اب اس واقعے کی حقیقت کیا ہے، یہ واقعہ کیوں پیش آیا اور نوبت یہاں تک کیوں پہنچی؟ اس کی تفصیل کہیں سامنے نہیں آ سکی، لیکن باراتیوں کے اس کی مردہ جسم کے پاس بیٹھے ہوئے کھانے کی ویڈیوز نے میڈیا پر انفرادی واقعے کو اجتماعی  بے حسی بنا دیا۔ایک دن تک اس کے ذمہ داران کو پکڑنے کے حوالے سے خبر چلی اور پھر غائب ہو گئی۔یقینا انصاف کا حصول کسی پاپڑ بیچنے والے کے پسماندگان کے بس کی بات تو نہیں ہو سکتی۔ زندہ معاشروں کی طرح فوری طور پر حکومتی سطح پر ایسے کیسز  کو  اپنی ذمہ داری میں لے کر اس کے انجام تک پہنچانا چاہئے۔ کراچی میں بچیوں کے اغوا کی خبریں بھی ایسی سنسنی سے پھیلائی گئیں کہ پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور ہر گھر میں ان  کی محفوظ واپسی کے لئے دعائیں کی جا نے لگیں۔ان کے ماں باپ کے ساتھ ساتھ ہر گھر میں والدین غمزدہ ہو گئے کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔وہ تو بھلا ہو اس بچی کا جس نے فورا ً ہی ویڈیو بیان جاری کر دیا  کہ وہ اپنی مرضی سے گھر والوں کو چھوڑ کر آئی ہے اور  اس نے شادی کر لی ہے۔اغوا کی خبر پھیلا دی گئی اور اب یہ خبر بھی منظر سے غائب ہو گئی ہے۔

ایسی ہی غیر ذمہ داری لاہور میں مینار پاکستان پر پیش آنے والے واقعے میں بھی بری طرح دکھائی دی جس نے ہمارے میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو عریاں کر کے رکھ دیا تھا، مگر مجال ہے کہ اس کے بعد بھی کسی نے اس پر کوئی جامعہ پالیسی یا مربوط لائحہ عمل ترتیب  دینے کی طرف پیش قدمی کی ہو یا کم از کم قوم کو ذہنی و فکری اعتبار سے  اذیت دینے پر کہیں شرمندگی کا بھی اظہار کیا ہو۔سوشل میڈیا کے دو چمکتے دمکتے ستارے بھی برق رفتاری سے وہاں پہنچے اور کیمرے کی آنکھ آن کرنے کے بعد اس کے سر پر دست شفت رکھتے ہوئے  ایک نے یہاں تک کہہ دیا کہ شکر ہے کہ میری کوئی بیٹی نہیں۔اور پھر اس خبر کا جو حال ہوا وہ سب نے دیکھا۔لیکن مجال ہے کہ میڈیا نے اس غلط بریکنگ نیوز رپورٹ پر کسی سطح پہ کوئی شرمندگی کا احساس کیا ہو جس سے من حیث القوم ہماری قومی اور بین الاقوامی سطح پر  سبکی ہوئی۔موٹر وے پر رات گئے ایک خاتون کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے بھی کئی دن تک بریکنگ نیوز کا اعزاز حاصل کیا اور دوسری خبروں کی طرح اب اس کا بھی کہیں کوئی اتا پتا نہیں۔

اسلام آباد کے پوش علاقے میں ایک امیر زادے کے گھر قیام کرنے والی اس کی دوست کے سفاکانہ قتل کی خبریں بھی بریکنگ نیو ز رہیں اورپھر کسی کو اس کے انجام کی خبر نہیں مل سکی۔بلا شبہ ایسے واقعات انفرادی طور پر  ہر معاشرے میں وقوع پذیر  ہوتے ہیں لیکن اس کی خبریت  سے یہ انفرادیت اجتماعیت میں بدل جاتی ہے،جس طرح ہم ریٹنگ لینے کے لئے واقعات کی حقیقت کو جانے بغیر اس پر چڑھ دوڑتے ہیں اور پھر مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کے بعد اس سے لاتعلق ہوجاتے ہیں یہ بھی ہمارے اجتماعی شعوری احساس کی تنزلی کا پیش خیمہ ہے۔ہمیں جرم  سے نہیں بلکہ اس کی خبریت  اور اسے بیچنے سے غرض ہے۔ذمہ دار صحافت اور معاشرے میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ہمیں بریکنگ نیوز کے مکمل بریک ہونے تک اس کا پیچھا کرنا چاہئے ورنہ ایک گمنام جرم کو اتنی تشہیر دینے پر ضمیر میں پیدا ہونے والے احساس جرم کی  صدا پر ضرور کان دھرنے چاہئیں۔

مزید :

رائے -کالم -