فوری انتخابات و ہمارے مسائل کا حل

  فوری انتخابات و ہمارے مسائل کا حل
  فوری انتخابات و ہمارے مسائل کا حل

  

 اس بارے میں کچھ لکھنا شاید الفاظ کا ضیاع ہو گا کہ ملک کی معاشی صورت حال درست نہیں ہے۔ جی ہاں ملکی معیشت بارے جو تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ ٹھیک حالت میں نہیں ہے۔ ہم انتہائی خطرناک صورت حال کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہم ڈیفالٹ کی صورت حال کا سامنا کررہے ہیں وغیرہ وغیرہ…… یہ تاثر ہی نہیں، بلکہ عملاً ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں ہے۔ ہماری معاشی ابتری، ہماری معاشی محکومی و بے چارگی مہینوں، سالوں کی ”محنت شاقہ“ کا نتیجہ ہے۔ اب حالات اس نہج تک آن پہنچے ہیں کہ عوام بلبلا اٹھے ہیں، ان میں معاشی بدحالی کے تھپیڑوں سے نمٹنے کی ہمت ہی نہیں رہی ہے۔ ہمارے پالیسی ساز 6ہزار ارب کی ٹیکس وصولیوں کے ٹارگٹ کو پورا کرنے اور پورا ہونے کی نوید سنا رہے ہیں۔ ٹیکس پر ٹیکس، ہر شے پر ٹیکس، ہر حکومت ٹیکس، زندگی پر ٹیکس اور موت پر ٹیکس۔ہماری زندگی کی ہر سرگرمی، ہماری زندگی کا ہر شعبہ ٹیکس کی زد میں ہے، جس کے باعث مہنگائی کا سونامی جاری ہے۔

اشیائے خور د و نوش کی بات ہی کیا ہے، زندگی بچانے والی ادویات، عمومی استعمال کی اشیاء بھی عام آدمی کی دسترس سے دور، بڑی تیزی سے دور ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ دوڑ دھوپ زیادہ، تیز اور ہمہ وقت جاری رکھنے کے باوجود عام شہری نانِ جوئیں کے لئے ترس رہا ہے۔ مسئلہ اشیاء و خدمات کی عدم دستیابی یا قلت نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ وہ منڈیاتی نظام ہے جو عالمی سطح پر چھایا بھی ہوا ہے اور مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام ہو چکا ہے۔ فری مارکیٹ اکانومی جس کی بنیادیں برطانیہ میں رکھی گئیں پھر امریکہ نے اس نظام کو جوان کیا۔ طاقتور بنایا اور پھر اسے دنیا پر لاگو کر دیا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ جس نے اسی نظام کے ذریعے پوری دنیا (تقریباً) پر اپنی حاکمیت اعلیٰ نافذ کر رکھی تھی۔ چین کے ہاتھوں پریشان نظر آ رہا ہے، جس نے بڑی خاموشی کے ساتھ ایک متوازی نظام تخلیق کیا اور بیلٹ اینڈ روڈ کے ذریعے دنیا کے تین براعظموں تک پھیلا بھی دیا ہے آج چین عالمی معیشت میں ایک اہم، بلکہ انتہائی اہم عامل کے طور پر اپنی اہمیت منوا چکا ہے۔ امریکی نظام معیشت، فری مارکیٹ اکانومی  کو ناکامی  کا سامنا ہے۔

ہم بھی اسی ناکام نظام معیشت سے جڑے ہوئے ہیں۔ آزاد نظام معیشت میں جکڑے ہوئے، محکموم ہیں ہم نے اپنے اخراجات کو اپنی آمدنی کے مطابق ترتیب نہیں دیا ہے۔ ہمارے وسائل کے مقابلے میں ہمارے مسائل بہت زیادہ ہیں۔ ہم اپنے اخراجات، قرضے لے کر پورے کرتے رہے ہیں۔ آج یہی قرضے ہمارے گلے پڑ چکے ہیں۔ قرض خوا عالمی ساہوکار ادارے، مارکیٹ اکانومی کے چودھری ہمارے گلے پڑے ہوئے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ و یورپ ہی نہیں مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں موجود ان کے حواری و حلیف بھی ہمارے خلاف کھڑے ہو چکے ہیں۔ عمران خان تو امریکہ کو نشانے پر بھی لے چکے ہیں۔ اپنی حکومت کے خاتمے کو امریکی سازش کے ساتھ جوڑ چکے ہیں۔

ویسے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ایشین  ڈویلپمنٹ بینک، لندن کلب، پیرس کلب وغیرہ جیسے ادارے وقتاً فوقتاً ہمارا بازو مروڑتے رہتے ہیں۔ عالمی معیشت کا حصہ ہونے کے باعث ہمیں امریکی پالیسیوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔ ہم اس حوالے سے بھی شدید دباؤ اور مخمصے کا شکار ہیں۔ ہم نے سی پیک کو اپنا قومی مفاد قرار دے دیا ہے اور ایسا کرنا بھی ہمارے قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ چین ہمارا دوست و شراکت دار ہی نہیں، بلکہ ہمارا سٹرٹیجک شراکت دار بھی ہے۔ چین بطور عالمی معاشی طاقت، امریکہ کے سامنے پورے قد کاٹھ کے ساتھ کھڑا ہو چکا ہے۔ ہمارا ازلی دشمن بھارت، امریکہ کا سٹرٹیجک پارٹنر بن چکا ہے۔ امریکہ بھارت کی چین کے مقابل حوصلہ افزائی کر رہا ہے، اسے معاشی و حربی طور پر بڑھاوا دے رہا ہے۔

اس طرح بحیثیت مجموعی ہماری پوزیشن کمزور ہوگئی ہے۔ ہماری اصل کمزوری قطعی فیصلہ سازی کا فقدان ہے۔ ہم ابھی تک یقین نہیں کر پا رہے ہیں کہ ہمارے قومی مفادات کا حصول کس طرح ممکن ہے۔ بہت سے ممالک نے امریکی مدد کے بغیر ترقی کی ہے اور کر رہے ہیں جبکہ بہت سے ممالک امریکی سپورٹ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم طویل امریکی دوستی اور معاونت کے باوجود بھی معاشی طور پر انتہائی نازک مقام تک پہنچے ہوئے ہیں۔ ہمارا تجارتی خسارہ بھی خطرناک حد تک پہنچ گیا ہے اور ہمارا اخراجات جاریہ کا کھاتا بھی عدم توازن کا شکار ہو گیا ہے۔ ہم عالمی قرضوں کے اصل زر+ سود کی ادائیگی کے ساتھ دفاعی اخراجات پورے کرنے کے بعد اپنے دیگر اخراجات پورے کرنے کے لئے قرض کے لئے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ آئی ایم ایف چند بلین ڈالر کا پیکیج دینے کے لئے ہم سے اس طرح کی شرمناک شرائط منواتا  ہے کہ الامان الحفیظ دوسری طرف امریکہ ہم سے سفارتی محاذ پر لکیریں نکلواتا ہے۔ جائز ناجائز مطالبات منواتا ہے۔ ہم امریکی اتحادی کے طور پر اس کی دو جنگوں میں براہِ راست شریک رہ کر بھی دیکھ چکے ہیں، لیکن امریکہ ہمیں آج بھی شک کی نظروں سے دیکھنا ہے۔ ہم امریکی حلیف ہونے کے فائدے بھی بھرپور انداز میں نہیں اٹھا سکے ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کو دیکھ لیں، وہ کس طرح امریکی امداد سے ”بڑے بدمعاش“ بن چکے ہیں۔ ہم ابھی تک بحرانوں سے ہی گزر رہے ہیں۔

موجودہ معاشی بحران سردست گزرتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن کی طرف جا چکے ہیں، اب کوئی بہت بڑا فیصلہ ہی بہتری کی صورت پیدا کرے گا، لیکن وہ بہت بڑا فیصلہ فوری انتخابات ہرگز  نہیں ہے۔ انتخابات کے نتیجے میں اگر پی ٹی آئی جیت جاتی ہے تو وہ کیا کرلے گی جو اس نے ساڑھے تین سالوں کے دوران نہیں کیا ہے اور اگر ن لیگ و اتحادی جیت جاتے ہیں تو وہ کیا نیا کر سکتے ہیں جو اب نہیں کر رہے ہیں۔ حکومت کی فوری تبدیلی ہرگز ہرگز مسائل کا حل نہیں ہے۔ ہمیں سب کو سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا کہ مسائل سے کیسے نکلنا ہے، کیا لائحہ عمل اختیار کرنا ہے۔ کون سے اقدامات فوری طور پر اٹھانے چاہئیں اور کون سی پالیسیاں طویل مدتی ہو سکتی ہیں، جو ہمیں گھمبیر مسائل سے نجات دے سکتی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -