خانہ جنگی؟…… ایک بدترین سنیریو 

 خانہ جنگی؟…… ایک بدترین سنیریو 
 خانہ جنگی؟…… ایک بدترین سنیریو 

  

 آج سارے شواہد بتا رہے ہیں کہ پاکستان خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ لیکن جن لوگوں / اداروں نے اس کو روکنا ہے وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے…… فوج کی طرف سے بار بار یہ بیانیہ دہرایا جا رہا ہے کہ ہمیں سیاست میں مت گھسیٹو۔ لیکن اگر ”گھسیٹنے والے“ ہی باز نہ آئیں تو چارہ گروں کے پاس اس کا بھی کوئی علاج ہے یا نہیں؟ فوج کتنی بار وارننگ دے گی؟…… پہلے بھی وہ نجانے کتنی بار کہہ چکی ہے کہ ہمارا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔ لیکن جب سیاسی پارٹیاں نام لے لے کر بلکہ نام بگاڑ بگاڑ کر یہ ارتکاب کریں تو اس کا کیا مداوا کیا جائے گا؟…… ایک پارٹی کی رہنما جب کسی سینئر جرنیل کو بھرے مجمعے میں ”بے فیض“ کہہ دیں تو اس سے بدترین پھبتی اور کیا ہو سکتی ہے؟ اور اگر ایک اور پارٹی لیڈر کسی جرنیل کو ”کھڈے لائن“ لگانے کا محاورہ استعمال کرے تو اس سے زیادہ قابلِ نفرت اور کیا بات ہوگی؟ لیکن فوج کی قیادت کو ہزار بار سلام کہ وہ یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہی ہے اور جو تادیبانہ ردعمل کر رہی ہے وہ نہائت مہذبانہ ہے۔ جب فوج کے ترجمان یہ کہیں کہ بعض سیاسی رہنماؤں کی طرف سے لگائے گئے الزامات ”نامناسب“ ہیں تو واقعی فوج کے صبر کا یہ کڑا امتحان ہے۔ ایک طرف سے ”بے فیض“ اور ”کھڈے لائن“ اور دوسری طرف سے صرف ”نامناسب“ کہہ دینا ناقابلِ فہم ہے۔ پاکستانی معاشرے میں ”ٹِٹ فار ٹیٹ“ کا چلن عام ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ ملک یوٹوپیا بھی ہوتا تو پھر بھی طرفین کے ترازو کا وہ پلڑا جو فی الحقیقت ہمہ مقتدر ہے اس طرح کی شریفانہ اور نجیبانہ روش کا مظاہرہ نہ کرتا جو وہ کر رہا ہے۔ اگر فوج کی طرف سے یہ مظاہرہ کیا گیا ہے تو سیاستدان ہوش کے ناخن لیں۔شیخ سعدی کے مصرعے والا پلنگ ”خُفتہ“ نہیں بلکہ بیدا ہے لیکن اس نے عالمِ بیداری میں دھاڑنے کی بجائے صرف ہلکی سی ”انگڑائی“ لینا مناسب سمجھا ہے۔

”کھڈے لائن“ کا محاورہ استعمال کرنے والا تو ایک عادی مجرم ہے۔ اس نے ماضی میں بھی ایک ایسا ہی محاورہ فوج کے خلاف استعمال کیا تھا اور ”ہم اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے“ کا نعرۂ مستانہ لگایا تھا۔فوج ایسے نعروں کو فراموش نہیں کرتی۔ اسے سب کچھ یاد رہتا ہے لیکن آج سب سے بڑا چیلنج پاکستان کی حفاظت ہے۔ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت اور ضمانت فوج کی اولین ذمہ داری ہے اور وہ اس ذمہ داری کو بطریقِ احسن نبھا رہی ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا اصل دشمن کون ہے۔ کون ہے جس کا میڈیا پاکستان کی جاری صورتِ حال پر بغلیں بجا رہا ہے؟…… قارئین ذرا انڈین میڈیا کی لن ترانیاں سن لیں اور پھر اندازہ لگائیں کہ پاک فوج کو باہر سے جو چیلنج درپیش ہیں وہ زیادہ قابل توجہ ہیں یا یہ داخلی چیلنج کہ جو ہمارے جرنیلوں کے خلاف ہرزہ سرایوں کی صورت میں استعمال کئے جا رہے ہیں۔ کیا یہ چومکھی لڑائی نہیں جو فوج لڑ رہی ہے؟ کیا اس قسم کی صورتِ حال کی مثال پہلے بھی کبھی پاکستان کو درپیش تھی؟…… میری عمر پاکستان کی عمر سے زیادہ ہے اور میں نہیں جانتا کہ آج تک پاکستان کو اندرونی طعن و تشنیع اور بیرونی خطرات کا ایسا سامنا پہلے کبھی پیش آیا ہے۔

عمران خان کے جلسوں میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد شریک ہو رہی ہے۔ خان صاحب کو چاہیے کہ وہ اس سنیریو کا بھی کچھ ذکر  ان جلسوں میں شامل ہونے والوں کے سامنے رکھیں جو ہمارے دشمن نمبر ایک کے عسکری اقتدار کے ایوانوں میں بھی کیا جا رہا ہے۔

1971ء کی جنگ میں اندرا گاندھی نے اپنے سپہ سالار کو حکم دیا تھا کہ اس وقت کے مشرقی پاکستان پر ہلہ بول دو۔ لیکن انڈین جنرل نے انکار کر دیا تھا اور انکار کی جو وجہ بیان کی تھی وہ آج قارئین کی اکثریت کو معلوم ہے۔ اندرا گاندھی نے اپنے آرمی چیف کی بات مان لی تھی اور حملے کو موسم برسات سے اٹھا کر موسم سرما تک ملتوی کر دیا تھا…… آج انڈین آرمی چیف دیکھ رہا ہے کہ پاکستان کی اندرونی سیاسی صورتِ حال کا بیرومیٹر کیا درجہء حرارت دکھا رہا ہے۔ اس نے حال ہی میں آرمی کا چارج سنبھالا ہے اور چارج سنبھالنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آدھا خطاب انگریزی میں اور آدھا اردو (ہندی) میں کیا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ اس طرف ہمارے کسی میڈیا چینل نے توجہ نہیں دی۔ جنرل منوج پانڈے نے علاقائی صورتِ حال پر جو تبصرہ کیا ہے، وہ شنیدنی ہے۔ اس نے بطورِ خاص جاری علاقائی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے انڈین آرمی کو تیاررہنے کا حکم دیا ہے۔ پاک فوج کو باہر (انڈیا) کی طرف سے جو چیلنج درپیش ہے وہ بھی دیکھ اور سن لیں اور اِدھر اپنے ملک کے اندر سے جو چیلنج درپیش ہے اس کا بھی خیال کرلیں۔

ویسے پاک فوج کے ترجمان نے اس طرف اشارہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ ملک کو سیکیورٹی کے گھمبیر چیلنج درپیش ہیں …… آپ بتایئے کہ آرمی اس سے زیادہ کھل کر اور کیا بات کرے؟…… بعض باتیں اور عسکری تفاصیل عوام کو نہیں بتائی جاتیں اور نہ ہی بتانی چاہئیں۔ لیکن کیا ہمارے سیاسی رہنما یہ سب کچھ دیکھ اور سن نہیں رہے؟ اگر کل کلاں پاکستان کسی خانہ جنگی کی طرف بڑھتا ہے یا خونریز مستقبل کی طرف جاتا ہے تو اس صورت میں انڈیا کیا کرے گا؟…… اس کا ردعمل کیا ہوگا؟ عمران خان نے کئی بار یہ کہا ہے کہ اگر ہماری فوج کمزور ہوتی تو آج پاکستان کے تین ٹکڑے ہو گئے ہوتے۔ یہ فوج ہی ہے جس کی طاقت اور مضبوطی کی وجہ سے پاکستان کی وحدت قائم ہے۔خان صاحب کو چاہیے کہ وہ اس نکتے کو زیادہ کھول کر بیان کریں۔ ان کو علاقائی حالات کا جو اندازہ ہے وہ عام شہری کو نہیں …… پاکستان کے تین ٹکڑوں کی تفصیل کیا ہے، اس کے پیجھے کیا عوامل کار فرما ہیں، بڑی طاقتیں کس طرح پاکستان کو کمزور کرنے کے درپے ہیں اور پاکستان کو آج اندرونی امن و امان اور استحکام کی کتنی ضرورت ہے اس پر خان صاحب کو کھل کر بتانا چاہیے۔ یہ تین ٹکڑوں والا سنیریو (منظرنامہ) بتا کر اور اس کی تفصیل میں جا کر جو واشگاف انداز اختیار کیا جائے، اس کے ہوتے ہوئے جلد سے جلد الیکشنوں کی طرف بڑھنے کی کال کا دیا جانا عوامی جلسوں میں شریک ہونے والے نوجوانوں کو زیادہ اپنی طرف متوجہ کرے گا…… خدا نہ کرے اگر آنے والے دنوں میں پاکستان کی اندرونی صورتِ حال کسی بھی سکیل پر بگڑتی ہے تو اس کا ردِعمل ہمارے دشمن (یا دشمنوں) پر کیا ہوگا، اس کی طرف توجہ دلانے کی شدید ضرورت ہے۔

ہمارے سیاستدان اگر فوج کے جرنیلوں کا نام بگاڑتے ہیں یا ان کے ناموں کی رعائیت سے اپنے بیانیے کو زیادہ نمک مرچ لگا کر عوام کے سامنے رکھتے ہیں تو ان کی کم عقلی اور حماقت کا ماتم کرنے کے سوا اور کیا کیا اور کہا جا سکتا ہے؟

مزید :

رائے -کالم -