بنوں، تحصیل میو نسپل ایڈمنسٹریشن کو سالانہ 4کروڑ روپے کا نقصان 

بنوں، تحصیل میو نسپل ایڈمنسٹریشن کو سالانہ 4کروڑ روپے کا نقصان 

  

          بنوں (بیورورپورٹ)تحصیل میونسپل ایڈمنسٹر یشن کو سالانہ 4کروڑ روپے کا نقصان ہورہا ہے ٹی ایم اے کے علا وہ کو ئی بھی ٹیکس پرچہ جاری نہیں کرسکتا حلقہ ایم پی اے کی مداخلت سے ریکوری اسٹاف کو منڈی سے زبردستی نکال دیا گیا ضلعی انتظامیہ نے مسئلے کے حل کیلئے ایک ہفتہ کا بتادیا ہے تحصیل میونسپل آفیسر المار خان نے اپنے آفس میں میڈیا کو بتایا کہ بنوں شہر میں موجود مال مویشی منڈی جہاں پر صوبائی حکومت کی جانب سے فوڈ اسٹریٹ شاپنگ پلازہ اور پارک بنانے کا منصوبہ زیر تعمیر ہے جسکی وجہ سے منڈی کو شہر سے باہر نکالنے کیلئے ڈپٹی کمشنر نے میرا خیل کے علاقے میں سیکشن فور کے تحت 121کنال زمین دی تھی جس پر اراضی مالکان سراپا احتجاج بن گئے تھے جسکی وجہ سے وہ التوا کا شکا ر ہے اور میونسپل منڈی تنازعہ کی وجہ سے وہاں پر منتقل نہیں ہوا ہے انکا کہنا تھا کہ اراضی مالکان ٹیکس پرچہ جاری نہیں کرسکتا اور یہ حق میونسپل کو 2019ایکٹ کے تحت حاصل ہیں ہم نے مالکان کو کہا ہے کہ میونسپل اپکو اراضی کرایہ دیگا منڈی ہمارے حوالے کیا جائے لیکن وہ صاف انکاری ہیں اور مالکان نے اپنا مختیار ممبر صوبائی اسمبلی پختونیار خان کو بنایا ہے ٹی او آر فرمان خان نے بتایا کہ ٹی ایم او اور مئیر بنوں عرفان درانی کی ہدایات پر میری نگرانی میں ریکوری اسٹاف میرا خیل مال مویشی منڈی گیا تھا لیکن وہاں پر موجود منڈی انچارج نے نہ صرف سٹاف کو ریکوری سے روکا بلکہ ایم پی اے اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر طیب حیات اور پولیس نفری کی موجودگی میں بدتمیزی سے منڈی سے نکال باہر کردیا جسکی وجہ سے ریکوری نہ ہوسکی اور ہمارا اسٹاف بے بس ہوکر واپس آگئی۔انکا کہنا تھا کہ مال مویشی منڈی نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ 4کروڑ روپے نقصان میونسپل کمیٹی اُٹھارہی ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -