زراعت پر کسی بھی حکومت نے توجہ نہیں دی: محب اللہ خان 

    زراعت پر کسی بھی حکومت نے توجہ نہیں دی: محب اللہ خان 

  

         پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت، لائیوسٹاک و ماہی پروری محب اللہ خان نے کہا کہ زرعی ملک کی زراعت کی ترقی پر کسی نے توجہ نہیں دی جبکہ موجودہ تحریک انصاف کی حکومت نے زراعت کے شعبے پرخصوصی تو جہ دیتے ہوئے زراعت کا بجٹ دو ارب سے کئی اربوں تک بڑھایا.تحریک انصاف کی سابقہ وفاقی حکومت سے گیارہ منصوبوں کو منظور کیا گیا جن کی کل مالیت 45 ارب ہے.آبپاشی کیلئے پانی کی بہتر فراہمی کیلئے 30 ارب کے منصوبے وفاقی حکومت کے تعاون سے شروع کیے گئے. ستر سال میں خیبرپختونخوا میں 25000 ہزار واٹر کورسز تعمیر کیے گئے جبکہ پچھلے پانچ سال میں یہ تعداد پچاس ہزار کرنے کا ہدف دیا گیا ہے.جو کام پچھلے ستر سال میں نہ ہو سکا وہ تحریک انصاف کی حکومت نے تین سال میں کردیا. خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جس نے فوڈ سیکورٹی پالیسی متعارف کروائی.جس سے فارمرز کو تحفظ اور جانوروں کی پیداواری صلاحیت کیلئے منصوبوں سے گوشت اور دودھ کی پیداوار میں اضافہ ہوا.ایگرکلچر ایمرجنسی پروگرام کے تحت کئی منصوبے شروع کیے گئے. کٹا بچاؤ، کٹا فربہ اور فرو غ سے 1200 فارمرز کو فائدہ پہنچا اور سینکڑوں بھنیسوں اور گائیوں کی نسل کو محفوظ بنایا گیا. جانوروں کو بیماروں سے تحفظ، وٹرنری ڈسپنسریز کا قیام اور فری ویکسین کی فراہمی کے منصوبے شروع کیے گئے.تاریخ میں پہلی پہلی دفعہ مال شماری اور فارم شماری کا پروگرام اور وٹرنری یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا. ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں منعقدہ کسان کنونشن سے خطاب کے دوران کیا۔کسان کنونشن کا انعقاد خیبرپختونخوا لائیو سٹاک فارمرز ویلفیئر ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا اور محکمہ زراعت و لائیوسٹاک نے کیا تھا جسمیں صوبہ بھر سے کسانوں، زمینداروں اور فارمز اونر نے شرکت کی۔کسان کنونشن سے سابقہ وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زراعت میں ترقی کی کافی گنجائش ہے ماضی میں کسی بھی حکومت نے زراعت اور  کاشتکاری کی طرف توجہ نہیں دی حکومت میں آنے کے بعد معلوم ہوا کہ گندم کی پیداوار اور استعمال میں فرق موجود ہے. قائد عمران خان نے گندم کی پیداوار بڑھانے کیلئے عملی اقدامات کیے اور 2020 میں ملک میں فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی. اس سلسلے میں حکومت نے فوڈ سیکورٹی پالیسی بنائی.مستقبل میں کسان اس کے فوائد سے مستفید ہونگے.کسان کارڈ  پاکستان تحریک حکومت ایک اور انقلابی اقدام ہے. حالیہ کچھ ہفتوں سے ملک میں انرجی کا بحران سنگین ہوگیا ہیں جس سے پنجاب میں کسانوں کو آبپاشی کیلئے پانی میسر نہیں. تحریک انصاف کی حکومت نے زمینداروں کو گنے کی پوری قیمت ادا کی کرونا وباء میں کسانوں کو سہولت دی گئی جبکہ پوری دنیا نے پاکستانی اقدامات کی تعریف کی.  انھوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے ذریعے غربت کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے گئے. کامیاب جوان پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو بلاسودقرضے دئیے گئے صوبائی وزیر نے کہا کہ عمران خان کے امریکہ کو اڈے سے انکار پر سازش کے ذریعے حکومت کو ختم کردیا گیا.ملکی خودداری کا سفر جاری رہے گا اور ملک کو حقیقی آزادی دلا ئیگے۔ سیکرٹری زراعت ڈاکٹر اسرار خان نے کسان کنونشن کے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ کنونشن کا مقصد کسانوں کو نئے پروگرامز کے حوالے سے آگاہ کرنا اور ان کے تجاویز لینا ہے. ملک کے ستر فیصد آبادی کا انحصار زراعت و لائیو سٹاک پر ہے. اس شعبے کو پہلے کو ئی اہمیت نہیں دی گئی تھی. حالیہ کچھ عرصے میں زراعت میں ریکارڈ اصلاحات متعارف کی گئی ہے جسمیں قابل قدر زرعی پالیسی ہیں۔کسان کنونشن سے لائیو سٹاک فارمرز ویلفئیر ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے صدر آصف اعوان، سندھ سے آئے ہوئے سردار فہد قیوم،محترمہ رقیہ،  محترمہ شمع، فضل ربی، محمد خان نے اپنے تقریروں میں صوبائی حکومت کے اقدامات کو سراہا اور اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا.۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -