نوشہرہ، اضاخیل میں لینڈ قبضہ مافیا کی جعلی انتقالات کی کار ستانیاں 

نوشہرہ، اضاخیل میں لینڈ قبضہ مافیا کی جعلی انتقالات کی کار ستانیاں 

  

       نوشہرہ)بیورورپورٹ) نوشہرہ اضاخیل میں لینڈ قبضہ مافیا نے جعلی انتقالات پر کئی سو کنال قیمتی اراضی قبضہ کرکے  ہاوسنگ سوسائٹی کا ڈارامہ رچا کر سادہ لوح عوام کو بھی لوٹ لیا جبکہ اب این او سی کے حصول کیلئے ہاوسنگ سوسائٹی کانام تبدیل کر دیا ڈی اسی نوشہرہ، ٹی ایم او نوشہرہ اور دیگر اعلیٰ حکام لینڈ قبضہ مافیا سے ہماری قیمتی اراضی واگزار کراکر متعلقہ غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹی کی این او سی جاری نہ کرنے کا مطالبہ کر دیا اس سلسلے میں نوشہرہ کے علاقہ اضاخیل کے مکینوں شمشاد خان، محمد جلال، ڈاکٹر عطا اللہ اعوان،نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ نوشہرہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ احسان الحق ولد شاہ محمود سکنہ لوئر دیر جو کہ لینڈ قبضہ مافیاہے نے اضاخیل میں ہماری قیمتی اراضی پر بہ قبضہ کرکے اس پر،، شاہین ایجوکیشن سٹی،،کے نام سے ہاوسنگ سو سائٹی قائم کر دی جو کہ غیر رجسٹرڈ تھی اور لوگوں سے رقوم وصول کرتا رہا لیکن جب ان کی چوری پکڑی گئی کہ متعلقہ شاہین ایجوکیشن سٹی غیر جسٹرڈ ہے تو انہوں نے اب این او سی کیلئے ٹی ایم اے نوشہرہ میں گارڈن سٹی کے نام سے درخواست جمع کر دی ہے انہوں نے کہا کہ متعلقہ لینڈ قبضہ مافیا 102خسرہ جات شو کر رہا ہے اور ان خسرہ جات میں کل رقبہ 1200کنال ہے جبکہ لینڈ قبضہ مافیا احسان الحق ٹی ایم اے نوشہرہ میں این او سی کے حصول کیلئے دئیے گئے مطلوبات میں ان ہی 102خسرہ جات میں کل رقبہ 140کنال شو کیا ہوا ہے جو کہ جعل سازی کی بڑی دلیل ہے انہوں نے مزید الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ احسان الحق نے اسی اراضی کے چاروں اطراف پر مورچے بنائے ہوئے ہیں جس میں مسلح افراد بیٹھے ہوئے ہوتھے ہیں جو اس اراضی کے اصل مالکان کو اراضی کے قریب نہیں چھوڑتے انہوں نے کہا کہ مذکورہ لینڈ قبضہ مافیا احسان الحق نامی شخص پر کئی بار مختلف مقدمات درج ہیں انہوں  نے ڈی سی نوشہرہ،ٹی ایم او نوشہرہ سمیت دیگر اعلیٰ احکام سے مطالبہ کرتے ہوئے اپیل کی  ہے کہ وہ احسان الحق نامی شخص کوان  کی جعلی ہاوسنگ سوسائٹی،،گارڈن سٹی،، کے نام سے این او سی جاری نہ کیا جائے اور اسی جعل ساز لینڈ قبضہ مافیا سے ہماری قیمتی اراضی واگزار کرائی جائے بصورت دیگر ہم  اپنے حق کے حصول کیلئے احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -