مولانا مودودی میموریل کی تعمیر کیلئے فنڈریز نگ ڈنر، چند منٹوں میں کروڑوں روپے جمع 

مولانا مودودی میموریل کی تعمیر کیلئے فنڈریز نگ ڈنر، چند منٹوں میں کروڑوں ...

  

لاہور (سٹی رپورٹر) برصغیر کے عظیم سکالر اور جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالا علیٰ مودودی میموریل کی تعمیر کیلئے فنڈریزنگ ڈنرمیں چند منٹوں میں کروڑوں روپے جمع ہو گئے۔ تقریب میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں،دانشوروں، سینئر صحافیوں نے شرکت کی اور سید ابوالاعلیٰ مودودی کو خراج تحسین پیش کیا۔ مولانا مودودی کی یاد میں قائم کیے جانیوالے میموریل کے متعلق شرکاء کو بتایا گیا کہ زیر تعمیر میوزیم میں مولاناکے زیر استعمال اشیاء کو محفوظ کیا جائے گا اوران پر لکھے گئے تمام مقالہ جات کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کیا جائے گا۔ میوزیم کی گیلری میں سید مودودی کی زندگی کے متعلق مختلف تاریخی پس منظر اور ان کی زندگی کی ٹائم لائن کے مطابق ایک فوٹو گیلری بنائی جائے گی۔ میموریل میں میوزیم  بھی قائم کیا جائے گا جس میں مولانا کے زیر استعمال رہنے والی 166اشیاء کو محفوظ کر کے رکھا جائیگا۔ لائبریری میں سید مودودی کی اپنی کتب کیساتھ ساتھ ان پر لکھی جانے والی کتابیں بھی رکھی جائیں گی جبکہ ریسرچ سینٹر قائم کیا جائے گا جو سید ابو اعلی مودودی کی زندگی پر تحقیقات کرنے والے محققین کو مدد فراہم کرے گا۔میموریل کو مولانا پر لکھی گئی دنیا کی 40  مختلف زبانوں میں تحریروں اور کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرانے کیساتھ ساتھ ڈیجیٹلائز بھی کیا جائیگا۔ فنڈ ریزنگ کیلئے عشائیے کا بھی اہتمام کیا گیا اور چند ہی منٹوں میں مولانا مودودی کے چاہنے والوں نے کروڑوں روپے کی رقم عطیہ کر دی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سینئر رہنما احسان اللہ وقاص نے کہا کہ ٹرسٹ قائم کرنے کا مقصد آنے والی نسلوں کو سید مودودی کے مذہبی  ادبی اور تحقیقی کارناموں سے روشناس کروانا ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ سید مودودی ہمہ گیر شخصیت تھے اور ان کے پائے کی شخصیت ڈھونڈے نہیں ملتی۔ مولانا ابوالا علیٰ مودودی صرف عالم دین، مفسر، مصنف، مفکر،مقرر، خطیب، سیاست دان اور جماعت اسلامی کو بہترین تنظیمی ڈھانچہ دینے والے ہی نہیں بلکہ داعی بھی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سید مودودی نے ہمیشہ آئین و قانون میں رہتے ہوئے جدوجہد کرنے پر زور دیا اور مولانا کسی بھی حال میں کوئی بھی کام چھپ کر کرنے کے قائل نہیں تھے۔میموریل کے چیئرمین اور معروف سیاست دان لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ آنے والی نسل کو مولانا کی زندگی اور افکار سے روشناس کرانا سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی معاشرے کو اسوقت نظریاتی تربیت کی اشد ضرورت ہے۔تقریب سے معروف کالم اور تجزیہ نگار  حفیظ اللہ نیازی سمیت جماعت اسلامی کی دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر جماعت اسلامی کے رہنما امیر العظیم نے دعا کرائی۔

مولانامودودی

مزید :

صفحہ آخر -