کراچی دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت، بم سائیکل میں نصب تھا، نشانہ کوسٹ گارڈزگاڑی تھی 

کراچی دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت، بم سائیکل میں نصب تھا، نشانہ کوسٹ ...

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) شہر قائد کے علاقے صدر میں جمعرات اور جمعہ کی شب ہونیوالے بم دھماکے کی تحقیقات میں حیران کن انکشافات سامنے آگئے ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق دھماکے میں ایک سے زائد کالعدم تنظیموں سمیت غیرملکی ایجنسیز کا ملوث ہونا بھی خارج از امکان نہیں، دھماکا خیز مواد مقامی لیکن طاقتور نوعیت کا تھا،آڑھائی کلوگرام کے بم میں دھماکا خیز موادو بال بیئرنگز تھے اور یہ سائیکل میں نصب تھا،ممکن ہے بم کسی اور کالعدم تنظیم نے تیار کیا ہو، ایسے سائیکل بم بلوچستان میں کالعدم قوم پرست تنظیمیں استعمال کرتی ہیں، ابتدائی تحقیق کے مطابق دہشت گرد پاسپورٹ آفس کی جانب سے سائیکل بم لایا، سائیکل کچرا کنڈی کے قریب کھڑی کر کے خود ہوٹل پر بیٹھ گیا،تفتیشی حکام کے مطابق کوسٹ گارڈز کی گاڑی آنے پر اس نے ریموٹ کنٹرول سے بم دھماکا کیااور چائے کے ہوٹل سے پیچھے کی طرف سے فرار ہوگیا۔تفتیشی حکام کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج قا نو ن نافذ کرنیوالے ادارے نے قبضے میں لے لی ہیں، جس میں دھماکہ کرنیوالے کو دیکھا جاسکتاہے،جو ایک نوجوان ہے۔دوسری طرف ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بم دھماکے کی ذمہ داری کالعدم سندھو دیش لبریشن آرمی نے قبول کر لی، واقعے کی ابتدائی رپورٹ بھی تیار کر لی گئی،یاد رہے کہ شہرقائدکے علاقہ صدر میں داؤد پوتہ روڈ پر بم دھما کے میں دوافرادجاں بحق جبکہ کوسٹ گارڈز اہلکاروں سمیت 13 زخمی ہو گئے تھے، بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے بم 2 سے ڈھائی کلو گرام وزنی اور دیسی ساختہ تھا، بم کو ٹائمر ڈیوائس کے ذریعے استعمال کر کے پھاڑا گیا، اس طرح کے 3 دھماکے پہلے بھی ہو چکے ہیں، ایک دھماکہ شیریں جناح کالونی دوسرا ماڑی پور روڈ پر کیا گیا تھا، دھما کے میں 8 گاڑ یو ں اور 5 موٹر سائیکلوں کو نقصان پہنچا۔بی ڈی ایس حکام کے مطابق بم میں بال بیئرنگ استعمال کیے گئے تھے، اور بارودی مواد مقامی سطح پر تیار کیا گیا تھا۔ دو سری طرف شہر قائد میں دھماکے کے بعدپولیس متحرک ہو گئی ہے،ملیر پولیس نے بن قاسم اور شاہ لطیف ٹاؤن میں رات گئے کیئے گئے آپریشن کے دوران 286 گھروں کی تلاشی لی،اور 38 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔اس موقع پر پورے علاقے کی ناکہ بندی کی گئی، آنے اور جانیوالے افراد سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔ پولیس کے مطا بق مشتبہ افراد کی شناخت کا عمل جاری اور مزید تفتیش کی جارہی ہے۔

کراچی دھماکہ

مزید :

صفحہ آخر -