اسٹیبلشمنٹ کے نمبرز بلا ک کر دیئے ، پیغامات آرہے ہیں مگر الیکشن کے اعلان تک کسی سے کوئی بات نہیں ہو گی ، پنجاب اسمبلی میں (ن) لیگ میں فارورڈ بلاک کو مقتدر حلقوں نے روکا : عمرا ن خان 

  اسٹیبلشمنٹ کے نمبرز بلا ک کر دیئے ، پیغامات آرہے ہیں مگر الیکشن کے اعلان تک ...

  

         اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے پیغامات آرہے ہیں لیکن میں کسی سے بات نہیں کررہا، میں نے ان لوگوں کے نمبر بلاک کر دیے ہیں، جب تک الیکشن کااعلان نہیں ہوتا،تب تک کسی سے بات نہیں ہو گی۔صحافیوں سے گفتگو میں عمران خان کا کہنا تھاکہ شہباز شریف کے علاوہ بھی کردار میر جعفر اور میر صادق ہیں، وقت آنے پر ان کرداروں کے نام لوں گا۔انہوں نے کہا کہ ’نیوٹرلز‘ کوبتایا تھا معیشت مشکل سے مستحکم ہوئی ہے، شوکت ترین نے بھی ان کوسمجھایا سیاسی عدم استحکام معیشت کیلئے نقصان دہ ہے، جو اس سازش کا حصہ بنے، ان سے سوال کرتا ہوں، کیا سازش کا حصہ بننے والوں کو پاکستان کی فکر نہیں تھی؟ پاکستان سازش میں شریک لوگوں کی ترجیحات میں نہیں تھا؟ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو لایا گیا، اس سے بہتر تھا پاکستان پرایٹم بم گرا دیتے، جو کرمنلز لائے گئے، انہوں نے ہر ادارہ اور جوڈیشل سسٹم تباہ کردیا، کون سا حکومتی آفیشل ان مجرموں کے کیسزکی تحقیقات کرے گا؟ عمران خان کا کہنا تھاکہ میں سمجھتا تھا کرپشن بااثر شخصیات کیلئے بھی ایشو ہے، میں سمجھتا تھا کہ کرپشن پر ہمارا نظریہ ایک ہے لیکن کرپشن اہم شخصیات کیلئے مسئلہ ہی نہیں تھا، میں صدمے میں ہوں کہ یہ لوگ چوروں کو اقتدار میں لائے، مجھے بارہا کہا گیا آپ کرپشن کیسز کے پیچھے نہ پڑیں، مجھے کہا جاتا تھا کہ کارکردگی پر توجہ دیں۔انہوں نے کہا کہ سازش کرنے والوں نے غلط اندازہ لگایا، انھیں نہیں پتہ تھا مجھے ہٹانے پر اتنے عوام سڑکوں پرنکل آئیں گے۔اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کے حوالے سے سابق وزیراعظم کا کہنا تھاکہ آخری دن تک اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات اچھے رہے، دو معاملات پر اس سے عدم اتفاق رہا، مقتدر حلقے چاہتے تھے عثمان بزدار کو وزارت اعلیٰ سے ہٹاو¿ں، انھیں بتایا سندھ میں گورننس اور کرپشن کے حالات بدتر ہیں، عثمان بزدار کی جگہ کسی اور کو لگاتا تو پارٹی میں دھڑے بندی ہو جاتی۔ان کا کہنا تھاکہ اسٹیبلشمنٹ سے دوسرا ایشو جنرل فیض کے معاملے پر تھا، میں چاہتا تھا کہ جنرل فیض سردیوں تک ڈی جی آئی ایس آئی رہیں، انہیں برقرار رکھنے کی ایک وجہ افغانستان کی صورتحال تھی۔انہوں نے کہا کہ جنرل فیض کو داخلی سیاسی صورتحال کیلئے بھی برقرار رکھنا چاہتا تھا، مجھے اپوزیشن کی سازش کا جون سے پتہ تھا، ہمیشہ ایسے فیصلے ہوتے رہے کہ میری حکومت کمزور رہے۔ان کا کہنا تھاکہ ن لیگ کے 30 ایم پی ایز فارورڈ بلاک بنانا چاہتے تھے، اگر فارورڈ بلاک بن جاتا تو ن لیگ کی سیاست ختم ہو جاتی لیکن ان ایم پی ایز کو طاقتور حلقوں نے پیغام دیا جہاں ہیں، وہیں رہیں، 8، 10لوگوں کو کرپشن میں سزا ہونی چاہئے تھی لیکن ایسا ہونے نہیں دیا گیا۔۔انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ میں یوکرین معاملے پر ووٹنگ میں حصہ نہ لینا درست فیصلہ تھا۔اسلام آباد مارچ سے متعلق ان کا کہنا تھاکہ اسلام آباد مارچ کیلئے تیاری شروع کر دی ہے، جب عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں تو بہت سے آپشن کھل جاتے ہیں۔

عمران گفتگو

مردان(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لندن میں بیٹھا چوروں کا ٹولہ سن لے ملکی مستقبل کے فیصلے تم نہیں عوام کریں گے، حقیقی آزادی کا وقت آگیا، سیاست نہیں انقلاب کیلئے اسلام آباد بلا رہا ہوں، قوم بھرپور ساتھ دے۔ مردان جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شاندار استقبال پر دل سے شکر گزار ہوں، مردان آنے کا ایک مقصد ہے، آپ سب کو اسلام آباد جانے کے لیے تیار کر رہا ہوں، جب کال دوں تو آپ نے میرے ساتھ اسلام آباد جانا ہے، اسلام آباد سیاست کے لیے نہیں ایک انقلاب کے لیے بلا رہا ہوں، پاکستان کو حقیقی آزادی دلانے کی جدوجہد میں شرکت کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جو بھی میری عمر سے کم ہے وہ نوجوان ہے، پاکستان کی تمام ماو¿ں، بہنوں، بچوں کو دعوت دینے آیا ہوں، تحریک پاکستان کی جدوجہد میں خواتین، بچے، بزرگ سب شامل تھے، حقیقی آزادی کے لیے مردان والوں میرے ساتھ شامل ہوں گے، چوروں کے ٹولے کو پیغام دے رہا ہوں، سزا یافتہ، ڈاکو، مفرور، بزدل، ڈاکو لندن میں بیٹھا ہے سن لے، ڈاکو نے نہیں پاکستان کی عوام فیصلہ کرے گی قیادت کون کرے گا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ نوجوانو یہ پاکستان کے لیے فیصلہ کن وقت ہے، امریکا کے پٹھو،غلاموں سے ملک کو آزاد کرنا ہے، ڈاکوو¿ں کا ٹولہ، تھری اسٹوجز، زرداری بڑی بیماری سے ملک کو آزاد کرنا ہے، ڈیزل نے پیسہ بنانے والی وزارت پکڑ لی ہے، اگر آپ نے الیکشن کی تاریخ نہ دی تو پھرعوام کا سمندر سب کو بہا کر لے جائے گا۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نوجوانو کیا ہم امریکیوں کے غلام اور نوکر ہیں؟، نواز شریف، فضل الرحمان، شہباز شریف، زرداری امریکا کا غلام ہے، نواز شریف جیسا بزدل آدمی نہیں دیکھا، ہر دفعہ باہر بھاگ جاتا ہے، فضل الرحمان کو مولانا نہیں کہتا کیونکہ یہ ڈیزل کے پرمٹ پر بکنے والا ہے، فضل الرحمان امریکی سفیر کو کہتا ہے مجھے بھی موقع دیں ان سے بہتر خدمت کروں گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے، دنیا کی تاریخ کا عظیم لیڈر ہم پیارے نبی کی امت ہیں، ہمارے نبیسپر پاور کے سامنے نہیں جھکے تھے، ہمارے نبی نے سب سے پہلے لوگوں میں خوف کی زنجیریں ختم کی تھیں، اپنے خوف پر قابو پانے کے لئے ہمیں سب سے پہلے خوف کی زنجیروں کو توڑنا ہوگا، زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، مجھے کہا جاتا ہے سارے مافیاز سے میری جان کو خطرہ ہے، میرا ایمان ہے جب موت کا وقت آتا ہے تو آگے، پیچھے وقت نہیں ہوسکتا، انہوں نے میری کردار کشی کی لیکن اللہ نے مجھے عزت دی، سرکاری افسران، فوجیوں سے کہتا ہوں رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ نے رزق ، زندگی اپنے ہاتھ میں رکھی وہ انسانوں کو آزاد کرنا چاہتا تھا، ہمارے نبینے انسانوں کو آزاد کر دیا تھا، مولانا رومی کہتے ہیں جب اللہ نے آپ کو پر دیئے تو کیوں زمین پر چیونٹیوں کی طرح رینگ رہے ہو، ہمارے نبی نے مدینہ کے لوگوں کا خوف ختم کر کے انہیں عظیم قوم بنا دیا تھا، کبھی غلام بڑے کام نہیں کر سکتا، صرف آزاد لوگ کر سکتے ہیں، ہمارے اوپر امریکا کے غلام بٹھائے ہیں، یہ کبھی عظیم قوم نہیں بننے دیں گے۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب اقتدار سنبھالا تو ملک کا دیوالیہ نکل گیا، اقتدار سنبھالا تو 30 ارب ڈالر کا بیرونی خسارہ ملا، حکمران خود امیر اور ملک غریب ہوگیا، دوست ملک چین، یو اے ای، سعودی عرب سے پیسے مانگ کر ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، میرے لیے قرضے مانگتے ہوئے سب سے زیادہ شرمندگی کا وقت تھا، جو قرضے لیتا ہے ان کی کوئی عزت نہیں ہوتی، سابق حکمرانوں نے لوٹ مار کر کے ملک کا دیوالیہ نکالا، ہم نے محنت سے ملک کو کھڑا کیا، کورونا کے دوران معیشت اور غریبوں کو بچایا، پاکستان میں 31 ہزار اور بھارت میں 50 لاکھ سے زائد لوگ کورونا سے مرے، ہماری کورونا کی پالیسی کو دنیا میں سراہا گیا۔ عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال سے ظاہر ہے مارکیٹ کا امپورٹڈ حکومت پر اعتماد نہیں ہے‘8 مارچ کو ڈالر 170 روپے کا تھا اب ڈالر 193 روپے کا ہوگیا “اسٹاک مارکیٹ 3 ہزار پوائنٹس گر چکی ہے‘مارکیٹ پالیسی کا انتظار کر رہی ہے جس میں امپورٹڈ حکومت ناکام ہوچکی ہے‘ شوکت ترین اور میں نے نیوٹرلز کو خبردار کیا تھا کہ سازش کامیاب ہوئی تو معیشت ڈوب جائے گی۔تفصیلات کے مطابق عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ڈالر 193 روپے کا ہوگیا ہے، 8 مارچ کو ڈالر 170 روپے کا تھا۔انہوں نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ 3 ہزار پوائنٹس گر چکی ہے، جنوری 2020 کے مقابلے میں افراط زر 13 اعشاریہ 4 فیصد ہوچکی، موجودہ صورتحال سے ظاہر ہے مارکیٹ کا امپورٹڈ حکومت پر اعتماد نہیں ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ مارکیٹ پالیسی کا انتظار کر رہی ہے جس میں امپورٹڈ حکومت ناکام ہوچکی ہے، شوکت ترین اور میں نے نیوٹرلز کو خبردار کیا تھا کہ سازش کامیاب ہوئی تو معیشت ڈوب جائے گی۔

عمران خطاب

ملک کی موجودہ حالت کے ذمہ دار عمران خان : مریم نواز

     لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور اس کی معیشت کو موجودہ نہج تک پہنچانے کے ذمہ دار عمر ا ن خان ہیں انہیںجواب دینا ہی پڑے گا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے مریم نواز نے پی ٹی آئی چیئرمین کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ یہ سب عمران خان کاکیا دھرا ہے، لوگوں کو بے وقوف مت سمجھو، 4 سال کی بدترین کارکردگی کا حساب دو۔ سوال تم سے ہی پوچھا جائے گا۔ اور تمھیں جواب دینا پڑے گا۔ مریم نواز نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کس چیز کی تنخواہیں لے رہے ہیں؟ ملک برباد کرنے کی یا آئین توڑنے کی؟مریم نواز نے کہا کہ نوٹ اور مراعات دیکھ کر عمران اور پی ٹی آئی کی رال ٹپکنے لگتی ہے، جھوٹے اور ملک کا خون چوسنے والے لوگ اسمبلیوں سے استعفے ایسے دے کر گئے تھے جیسے کبھی واپس نہیں آئیں گے مگر ان کے تمام اصول پیسہ دیکھ کر ہوا ہو جاتے ہیں۔دوسری طرف وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ عمران خان حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے معاہدے کے چنگل سے نکلیں گے تو ہی ڈالر نیچے آئے گا۔ ڈالر کی پرواز اور مہنگائی میں اضافہ عمران خان کے آئی ایم ایف سے معاہدے اور پھر اس کی خلاف ورزی کے اثرات ہیں، عمران خان نے جو معاہدے کئے ہیں، ان کے چنگل اور دلدل سے نکلیں گے تو ڈالر نیچے آئے گا اور اسٹاک ایکسچینج پھر اوپر جائے گا۔وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بیان میں کہا کہ عمران خان معیشت کو جس نہج پر چھوڑ کر گئے ہیں، اسے واپس لانا آسان کام نہیں، لیکن انشااللہ تعالی ہم اسے واپس ضرور لے کر آئیں گے، پٹرول پر سبسڈی نے پاکستان کی معاشی صورتحال کو شدید مالی دبا ﺅسے دوچار کیا، عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت خرید اور پاکستان میں قیمت فروخت کے درمیان فرق سے حکومت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس مہینے تقریبا 120ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ تھا جو سویلین حکومت چلانے کے خرچ سے تین گنا زیادہ ہے، اتنا بڑا خسارہ کوئی بھی حکومت برداشت نہیں کرسکتی، اسی وجہ سے تمام مارکیٹوں میں ہلچل ہوئی اور مہنگائی پھیل رہی ہے، حکومت کے پاس پیسے نہ ہوں اور وہ پھر بھی سبسڈی دے تو مزید قرض لینا پڑتا ہے، اس وجہ سے شرح سود میں اضافے کے ساتھ روپے پر دباﺅ بڑھ رہا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ عمران خان نے تاریخ کا سب سے بڑا قرض لیا، 71سال میں پاکستان نے جتنا مجموعی قرض لیا، عمران خان نے ساڑھے 3سال میں اس کا 80فیصد قرض لیا، انہوں نے ساڑھے تین سال میں 20ہزار ارب روپے قرض لیا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کی حکومت شدید معاشی دباﺅ کا شکار ہوئی، عمران خان 10.4ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر چھوڑ کر گئے ہیں، جو صرف 45دن کی امپورٹس کے مساوی ہیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر کی یہ صورتحال خطرناک ہے، کم از کم دو گنا ہونے چاہئیں، غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال نے پاکستان کے معاشی دباﺅ کو بڑھایا ہے، عمران خان نے آئی ایم ایف سے کئے تحریری معاہدے کی خلاف ورزی کی جسے ہمیں دوبارہ بحال کرنا پڑا، عمران خان نے چین سعودی عرب سمیت تمام ممالک سے پاکستان کے تعلقات میں مسائل پیدا کئے جن پر اب ہم نے قابو پالیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان جواب دے کہ 115سے ڈالر 189پر کیوں لے کر گیا؟، جب ہم آئے تھے تو ڈالر 189پر تھا، شہباز شریف کے آنے کے بعد ڈالر نیچے آیا تھا، اسٹاک ایکسچینج کو شہباز شریف پر اعتماد تھا، اسی لئے 1700پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا، نوازشریف دور میں ہم ترقی کی شرح 5.8فیصد اور مہنگائی کم ترین 3.4فیصد پر چھوڑ کر گئے تھے، چار سال کی لوٹ مار، نالائقی، نااہلی کارٹلز اور مافیاز کی حکمرانی کی وجہ سے مہنگائی آسمان پر پہنچ گئی، عمران خان کو ملک و قوم کے خلاف اپنے جرائم کا جواب دینا ہوگا، ان شااللہ، ہم اس دلدل سے بھی نکلیں گے اور اسٹاک ایکسچینج پھر اوپر جائے گی۔

وزیر خزانہ

مزید :

صفحہ اول -