دہشتگردی کو کسی صورت میں دوبارہ سر اٹھانے نہیں دینگے: وزیراعلٰی سندھ 

دہشتگردی کو کسی صورت میں دوبارہ سر اٹھانے نہیں دینگے: وزیراعلٰی سندھ 

  

       کراچی (سٹاف رپورٹر)وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ دہشتگردی کو دوبارہ سراٹھانے نہیں دیں گے، مشکل فیصلے کرتے ہوئے گھبراتے ضرور ہیں مشکل فیصلوں کے نتائج بہتر ثابت ہوئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایکسپو سینٹر کراچی میں 17ویں مائی کراچی نمائش کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلی سندھ کے ایکسپو سینٹر پہنچنے پر صوبائی وزیر سردار شاہ، اسماعیل راہو، جام اکرام دھاریجو، رسول بخش چانڈیو، کے سی سی آئی کے محمد ادریس اور زبیر موتی والا نے انکا استقبال کیا۔ وزیراعلی سندھ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سارے مسائل ہیں، 90 فیصد پوٹینشل کراچی میں ٹیکس دینے کا ہے جبکہ میراتعلق سیہون سے ہے میری خواہش ہے سیہون 70 فیصد سندھ کا ٹیکس دے جوکہ کبھی سندھ کا کیپٹل تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم تاجروں اور صنعتکاروں کے ساتھ ہیں، کچھ روز قبل چیئرمین بلاول بھٹو صاحب نے بھی تاجروں اور صنعتکاروں سے ملاقات کی ہے اور پانی، بجلی اور انفرااسٹریکچر پر ملکر کام کریں گے۔سراج قاسم تیلی آج بھی یاد کرتے ہیں، سراج صاحب کورونا کے درمیان کچھ عرصہ ناراض بھی رہے دکھ ہوا کہ انکا انتقال کورونا کے باعث ہوا۔ انھوں نے کہا کہ تین سال پہلے سائیٹ ایریا میں ہم نے 2.6 ارب روپے سائیٹ ایسوسی ایشن کو ترقیاتی کام کیلئے دیئے اور اس سال 2.4 ارب روپے کا سائیٹ ایریا میں ترقیاتی منصوبوں پر کام چل رہا ہے۔اس خطے میں سندھ واحد صوبہ ہے جوکہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ پر کام کررہا ہے، تھر میں پانی کی پائپ لائن بچھانے پر کام کررہے ہیں، ہم ورلڈ اکنامک فورم میں جارہے ہیں، دبئی کی اکنامک فورم میں ہم نے تین گھنٹے سیشن کیا، 24 مئی کو ہم انویسٹمنٹ سیشن کراکے سرمایہ کاروں کی توجہ مبذول کرائیں گے، تاجروں نے ذکر کیا کہ شہباز شریف کو چار کاموں کا کہا جس پر ایک کا اعلان کیا، میں کہتا ہوں آٹھ کام لکھواتے تو دو کام ہوجاتے۔کراچی کے ساتھ زیادتی ہوتی رہی اور یہاں کے لوگوں کو خوش کرنے کی ناکام کوشش بھی ہوتی رہی ہے، کبھی یہ تو کبھی وہ خوش ہوتے رہے جس کے باعث فیصلے درست نہیں ہوپائے۔ کراچی کی گروتھ اور ڈیولپمنٹ کم ہوگی تو پورا ملک متاثر ہوگا۔ کراچی ملک کی ترقی کا انجن ہے،کراچی کیلئے مل کر کام کرنا ہے۔ریڈ لائن منصوبے کی لاگت 75 ارب روپے ہے۔ تنخواہوں اور پنشن کی مد میں 55 ارب روپے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی تقریب میں ایڈمنسٹریٹر کو نہیں دیکھ رہا، رات کو دھماکے کی جگہ موجود تھا، رات کو جاگنے کے باعث شاید یہاں نہیں پہنچا۔کراچی ایکسپو سینٹر میں مائی کراچی نمائش کے افتتاح پر تقریب سے خطاب میں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے گزشتہ روز صدر کے علاقے میں ہونے والے دھماکا کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز صدر دھماکے میں ایک شخص شہید اور 10 افراد زخمی ہوئے۔انھوں نے کہا کہ تقریبا ایک ماہ قبل کراچی یونیورسٹی میں حملہ کیا گیا تھا۔ کبھی بلوچ تو کبھی سندھی آرگنائزیشن ملوث ہوتے ہیں، دہشت گرد پاکستانی ہیں، نہ ہی انسان، دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور زبان نہیں، مجھے شہر میں کسی صورت ایک بھی قتل قبول نہیں، پوری قوم دہشت گردی کا خاتمہ چاہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی نے بہت برے دن دیکھیں ہیں، اسے واپس نہیں آنے دینگے، آج کرائم انڈیکس میں کراچی بہت بہتر ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ انسان نہیں جو اساتذہ اور نوجوانوں کو قتل کرے اس کا کیا ہو سکتا ہے، ہم دہشت گردوں کو چھپنے نہیں دیں گے اور انہیں کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ میں دہشتگردوں کو وارننگ دیتا ہوں ہم انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر ماریں گے۔ معیشت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ کا کہنا تھا کہ سال 2004 میں کے سی سی آئی کے صدر کی حیثیت سے تجارتی میلہ سراج تیلی کا شاندار اقدام تھا۔ کراچی ایک اہم اقتصادی مرکز کے طور پر اپنی اہمیت رکھتا ہے اور میری حکومت مینو فیکچرنگ کی لاگت کو کم کر رہی ہے، جب کہ صنعت کے پہیے کو سست کرنے والی رکاوٹوں کو دور کر رہے ہیں۔ شہر ایک اہم اقتصادی مرکز کے طور پر اپنی اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے اور اس طرح کی نمائشیں ملک کی معاشی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ تجارتی روابط سے لے کر اقتصادی سرگرمیوں کو جنم دینے تک کئی فوائد فراہم کرتی ہیں۔ میری حکومت مینو فیکچرنگ کی لاگت کو کم کر رہی ہے، سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ کسی ملک کی صنعتی اور تجارتی ترقی کو ظاہر کرنے میں چیمبرز کا کردار بلاشبہ بہت اہم ہے اور کے سی سی آئی نے اپنا کردار بہت متحرک اور مثر طریقے سے ادا کیا ہے۔ چیئرمین زبیر موتی والا، صدر محمد ادریس سمیت دیگر اراکین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ نمائشیں ملک کی معاشی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، صنعتی، تجارتی ترقی کو ظاہر کرنے میں چیمبرز کا کردار بہت اہم ہے، کے سی سی آئی بڑے اسٹیک ہولڈر کے طور پر ترقی میں مستحکم شراکت دار ہے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ انڈیا اور عمران خان کی حکومتوں نے کورونا میں جو بھی فیصلے کئے انکے اثرات سب کے سامنے ہیں۔ مشکل فیصلے کرتے ہوئے گھبراتے ضرور ہیں مشکل فیصلوں کے نتائج بہتر ثابت ہوئے ہیں اور ہم نے کوویڈ کے دوران مشکل فیصلے بھی کیے ہیں، کورونا میں حکومت کے مشکل فیصلوں کا عوام نے ساتھ دیا ہے، کراچی کے تاجروں نے بھی کورونا کے دوران حکومت کا ساتھ دیا ہے۔سابق وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہاکہ ناموس رسالت پر عمران خان نے فرینچ کو نکالنے کی مخالفت کی، آج وہ ہی شخص، عمران خان امریکا اور پوری دنیا کو ٹارگٹ کر رہا ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت والے کہتے ہیں کہ الیکشن کرائیں، میں کہتاہوں ساڑھے تین سال تم نے کیا کیا؟جو ایک اور موقع مانگ رہے ہیں، گزشتہ حکومت کی ہر چیز میں تباہی آئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں وفاقی حکومت کی جانب سے تعاون نہیں کیا گیا، گزشتہ حکومت نے ماحول کو پولرائزڈ کردیا تھا کہ وفاق صوبوں سے بات نہیں کرسکتا تھا، وفاق کی مدد کے بغیر سندھ حکومت کام نہیں کرسکتی۔ گزشتہ حکومت نے صوبے میں لوگوں کو خوش کرنے کیلئے گلی محلوں کے گٹروں کا کام کیا۔ گزشتہ حکومت نے عدلیہ، کاروبار، اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام اداروں کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں گرمی کی شدید لہر اور ہیٹ ویو کے تناظر میں بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کے الیکٹرک حکام کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بجلی کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے، لوڈشیڈنگ پر ہر صورت قابو پایا جائے۔ ٹھنڈی چھاں تلے رہنے کو یقینی بنائیں۔ کمشنر کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کیلئے پانی کی سہولیات ہر صورت ممکن بنائی جائے، جب کہ اسپتالوں کو بھی الرٹ رکھا جائے۔ عوام پانی کا زیادہ استعمال کریں۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ہیٹ ویو کے پیش نظر کے الیکٹرک کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہر صورت یقینی بنایا جائے۔مراد علی شاہ نے کے الیکٹرک کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔ اس وقت گرمی بہت ہے اس پر پالیسی تشکیل دے رہے ہیں، گرمی میں لوگ کام نہیں کرسکتے۔اس صورتحال میں مزدوورں اور عام لوگوں کا خیال رکھنا ہوگا۔زیراعلی سندھ نے کہا کہ امن و امان بڑا ٹاسک ہے، آج اپیکس کمیٹی کا اجلاس بلایا ہے، اہم فیصلے کئے جائیں گے۔ سیف سٹی پروگرام کو بھی جلد شروع کرنے والے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 2013 میں اس شہر کو بہت خطرناک 7 شہروں میں شمار کیا گیااسکے بعد تمام ادروں کی مدد سے کرائم انڈیکس کو نیچے لایا گیا۔ اسٹریم کرائم کے مسائل ہیں انکا حلا نکالا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ 2015 کے واقعے کے بعد سب کو احساس ہوا کہ لوگوں نے دھرنا ختم کیا، پوری قوم نے م لکر دھشتگردی کے خاتمہ کیا، سندھ حکومت نے سب سے زیادہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس کئے ہی۔ انھوں نے کہا کہ نیکٹا کو وزیراعظم بحال کرنا چاہتے ہیں، نیکٹا غیرفعال ہوگئی تھی۔انھوں نے کہا کہ دہشتگردی کراس بارڈر مسئلہ ہے، ہمیں مل جل کر دہشتگردی کو ختم کرنا ہے۔انھوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر ہم نے تو کام کیا لیکن دیگر دو صوبوں نے کتنا کام کیا ہے؟انھوں نے 20 نکاتی پلان ہی ختم کردیا۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ان لوگوں کو میری شکل ہی پسند نہیں تھی جس کے باعث نیشنل ایکشن پلان کو ختم کردیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ جائز معاملات کیلئے سب کو ٹیبل پر بیٹھ کر حل تلاش کرنا ہونگے۔

مزید :

صفحہ اول -