دریابھی خشک، ہیڈورکس سے پانی اخراج صفر، زرعی خطہ بنجر 

دریابھی خشک، ہیڈورکس سے پانی اخراج صفر، زرعی خطہ بنجر 

  

ملتان (سپیشل رپورٹر) ملکی دریاؤں میں ملکی تاریخ کی بدترین پانی کی قلت کے باعث ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے(بقیہ نمبر20صفحہ6پر)

 زرعی خطہ کو سیراب کرنے والے پانچ اہم ہیڈ ورکس پر پانی کا اخراج صفر ہوکررہ گیا ہے۔اس ضمن میں ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے زرعی خطہ کو سیراب کرنے والے اہم ہیڈ ورکس جن میں بلوکی،سدھنائی،سیلمانکی،اسلام اور پنجند ہیڈورکس شامل ہیں پر پانی کی آمد ملکی تاریخ کی سب سے کم ترین سطح پر آگئی ہے جس کے باعث ان ہیڈ ورکس سے پانی کا اخراج صفر ہوکر رہ گیا ہے۔محکمہ آبپاشی کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق دریائے راوی کے بلوکی ہیڈورکس پر پانی کی آمد17500کیوسک ہے جبکہ یہاں سے پانی کااخراج صفرہے،اسی طرح سدھنائی ہیڈ ورکس پر پانی کی آمد صرف 7696کیوسک ہے اور پانی کا اخراج صفر ہے،دریائے ستلج کے سیلمانکی ہیڈورکس پر پانی کی آمد6506کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ یہاں سے پانی کا اخراج صفر ہے اسی طرح اسلام ہیڈ ورکس پر پانی کی آمد صفر 500کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے اور یہا ں سے بھی پانی کا اخراج صفر ہے۔جبکہ جنوبی پنجاب کے بڑے پنجند ہیڈ ورکس پر پانی کی آمدصرف 4495کیوسک ہے اور یہاں سے بھی پانی کا اخراج صفر ہے۔ماہرین آبپاشی کا کہنا ہے کہ ملک میں بارشوں کا سلسلہ شرو ع نہ ہونے کے باعث دریاؤں میں پانی بدترین قلت پائی جاتی ہے جس کے باعث مذکورہ صورتحال مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔تاہم گرمی کے باعث پہاڑوں پر برف پگھلنے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جس کے نتیجہ میں دریاؤں میں پانی کی صورتحال مئی کے آخر میں بہتر ہونے کا امکان ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -