پاکستان، 6.5ملین ہیکٹر رقبہ شورزدہ،مسائل میں اضافہ

پاکستان، 6.5ملین ہیکٹر رقبہ شورزدہ،مسائل میں اضافہ

  

ملتان،مخدوم رشید(سپیشل رپورٹر،نمائندہ خصوصی)سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے کہا ہے کہ نمکیات اور سیم و تھور آبپاش زمینوں کو متاثر کرنے والے سب سے اہم مسائل میں سے ہیں۔ پاکستان میں 6.5 ملین ہیکٹر رقبہ شورزدہ ہے۔ کلراٹھے پن کی وجہ سے زرعی پیداواری صلاحیت میں سالانہ نقصان کا تخمینہ 31 ملین امریکی ڈالر ہے(بقیہ نمبر28صفحہ6پر)

۔ کلراٹھے پن کی وجہ سے عالمی سطح پر ہر سال 1.5 ملین ہیکٹر زرعی زمین پیداوار سے باہر ہوتی ہے جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں فوڈ سیکورٹی کے مسائل پیداہوسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کے زیراہتمام سلینیٹی پالیسی ریویو کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں 2017 کے دوران سیم وتھور اور نمکیات کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار کا نقصان 28.5 ملین ڈالر ہوا جبکہ کل سالانہ اقتصادی نقصان کا تخمینہ 300 ملین ڈالرلگایا گیا تھا۔ گندم ہماری خوراک کااہم جزو ہے۔ ملک کی معتدل نمکین زمینوں میں اس کی پیداوار کے نقصانات اوسطا 65 فیصد ہیں۔ فصلوں کی آبپاشی کیلئے زیر زمین پانی، صنعتی فضلہ اور سیوریج سے حاصل ہونے والا پانی نمکیات پیدا کرتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں نے نمکیات کے مسئلے کو انتہائی درجہ حرارت اور بڑھتے ہوئے بخارات کی منتقلی کے ساتھ مزید بگاڑ دیا ہے۔ زمینی رقبہ کے کم ہوتے حالات، قدرتی وسائل کا استحصال اور بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے مٹی کے ہر انچ کا تحفظ ضروری ہے۔ شورزدہ زمینوں کی اصلاح کیلئے آبپاشی کے طریقوں کو بدلنا ہوگا۔ زمینوں سے بخارات کی نقل و حمل کو کم کرنے کے لیے ملچنگ کا طریقہ اپنانا ہوگا اور نمکیات کی فلش فیلڈ سطحوں کو کم کرنا ہوگا۔ نمک سے متاثرہ علاقوں میں نمک برداشت کرنے والی فصلوں کی کاشت کا فروغ ضروری ہے۔ ہمارے بنجر اور نیم خشک علاقے نمک کو برداشت کرنے والے پودوں کے لیے زیادہ موزوں ہیں اور ان کے لیے درست انتظام اور پیداواری نظام کی ضرورت ہے۔ یہ پودے نمک سے متاثرہ زمینوں سے اضافی خوراک کی پیداوار کے ذریعے قومی آمدنی میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ کینولہ، کھجور، انجیر، امرود، فالسہ، کلر گراس، روڈز گراس، دیسی اور آسٹریلین کیکر سمیت دوسرے درخت اور چارہ جات لگائے جائیں۔ یہ پودے آسٹریلیا، سپین، اسرائیل سمیت دنیا کے دیگرممالک کے کاشتکاروں نے بھی شور زدہ زمینوں پر لگائے ہیں جوکہ کلراٹھی زمین سے بہتر پیداوار دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایکوا کلچر کے ذریعے جھینگے اور تلاپیہ مچھلی کو فروغ دینا ضروری ہے۔ٹیوب ویلز کے ذریعے پانی کو پمپ کرنے سے بھی نمکیات بڑھ رہے ہیں۔مختلف اداروں کی الگ الگ تحقیقات کو اکٹھا سٹڈی کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمکیات سے متاثرہ زمین کے پیداواری استعمال کو بہتر بنانے سے پاکستان کی مجموعی زمین اور پانی کی پیداواری صلاحیت میں بھی بہتری آسکتی ہے۔ سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے اہم ورکشاپ کے انعقاد پرڈاکٹر مائیکل مچل، ڈاکٹر بخشل لاشاری، فیض الحسن، ڈاکٹر محمد اشرف، ڈاکٹر منور رضا کاظمی کنٹری منیجر ACIAR سمیت دیگر مہمانوں اور منتظمین کا شکر یہ ادا کیا۔

اضافہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -