ملک کی موجودہ حالت کے ذمہ دار عمران خان: مریم نواز

ملک کی موجودہ حالت کے ذمہ دار عمران خان: مریم نواز

  

     لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور اس کی معیشت کو موجودہ نہج تک پہنچانے کے ذمہ دار  عمر  ا  ن خان ہیں انہیں جواب دینا ہی پڑے گا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے مریم نواز نے پی ٹی آئی چیئرمین کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ یہ سب عمران خان کاکیا دھرا ہے، لوگوں کو بے وقوف مت سمجھو، 4 سال کی بدترین کارکردگی کا حساب دو۔ سوال تم سے ہی پوچھا جائے گا۔ اور تمھیں جواب دینا پڑے گا۔ مریم نواز نے سوال اٹھایا  کہ پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کس چیز کی تنخواہیں لے رہے ہیں؟ ملک برباد کرنے کی یا آئین توڑنے کی؟مریم نواز  نے کہا کہ نوٹ اور مراعات دیکھ کر عمران اور  پی ٹی آئی کی رال ٹپکنے لگتی ہے، جھوٹے اور ملک کا خون چوسنے والے لوگ اسمبلیوں سے استعفے ایسے دے کر گئے تھے جیسے کبھی واپس نہیں آئیں گے مگر ان کے تمام اصول پیسہ دیکھ کر ہوا ہو جاتے ہیں۔دوسری طرف وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ عمران خان حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے معاہدے کے چنگل سے نکلیں گے تو ہی ڈالر نیچے آئے گا۔ ڈالر کی پرواز اور مہنگائی میں اضافہ عمران خان کے آئی ایم ایف سے معاہدے اور پھر اس کی خلاف ورزی کے اثرات ہیں، عمران خان نے جو معاہدے کئے ہیں، ان کے چنگل اور دلدل سے نکلیں گے تو ڈالر نیچے آئے گا اور اسٹاک ایکسچینج پھر اوپر جائے گا۔وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بیان میں کہا کہ عمران خان معیشت کو جس نہج پر چھوڑ کر گئے ہیں، اسے واپس لانا آسان کام نہیں، لیکن انشااللہ تعالی ہم اسے واپس ضرور لے کر آئیں گے، پٹرول پر سبسڈی نے پاکستان کی معاشی صورتحال کو شدید مالی دبا ؤسے دوچار کیا، عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت خرید اور پاکستان میں قیمت فروخت کے درمیان فرق سے حکومت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس مہینے تقریبا 120ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ تھا جو سویلین حکومت چلانے کے خرچ سے تین گنا زیادہ ہے، اتنا بڑا خسارہ کوئی بھی حکومت برداشت نہیں کرسکتی، اسی وجہ سے تمام مارکیٹوں میں ہلچل ہوئی اور مہنگائی پھیل رہی ہے، حکومت کے پاس پیسے نہ ہوں اور وہ پھر بھی سبسڈی دے تو مزید قرض لینا پڑتا ہے، اس وجہ سے شرح سود میں اضافے کے ساتھ روپے پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ عمران خان نے تاریخ کا سب سے بڑا قرض لیا، 71سال میں پاکستان نے جتنا مجموعی قرض لیا، عمران خان نے ساڑھے 3سال میں اس کا 80فیصد قرض لیا، انہوں نے ساڑھے تین سال میں 20ہزار ارب روپے قرض لیا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کی حکومت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہوئی، عمران خان 10.4ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر چھوڑ کر گئے ہیں، جو صرف 45دن کی امپورٹس کے مساوی ہیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر کی یہ صورتحال خطرناک ہے، کم از کم دو گنا ہونے چاہئیں، غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال نے پاکستان کے معاشی دباؤ کو بڑھایا ہے، عمران خان نے آئی ایم ایف سے کئے تحریری معاہدے کی خلاف ورزی کی جسے ہمیں دوبارہ بحال کرنا پڑا، عمران خان نے چین سعودی عرب سمیت تمام ممالک سے پاکستان کے تعلقات میں مسائل پیدا کئے جن پر اب ہم نے قابو پالیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان جواب دے کہ 115سے ڈالر 189پر کیوں لے کر گیا؟، جب ہم آئے تھے تو ڈالر 189پر تھا، شہباز شریف کے آنے کے بعد ڈالر نیچے آیا تھا، اسٹاک ایکسچینج کو شہباز شریف پر اعتماد تھا، اسی لئے 1700پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا، نوازشریف دور میں ہم ترقی کی شرح 5.8فیصد اور مہنگائی کم ترین 3.4فیصد پر چھوڑ کر گئے تھے، چار سال کی لوٹ مار، نالائقی، نااہلی کارٹلز اور مافیاز کی حکمرانی کی وجہ سے مہنگائی آسمان پر پہنچ گئی، عمران خان کو ملک و قوم کے خلاف اپنے جرائم کا جواب دینا ہوگا، ان شااللہ، ہم اس دلدل سے بھی نکلیں گے اور اسٹاک ایکسچینج پھر اوپر جائے گی۔

وزیر خزانہ

مزید :

صفحہ اول -