موبائل فونز کی درآمد پر عائد ٹیکسز میں کمی کی تجویز دے دی گئی

موبائل فونز کی درآمد پر عائد ٹیکسز میں کمی کی تجویز دے دی گئی
موبائل فونز کی درآمد پر عائد ٹیکسز میں کمی کی تجویز دے دی گئی
سورس: File Photo

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزارت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن کی طرف سے آئندہ بجٹ میں ٹیلی کام سیکٹر اور موبائل فونز کی درآمد پر عائد ٹیکسز میں کمی کی تجویز دے دی۔ نیوز ویب سائٹ ’پروپاکستانی‘ کے مطابق وزارت کی طرف سے ٹیلی کام سیکٹر کے سازوسامان اور موبائل فونز کی درآمد اور دیگر مدات میں ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے ملک میں ٹیلی کام اور موبائل فون انڈسٹری میں کاروبار کرنے میں آسانیاں پیدا ہوں گی۔

آفیشل ذرائع نے ’پروپاکستانی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کے اعلیٰ حکام کے مابین ایک میٹنگ ہوئی ہے جس میں مذکورہ تجاویز پیش کی گئیں۔ وزارت کی طرف سے یہ تجاویز ترجیح اول اور ترجیح دوم کے تحت ٹیلی کام سیکٹر کی آسانی کے لیے اس طریقے سے پیش کی گئی ہیں تاکہ حکومت کی طرف سے آمدن میں اضافے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات بھی متاثر نہ ہوں۔

ترجیح اول میں وزارت کی طرف سے تجویز دی گئی ہے کہ ٹیلی کام سیکٹر کے سازوسامان کی درآمدپر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کر دی جائے۔ اس کے بعد نئے آئی ٹی گریجوایٹس پر ٹیکس کریڈٹ کے خاتمے اور سیکٹر کے لیے ٹیکس سٹرکچر کو سادہ بنانے کی تجایز کو بھی اسی کیٹیگری میں رکھا گیا ہے، جبکہ موبائل فونز کی درآمد پر ٹیکس میں کمی کی تجویز کو ترجیح دوم میں رکھا گیا ہے۔واضح رہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی طرف سے بھی موبائل فونز پر ٹیکسز میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ 500ڈالر مالیت کے فون پر 80ہزار روپے ٹیکس لیا جا رہا ہے۔ کمیٹی کی طرف سے لیپ ٹاپس کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

مزید :

بزنس -