اپنے اعضائے مخصوصہ کاٹنے والے نوجوان کا اپنی جنسی صحت سے متعلق حیران کن دعویٰ

اپنے اعضائے مخصوصہ کاٹنے والے نوجوان کا اپنی جنسی صحت سے متعلق حیران کن دعویٰ
اپنے اعضائے مخصوصہ کاٹنے والے نوجوان کا اپنی جنسی صحت سے متعلق حیران کن دعویٰ
سورس: File Photo

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں اپنے جسم کے اعضائے مخصوصہ کاٹ ڈالنے والے نوجوان نے اپنی جنسی صحت کے متعلق ایک حیران کن دعویٰ کر دیا ہے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق اس 23سالہ آئی ٹی ورکر کا نام ٹرینٹ گیٹس ہے جو واشنگٹن ڈی سی کا رہائشی ہے۔ اس نے دو مختلف مواقع پر اپنا عضو مخصوصہ اور خصیے کاٹ کر جسم سے الگ کر دیئے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے شروع سے ہی لگتا تھا کہ یہ اعضاءاس کے جسم کا حصہ نہیں ہیں۔

اس نے دونوں بار اپنی خود ہی سرجری کی اور یہ حصے کاٹ کر اپنے جسم سے الگ کیے۔ دونوں بار اس نے الکوحل سے سینیٹائز کیے ہوئے تیز چاقو اور یخ بستہ پانی کا استعمال کیا اور اپنے جسم کو سُن کرنے کے لیے گولیاں کھائیں۔ دونوں بار اپنے جسم کے حصے کاٹنے کے بعد وہ ہسپتال چلا گیا اور ڈاکٹروں کو حقیقت بتا کر ہسپتال میں داخل ہو گیا اور صحت یاب ہو کر گھر واپس چلا گیا۔ 

ٹرینٹ گیٹس نے مردانہ عضو مخصوصہ سے ہی نجات حاصل کرنے کے بعد اب دعویٰ کیا ہے کہ اب بھی اس کی جنسی صحت بہترین ہے اور وہ جنسی طاقت کے لحاظ سے خود کو پہلے جتنا ہی مرد سمجھتا ہے۔ٹرینٹ کا کہنا تھا کہ دونوں بار اپنے اعضاءکاٹتے ہوئے میں نے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کیں۔ مجھے یہ سب کرتے ہوئے نہ کوئی خوف آیا اور نہ ہی تکلیف ہوئی۔ دونوں بار مجھے کوئی انفیکشن بھی نہیں ہوئی کیونکہ میں نے چاقو کو اچھی طرح سینیٹائز کیا تھا۔

 واضح رہے کہ دنیا میں ایک ایسی سوسائٹی پائی جاتی ہے۔ اپنے جسم میں انتہائی نوعیت کی تبدیلیاں کرنے والے لوگ اس سوسائٹی کے رکن ہوتے ہیں۔ اس سوسائٹی میں اکثریت ایسے مردوں کی ہے جو اپنے جنسی اعضاءکاٹ ڈالتے ہیں۔ اس سوسائٹی کے رکن کو Nulloکہا جاتا ہے۔ ٹرینٹ کا بھی کہنا ہے کہ اس نے ایک Nulloکی تصویر دیکھی تھی جس سے اسے اپنے جنسی اعضاءکاٹنے کی ترغیب ملی۔

مزید :

بین الاقوامی -