اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کو استعمال کیا، سراج الحق

اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کو استعمال کیا، سراج الحق
 اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کو استعمال کیا، سراج الحق

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں نے ماضی میں ایک دوسرے کو استعمال کیا۔ حکمرانوں نے ہمیشہ آئین کے تابع رہنے کی بجائے، آئین کو تابع کرنے کی کوشش کی ہے۔ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ عدلیہ، الیکشن کمیشن اور اسٹیبلشمنٹ غیرجانبدار رہیں۔ وکلا سیاسی جماعتوں کے لیے استعمال نہ ہوں، شہریوں کے حقوق اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کریں۔ آزاد عدلیہ اور آزاد الیکشن کمیشن ہر پاکستانی کا مطالبہ ہے۔ آئین و قانون کی بالادستی کا قیام ترقی کا پہلا زینہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامک لائرز موومنٹ پنجاب وسطی کی صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مرکزی صدر آئی ایل ایم توصیف آصف ایڈووکیٹ، صدر آئی ایل ایم پنجاب وسطی نعمان عتیق ایڈووکیٹ، سیکرٹری جنرل آئی ایل ایم پنجاب وسطی اسعد جمال اکبر اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ مافیاز نے سیاست کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ پی ٹی آئی نو سالوں سے خیبرپختونخوا میں، پی پی پی 14سالوں سے سندھ میں برسراقتدار ہے  لیکن اندازِ حکمرانی میں کوئی فرق نہیں۔ ن لیگ پنجاب پر 10سال متواتر حکمران رہی، بتایا جائے عوام کے لیے کیا کام کیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل جوں کے توں ہیں ، صوبے میں بے چینی بڑھ رہی ہے، کسی حکومت نے وعدے پورے نہیں کیے۔ مہنگائی میں ناقابل برداشت اضافہ ہو چکا ہے۔ حکمران آج کے ہوں یا کل کے، سب تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں،  عوام نے سب کو آزما لیا، ثابت ہو گیا حکمران جماعتیں سٹیٹس کو کی محافظ ہیں۔ قوم حقیقی تبدیلی اور ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دے۔

مزید :

قومی -