اطباءکی آسامیاں بحال کی جائیں،نیشنل کونسل فار طب

 اطباءکی آسامیاں بحال کی جائیں،نیشنل کونسل فار طب

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور (بزنس رپورٹر ) نیشنل کونسل فار طب کے زیر اہتمام ملک کی تمام طبی تنظیموں کے اہم ذمہ داران کا ایک مشترکہ اجلاس زیر صدارت حکیم محمد احمد سلیمی منعقد ہواجس میں حکومت پنجاب کی جانب سے محکمہ ہیلتھ کی جاری کی جانے والی یارڈ سٹک سے اطباءکی آسامیوں کو ختم کرنے پر گہری تشویش اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پہلے ہی پرائمری اور سیکنڈری سطح پر مریض معالج کی شرح دنیا کی نسبت خطرناک حد کو چھو رہی ہے اور کثیر آبادی کو صحت کی بنیادی سہولیات میسر نہیں ، اس صورتحال میں سرکاری مراکز صحت میں اطباءاور ہومیو پیتھس کی آسامیوں کو ختم کرنا عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی حصول میں مزید مشکلات سے دوچار کرنے کے مترادف ہے-تمام راہنماﺅں نے اس اقدام کے خلاف متفقہ جدو جہد کرنے پر اتفاق کیا اورمختلف فیصلے کئے جس میں صوبہ پنجاب میں اطباءکی آسامیوں کو بحال کرانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے،ملک میں تین طریقہ ہائے علاج قانونی طور پر تسلیم شدہ اور رائج ہیں۔ آئین پاکستان ہر شہری کو مساوی حقوق مہیا کرتا ہے اسی آئین کی رو سے ہر شہری کو اپنی پسند کے طریقہ علاج سے استفادہ کرنے کا پورا حق ہے حکومت پنجاب کا یہ اقدام آئین پاکستان کی بھی یکسر خلاف ورزی ہے ،لہذا اطباءکی سرکاری ملازمتوں کو فی الفور بحال کیا جائے،محکمہ ہیلتھ پنجاب کی یارڈ سٹک میں اطباءاور ہومیو پیتھس کے شعبوں کو شامل کیاجائے،گریجوایٹ اطباءکے لیے گریڈ 17 میں تعیناتی عمل میں لائی جائے۔
، آبادی کے تناسب سے سرکاری ا?سامیوں میں اضافہ کیاجائے،اگر حکومت پنجاب اطباءکی سرکاری ملازمتوں کو بحال نہیں کرتی توہر فورم پر بھرپور احتجاج کیا جائے گا صوبہ پنجاب میں اطباءکی سرکاری ملازمتوں کو ختم کرنا عالمی ادارہ صحت(WHO) کی جانب سے جاری کی جانے والی طب یونانی کی گائیڈ لائن کی بھی خلاف ورزی ہے لہذا عالمی ادارہ صحت کے نمائندگان اور ذمہ داران سے بھی رابطہ کیا جائے گا اور ان کو بھی اس خلاف ورزی سے ا?گاہ کیاجائے گا،ر ضلعی ہیڈ کوارٹر پر ڈپٹی کمشنر ا?فس اور پریس کلب کے باہر بھرپور مظاہرے کیے جائیں گے اور مطالبات پر مشتمل عرضداشت پیش کی جائے گی،انونی چارہ جوئی کے لیے بھی تمام ممکنہ کاروائی عمل میں لائی جائے گی،تمام طبی تنظیمیں اس متفقہ پلیٹ فارم سے اپنی جدوجہد متفقہ حکمت عملی کے تحت ہی جاری رکھیں گی-