پی ڈی ایم کا احتجاج 

پی ڈی ایم کا احتجاج 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے پیر کو سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ جمعتہ المبارک کو اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمن  کے زیر صدارت پی ڈی ایم کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف، وزیراعظم شہبازشریف اورمریم نواز نے ویڈیو لنک سے شرکت کی جبکہ اجلاس میں شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، اختر مینگل، میر کبیر، آفتاب شیرپاؤ، احمد نواز جدون،  ظاہر بزنجو اور اویس نورانی شریک ہوئے۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن  نے عمران خان کی رہائی کے  عدالتی فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عدلیہ کہاں کھڑی ہے اور کس طرح وہ آئین و قانون سے ماورا فیصلے دے رہی ہے، کیا یہ رعایت تین بار ملک کے وزیراعظم منتخب ہونے والے نواز شریف کو دی گئی، جب اْن کو اطلاع ملی کہ اْن کی اہلیہ آئی سی یو میں چلی گئی ہیں تو اُنہوں نے درخواست کی کہ اہلیہ کی خیریت پوچھنے دیں لیکن اْن کو ٹیلی فون تک فراہم نہیں کیا گیا اور جب وہ واپس اپنے سیل میں گئے تو تین گھنٹوں بعد اْنہیں بتایا گیا کہ اْن کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا ہے۔ اْنہوں نے سوال کیا کہ کیا اِس قسم کی رعایت مریم نواز اور فریال تالپور کو دی گئی، آج عمران خان کو وی وی آئی پی پروٹوکول فراہم کیا جا رہا ہے، پورے ملک میں غنڈہ گردی ہو رہی ہے۔ اْن کا کہنا تھا کہ وہ انتخابات سے متعلق تین،دو کا فیصلہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اْن کے نزدیک چار،تین کا فیصلہ ہی عدالت کا فیصلہ ہے۔ پی ڈی ایم سربراہ نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قانون بن جانے کے بعد اب آپ اکیلے کسی مسئلے پر ازخود نوٹس نہیں لے سکتے اور سب کا متفقہ فیصلہ یہی ہے کہ پیر کے روز سپریم کورٹ کے سامنے پْر امن احتجاج ہو گا، ملک بھر کے عوام اور ہماری پارٹی کا ایک ایک رکن گھر سے نکلے گا۔  مولانا فضل الرحمن  نے کہا کہ اْنہوں نے پہلے بھی پرامن احتجاج کیا تھا اور وہ اب بھی پْرامن رہیں گے تاہم اگر کسی نے اْن کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھا یا ہاتھ اْٹھانے کی کوشش کی تو ڈنڈے، تھپڑ اور مکے سے بھی جواب دیا جائے گا۔ 

احتجاجی دھرنے کا اعلان کرتے ہوئے مولانا صاحب نے اپنے مزاج کے برعکس قدرے سخت لب و لہجہ اختیار کیا اور عدلیہ کے مجموعی طرز عمل کو ہدف بنایا۔ایک سوال کے جواب میں اْنہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں لگائی گئی دفعہ 144 اْن کا مسئلہ نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے احتجاج سے قبل اسلام آباد انتظامیہ سے اجازت لیں گے اور اگر نہیں لیں گے تو بنا اجازت احتجاج کیسے کریں گے؟ اْنہیں معلوم ہے کہ کسی قسم کے احتجاج سے پہلے انتظامیہ سے اجازت لینا ضروری ہوتا ہے، لوگوں کے آنے جانے کے روٹ اور جگہ کا تعین کیا جاتا ہے، ہزاروں افراد کے اجتماع کی سیکیورٹی کے انتظامات کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو وہ حکومت کا حصہ ہیں اور دوسری طرف وہ قانون کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جو مرضی میں آئے وہ کریں،خود ہی دفعہ 144کی خلاف ورزی کر گزریں۔ پی ڈی ایم میں سیاسی جماعتوں کے تجربہ کار رہنما شامل ہیں، اْنہوں نے سیاست کے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں، کئی دھرنے دیے، درجنوں لانگ مارچ کیے، سینکڑوں احتجاج کیے، ہزاروں جلسے کیے، اور بخوبی جانتے ہیں کہ اِس طرح کے احتجاج کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اِس طرح کے رویے سے ملک کے معاملات میں بہتری کیسے آ سکتی ہے؟  یہ بات مانی جا سکتی ہے کہ عدلیہ کے طرف سے 63۔اے کی تشریح، انتخابات اور عمران خان کی ضمانتوں سے متعلق فیصلے حکومت کی توقعات کے برعکس آئے ہیں، حکومت اِن فیصلوں کی وجہ سے جھنجھلاہٹ کا شکار ہے، غم و غصے کا اظہار بھی کر رہی ہے لیکن اِن فیصلوں کو مان لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، حکومت کا کام عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کراناہے نہ کہ اُس کے فیصلوں کے خلاف احتجاج کرنا۔ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا تو مسلم لیگ ن اور جمعیت علما ء اسلام سمیت بعض سیاسی جماعتوں کو اِس فیصلے سے اختلاف تھا لیکن فیصلے پر عملدرآمد ہوا، نواز شریف نے وزیراعظم ہاؤس خالی کیا اور جاتی امراء چلے گئے۔حیران کن بات یہ ہے کہ اجلاس میں نواز شریف اور خود وزیراعظم میاں شہباز شریف کے ساتھ ساتھ دوسری سیاسی جماعتوں کے نمائندے بھی شریک تھے پھربھی احتجاج کی راہ اپنانے پر اتفاق ہو گیا۔ عمومی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی ایسے معاملات میں احتیاط برتتی ہے تاہم پیپلز پارٹی نے بھی پی ڈی ایم کے احتجاج میں شریک ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری کا کہنا تھا کہ انصاف کے دوہرے معیار کے خلاف پیر کو بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

یہ زیادہ پرانا قصہ نہیں جب عدالت نے نواز شریف کو شدید علالت کے پیش نظر ملک سے باہر جانے کی اجازت دی،وزیر اعظم شہباز شریف اور مریم نوازکی ضمانتیں منظور ہوئیں تو اُس وقت سابق وزیراعظم عمران خان سمیت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت بھی تلملاہٹ کا شکار تھی، ایسے ہی اٹھتے بیٹھتے غصے کا اظہار کرتی تھی،کم و بیش ایسے ہی جملے ادا کرتی تھی جو وزیراعظم صاحب اور اتحادی جماعتوں کی قیادت آج ادا کر رہی ہے۔ یہ بات یاد رہنی چاہئے کہ عدالتیں ریلیف دینے کے لیے ہیں اور وہ اپوزیشن کو ریلیف دیا ہی کرتی ہیں، ماضی میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں کہ جب عدالتوں نے حکومت اور انتظامیہ کو کسی بھی صورت کسی سیاست دان کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو  کے دور اور اُس کے بعد بھی بعض اوقات عدلیہ کی جانب سے ایسا ہی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ احتجاج عام طور پر اپوزیشن سے منسوب ہوتا ہے لیکن یہاں حکومتی جماعتیں ہی احتجاج پر تُل گئیں ہیں اور وہ بھی ریاست کے اہم ستون کے خلاف، اِس کی ملکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ حکومت ہر حال میں اداروں کی توقیر کی محافظ ہوتی ہے، عدالتی فیصلے تمام فریقین کی خوشی کا باعث نہیں ہوتے، اِس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن حکومت کی طرف سے اُن پر احتجاج کے کسی جواز کو مناسب قرار نہیں دیا جا سکتا۔گزشتہ ایک ہفتے میں احتجاج کے نام پر جو کچھ ہوا ہے اُس کا خمیازہ بھگتنا ابھی باقی ہے، قوم اب مزید کسی احتجاج کی متحمل نہیں ہو سکتی، اِس سے حالات میں مزید بگاڑ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہمیشہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی ضرورت نہیں ہوتی، اِس وقت جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے، متحدہ حکومت کی کارکردگی ہی اُسے سرخرو کر سکتی ہے۔ریاستی معاملات آئینی اور قانونی طریقے سے ہی چلائے جانے چاہئیں، عمران خان صاحب کی گرفتاری کے بعد بھی اگر قانونی جنگ ہی لڑی جاتی تو ملکی و ذاتی املاک کا اتنا نقصان نہ ہوتا۔یہ وقت جذبات کی رو میں بہہ کر فیصلے کرنے کا نہیں ہے، اہل اقتدار کے لئے بہتر یہی ہے کہ احتجاج کے اِس فیصلے پر نظرثانی کریں،کہیں کوئی انہونی نہ ہو جائے، ملکی حالات کو بہتر بنانے کے لئے موثر حکمت عملی اختیار کریں، ملک کو مزید دلدل میں دھکیلنے کا اہتمام نہ ہی کریں۔

مزید :

رائے -اداریہ -