گدھوں کے بیوپاری

  گدھوں کے بیوپاری
  گدھوں کے بیوپاری

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 پنجابی زبان کی کہاوت ہے کسی کمہار کا گزر گاؤں کے ایک سکول کے پاس سے ہوا اْستاد غصے میں بچوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ میں تو گدھوں کو بھی بندہ بنا دیتا ہوں یہ سننا تھا کہ کمہار سکول  کے اندر اپنے گدھوں سمیت آ پہنچا اس نے اْستاد سے مخاطب ہو کر کہا کہ کیا آپ میرے گدھوں کو بھی انسان بنا سکتے ہیں؟ اْستاد مسکرا کر بولا کیوں نہیں یہاں چھوڑ جاؤ اور پھر آٹھ دن بعد آکر ان کا پتہ کر لینا، کمہار بہت خوش ہو گیا اور دن رات آٹھ دن گزرنے کا انتظار کرنے لگا ماسٹر جی نے اس کمہار کی جہالت کو دور کرنے کا منصوبہ بنا لیا تاکہ وہ زیست کا حقیقی سبق سیکھ سکے جب تب کر کے آٹھ دن گزرے تو کمہار اسکول کی طرف لپکا تاکہ اپنے گدھوں کو انسان کے روپ میں دیکھ سکے اور ان سے خوب غلامی کروائے،جانے کیا کیا خواب سجائے کمہار جب سکول کے اندر  داخل ہوا اور  دونوں گدھوں کے بارے میں پوچھنے لگا  ماسٹر جی نے اس کی اضطرابی کیفیت کو پہلے ہی بھا نپ لیا تھا اس کے  پوچھنے پر کہ اس کے براؤن اور سفید گدھے کا کیا بنا؟ کیا آپ نے ان کو انسان بنا لیا ہے؟ استفسار کرنے پر اْستاد محترم مسکرائے اور کہنے لگے کہ تم چار گھنٹے دیر سے آئے ہو تمہارا براؤن اور سفید گدھا دونوں پڑھ لکھ کر گاؤں کے بڑے آفسر لگ چکے ہیں اب جاؤ مزید دیر مت کرو اوران سے مل آؤ تمہارا براؤن گدھا پڑھ کر گاؤں کا تھانیدار لگ گیا ہے اور تمہارا سفید گدھا گاوں کا تحصیلدار بن چکا ہے۔
کمہار جا کر لگا تھانیدار سے اٹھکیلیا ں کرنے سپاہی نے بہت سمجھایا مگر کمہار کو تو مان تھا کہ یہ تھانیدار تو اس کا براؤن گدھا ہے بالا آخر تھانیدار نے خوب جوتوں اور لاتوں سے تواضع کی جس پر کمہار کہنے لگا مانا کہ تم پڑھ لکھ گئے ہو مگر ہو تو میرے ہی گدھے اور یہ تمہاری لاتیں مارنے والی عادت بھی ابھی اْسی طرح قائم ہے خیر کمہار مایوس ہو گیا تو کپڑے جھاڑ کر اب تحصیلدار کے دفتر آ پہنچا وہاں بھی لگا تحصیلدار کو  پچکارنے اور کہنے لگا کہ میرے سفید گدھے تم نے تو بہت بڑا اور صاف دفتر بنایا ہوا ہے تم پہلے بھی صاف رہتے تھے اور اب بھی صاف ستھرا رہتے ہو میں تم سے بہت راضی ہوں  یہ سن کر تحصیلدار نے بھی جوتے اور لاتوں سے کمہار کی خوب خدمت کی جوتے کھا کر تحصیلدار کے دفتر سے بھی  بھاگ نکلا اور کہتا ہو جا رہا تھا کہ تعلیم کا ان گدھوں پر کوئی اثر نہیں ہوا بہتر تھا ان کو ان پڑھ ہی رکھتا۔
پاکستان کا حال بھی اس کمہار کے جیسا ہے جو سمجھتا ہے کہ گدھوں کو انسان بنا کر مسندوں پر بیٹھائے گا تو ملک ترقی کر جائے گا مگر گدھوں کو انسان بنانے کی خواہش نے ان کو گدھ بنا دیا ہے جو مردہ گوشت بھی نہیں چھوڑتے، درحقیقت  تعلیم، تجربہ، قومی سانحات  اور سیاسی غلطیوں کے باوجود ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا  ہم کبھی اپنی داخلہ پالیسیوں سے ڈسے جاتے ہیں تو کبھی خارجہ پالیسیوں سے ڈنگ کھاتے ہیں کبھی اپنے ہی گدھوں کو انسان بنا نے کی کوشش میں انسانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں تو کبھی انسانوں کو گدھا بنا کران کی دولتیوں سے محظوظ ہوتے ہیں  ہماری مجموعی سیاست عفت و غیرت، شرم وحیا، لحاظ، تمیز و تہذیب، شائستگی اور اخلاقی اقدار سے کوسوں دور نکل چکی ہے۔ ایک ہجوم ہے ناجانے کہاں جا کر رکے گا، عوام غربت، تنگ دستی، مسائل، ذہنی دباو اور فکر معاش و معاشرت کی کشمکش میں تباہی کے دھانے تک جا پہنچی ہے ملک کا عام طبقہ خانہ بدوشوں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہے مگر ہمارے  سیاستدانوں کو کسی شے کی کوئی فکر نہیں سیاسی اداکار ہوں یا ادارے  سب اَنا کی پھٹی میں جل رہے ہیں۔ پاکستان کی فکر ان کا محور و مرکز نہیں ہے۔
ہم انہی حالات کے قابل ہیں کیونکہ ہماری خارجہ و داخلہ پالیسیاں ہمیشہ سے تذبذب کا شکار ہیں ہم نے آج تک جو بھی فیصلے  کیے  ان میں غلطیاں نہیں غلطان رہے۔افسوس یہ کہ ہم نہ اپنی تاریخ سے سیکھتے ہیں اور نہ ہی اپنے تجربات سے سبق لیتے ہیں کاش کہ ہم نے خود انحصاری کی طرف قدم رکھا ہوتا تو آج آئی ایم ایف کے سامنے زیر و زبر نہ ہوتا پڑتا ملک کو درپیش مسائل اس قدر الجھ چکے ہیں کہ اب یوں لگتا ہے کہ ہم سب نم ہو چکے ہیں ہمیں کسی بھی تذلیل سے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ امریکہ کے ہاتھوں ہو کہ انڈیا کے ہاتھوں  وہ چین کے ہاتھوں ہو یا پھر روس کے ہاتھوں ہو ہم کلی طور پر نم ہو چکے ہیں جس ملک کی ستر سال سے  خارجہ پالیسی کا تعین  نہ ہو سکا ہو اْس کی داخلہ پالیسی کا  ناکام ہونا لازم  ہے کیونکہ اپنے ہی ہیروں کو تراش کر کوئلے میں دوبارہ جھونکنے والا بیوپاری کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا،دراصل ہم بہت انوکھے لوگ ہیں شاید ہی دنیا میں کہیں اتنی غیر سنجیدہ قوم پائی جاتی ہو اور نہ ہی ایسے  سیاستدان کسی قوم کو میسر آئے ہوں ہم وہ کرتے ہیں جو قومیں کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتیں۔ ہمیں یقینا قومی فیصلوں میں تحمل و بردباری کی ضرورت ہے سوچ بچار اور فکر و تدبر کی ضرورت ہے۔ ہمیں اب یہ سمجھنا ہو گا کہ کبھی کسی بھی اعتبار سے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت نہیں کیا جا سکتا اور کر بھی لیا جائے تو وہاں ایک اور عدالت بھی ہے جو ہماری تاک میں ہے جو سب جانتی، پہچانتی اور سمجھتی ہے اس کے فیصلے بہت سخت و پائیدار ہوتے ہیں۔ہمیں ایک دن اْس کے سامنے جوابدے ہونا ہے۔
حال ہی میں تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان اور پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کی گرفتاریوں  کے بعد جو کچھ بھی پاکستان میں ہو رہا ہے انتہائی افسوسناک ہے ان معاملات کو کسی بہتر طریقے سے بھی ڈیل کیا جا سکتا تھا،مگر ایسا نہیں ہوا کاش حالات کو مثبت رخ دیا جاتا عوام کی اْمنگوں و اْمیدوں کا خیال رکھا جاتا مانا کہ قانون کی پاسداری ریاست کا حق ہے مگر شاید شک و شبہات کو دور کر کے قانون پر عمل درآمد کرانا زیادہ آسان ہوتا ان تحفظات کو تحفظ دیا جاتا کہ جن کا اظہار عمران خان کئی بار کر چکے تھے  کچھ معاملات کو باریکی سے حل کرنے سے شاید اس قدر مسائل پیدا نہیں ہوتے۔
اس وقت جو جلاؤ گھیراؤ کی کیفیت ملک میں شدت اختیار کرتی جارہی ہے اس ہجوم کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے اینٹ کا جواب پتھر سے دینا لازم نہیں ہوتا کبھی کبھی کچھ چیزوں کو حالات کے سپرد بھی کر دینا چاہیے تاکہ ہر شے اپنی جگہ پر خودبخود بیٹھ جائے۔ اللہ سے التجا ہے کہ پاکستان کی مدد فرمائے اور ان مسائل کے گرداب سے نجات عطا فرمائے،آمین

مزید :

رائے -کالم -