جلاؤ گھیراؤ میں ملوث افراد تربیت یافتہ دہشتگرد،مستقبل میں ہر کوئی ایسا سوچے گا:رانا ثناء اللہ

  جلاؤ گھیراؤ میں ملوث افراد تربیت یافتہ دہشتگرد،مستقبل میں ہر کوئی ایسا ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


        اسلام آباد (آن لائن)وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے  عمران خان کی گرفتاری کے بعد جلاؤ گھیراؤ کرنے والے افراد کو تربیت یافتہ دہشت گرد قرار دیتے کہاہے کہ  انہیں پچھلے ایک سال سے تربیت دی جا رہی تھی،9مئی کو ملک میں فتنہ برپا کیا گیا،9سے12مئی تک ملکی املاک پر حملے کیے گئے، دفاعی تنصیبات، سیاسی مخالفین کے گھروں پر حملے کرنا یہ سیاسی کلچر نہیں، عمران خان نے ہر شہر میں گینگ بنائے، کسی کو بخشا نہیں جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے   اسلام آباد میں پریس کانفرنس  سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ رانا ثنااللہ نے کہا کہ 9 مئی سے 11 مئی تک 3 دن ملک میں فتنہ فساد، سرکاری اور حساس دفاعی تنصیبات پر حملے کیے گئے، شہدا کی یادگاروں کو نذر آتش کیا گیا اور لوگوں کے گھروں پر حملے کیے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم کہتے رہے ہیں یہ شخص سیاسی لیڈر نہیں بلکہ یہ ایک فتنہ ہے اور اس کا مقصد ملک میں افراتفری، انارکی اور فساد پھیلانا ہے، اسی مقصد کے تحت یہ پوری جدوجہد کر رہا ہے، 2014 سے بالعموم اور پچھلے ایک سال سے بالخصوص اس فتنے نے ایک ایسا کلٹ تیار کیا ہے جس کا اندازہ حالیہ واقعات کی ویڈیوز سے باآسانی لگایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کوئی سیاسی جماعت یا سیاسی کارکن نہیں ہیں، یہ ایک مخصوص مائنڈ سیٹ ہے، جس کے اندر نفرت، عناد، گھیراؤ جلاؤ، میں چھوڑوں گا نہیں کسی کو اور میں ماردوں گا کا کلچر ہے، اس نے جو سرمایہ کاری کی ہے وہ صاف نظر آرہی ہے، شہدا کی یادگاروں کو آگ لگانا کون سی سیاست ہے، دفاعی تنصیبات کے اوپر حملہ کرنا، آگ لگانا، اپنے سیاسی مخالفین کے گھروں پر حملہ کرنا ہمارا سیاسی کلچر نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ہاں سیاست میں کتنی تلخی رہی ہے، کسی زمانے میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سیاسی اختلاف رہا لیکن ہم کبھی ایک دوسرے کے گھروں پر پہنچے مگر تند و تیز سیاسی بیانات دیتے رہے ہیں۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ یہ کون سا سیاسی کارکن ہو سکتا ہے جو ایمبولینس سے مریضوں کو نکالے اور ایمبولینس کو آگ لگا دے، اسکولوں اور ریڈیو پاکستان کو آگ لگائے۔ان کا کہنا تھا کہ وہاں ایک مویشی منڈی تھی وہاں پہلے لوٹ مار ہوئی پھر مویشیوں کو آگ لگا دی، جن لوگوں نے یہ حملے کیے ہیں کیا ان کے گھر خلا میں ہیں، ان کے گھر بھی اسی زمین میں ہیں تو پھر اس قوم کو کس طرف دھکیل رہے ہیں۔۔ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو پورے پاکستان میں مجموعی طور پر 40 ہزار سے 45 ہزار لوگوں نے احتجاج کیا، یہ عوامی ردعمل نہیں تھا۔وفاقی وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کے پرتشدد احتجاج حوالے سے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تربیت یافتہ دہشت گرد اور فسادی تھے، جن کی تربیت یہ فتنہ پورے ایک سال سے کر رہا تھا، ان کی فہرستیں بن رہی تھی، ان کو تربیت دی جا رہی تھی، ان کو پڑھایا، سمجھایا جا رہا تھا، ان کو پیٹرول بم بنانے کے طریقے سمجھائے جا رہے تھے، جگہ جگہ پر آگ لگائی گئی تھی وہ پیٹرول بم بنانے کے طریقے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان کو غلیلیں دی گئی ہیں اور پنجاب، گلگت بلتستان، کراچی، اسلام آباد اور ہر جگہ مخصوص غلیلیں ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ قوم کے لیے بڑے دکھ کی بات ہے، اس آدمی نے 60 ارب لوٹے، قومی خزانے کو 60 ارب کا ٹیکا لگایا گیا، 458 کنال کی القادر ٹرسٹ کے نام پر رجسٹری کرائی گئی۔انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی والوں نے ان سے زیادہ لوگوں کو منظم کیا ہے، اس کی ایما پر لوگوں کے گھر، حساس عمارتوں کو جلایا گیا، اس کی ایما پر قومی املاک کو جلایا گیا
وزیر داخلہ

  سیالکوٹ(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان کی کفالت کی جارہی ہے، اس کو پالا جارہاہے، ہمارامطالبہ ہے عدلیہ سہولت کاری چھوڑے، یہ کونسا انصاف ہے، کونسی عدالتیں ہیں؟ زرداری صاحب کی ہمشیرہ کو نظربند کیاگیا، شہبازشریف کے گھر کامحاصرہ کیا گیا،میرابیٹا اور بیوی بھی عدالتوں میں پیش ہوتے رہے، پورے پورے خاندان کو عدالتوں میں بلایا گیا، فوج پرجس طرح حملے ہوئے صدرنے ایک لفظ بھی نہیں کہا، مختلف شہروں میں آرمی تنصیبات پر حملہ ہوا، عمران خان والا پراجیکٹ اسٹیبلشمنٹ کالانچ کیا ہوا ہے۔سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کے دوران خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عدالت نے ملزم کوکہا آپ کودیکھ کرخوشی ہوئی، اگرخوشی ہوئی ہے تو اٹھ کر گلے لگالو۔ جو ریلیف اس شخص کو مل رہاہے کاش ہمیں بھی ملتا۔ لیگی رہنما نے کہا کہ 2018میں ایک ایجنڈے پر نوازشریف کیخلاف عملدرآمدہوا۔ نوازشریف کو سیاست سے نکالنے کاگٹھ جوڑتھا مگر نوازشریف سیاست سے باہرنہیں ہوئے۔ سازش میں شامل کردار آج رسوا ہو رہے ہیں، سازش میں شامل کردارعزت بچانے کیلئے صفائیاں دے رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ کونسا انصاف ہے، کونسی عدالتیں ہیں؟ زرداری صاحب کی ہمشیرہ کو نظربند کیاگیا، شہبازشریف کے گھر کامحاصرہ کیا گیا،مقدمات بنائے گئے۔ میرابیٹا اور بیوی بھی عدالتوں میں پیش ہوتے رہے، پورے پورے خاندان کوعدالتوں میں بلایا گیا۔ میں نے کبھی اپنے سیاسی مخالفین کونشانہ نہیں بنایا۔ ہماری سیاست میں کہیں بھی انتقام کالفظ نہیں ہے۔ وزیردفاع کا کہنا تھا کہ پچھلے5سے7سال کی سیاست میں بہت سی حدودکراس ہوئی ہیں، چادر،چاردیواری کاتقدس پامال کرنیکی اجازت نہیں دی جاسکتی، جن خاندانوں کا تقدس مجروح ہوا ان سے معافی مانگتاہوں۔ ذاتی طورپرشرمندہ ہوں جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ فوج پرجس طرح حملے ہوئے صدرنے ایک لفظ بھی نہیں کہا، مختلف شہروں میں آرمی تنصیبات پر حملہ ہوا، عمران خان والا پراجیکٹ اسٹیبلشمنٹ کالانچ کیا ہوا ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر عثمان ڈار کی فیملی اجازت دے تو ان کے گھر جا کر معافی مانگنے کو تیار ہوں۔سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار کے گھر پولیس کارروائی سے متعلق کہاکہ انتظامیہ اور پولیس نے جو کیا وہ باعث ندامت ہے۔انہوں نے کہا کہ عثمان ڈار کی والدہ میری بہن ہیں، سوچ نہیں سکتا تھا ان کے ساتھ ایسا رویہ ہوگا، ہماری سیاست میں کہیں بھی انتقام کا لفظ موجود نہیں، ذاتی طور پر شرمندہ ہوں اور جتنی بھی مذمت کی جائے ان چیزوں کی وہ کم ہے۔خواجہ ا?صف کا کہنا تھاکہ جن فیملیز کا تقدس پامال ہوا، میں معافی مانگتاہوں، ذاتیات پر مبنی سیاست نہیں کرتا، اگر ہمارے ساتھ کچھ ہوا ہیتوبھی ہمیں حق نہیں کہ مخالفین کیساتھ اس طرح رویہ رکھاجائے، انتظامیہ اور پولیس کاکچھ نہیں جاتا، میرے لیے باعث شرم ہے، جن خواتین کی عزت پامال ہوئی، ان کے گھروں پر جاکر معافی مانگنے کیلئے تیارہوں۔
خواجہ آصف

مزید :

صفحہ اول -