پی سی ایف آر کے زیر اہتمام پاک ایران تعلقات پر سیشن کا انعقاد

  پی سی ایف آر کے زیر اہتمام پاک ایران تعلقات پر سیشن کا انعقاد

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


          کراچی (سٹاف رپورٹر)پاکستان کونسل آن فارن ریلیشنز کی جانب سے کراچی میں "پاکستان ایران تعلقات: امکانات اور چیلنجز" کے موضوع پر ایک انٹرایکٹو سیشن کا انعقاد کیاگیا۔تقریب میں ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر واحد جلال زادہ،این ایس ایف پی سی کے ترجمان ڈاکٹر ابوالفضل اموئی، ایران پاکستان فرینڈ شپ گروپ کے رکن انجینئر رمضان علی سنگڈوینی، حسین اسدی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اجلاس میں کراچی میں مقیم قونصل جنرلز، پاکستان کے سابق سفیر، پاکستانی پارلیمنٹیرینز، تاجر برادری، PCFR کے اراکین اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر)گلزار احمد نے خطبہ اسقبالیہ پیش کیا جبکہ جنرل پی سی ایف آر احسن مختار زبیری نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مفادات کے فروغ میں PCFR کے کردار اور شراکت پر روشنی ڈالی۔ پی سی ایف آر کے سینئر بورڈ ممبر سفیر سید حسن حبیب نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات نے بلندی اور پستی کے مختلف مراحل دیکھے ہیں۔ سفیر حبیب نے کہا کہ ایران کے ساتھ سرحد پر بعض مسائل کے باوجود ہمیشہ قابل انتظام رہی اور دونوں ممالک نے مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیاہے۔ڈاکٹر واحد جلال زادہ نے کہا کہ ایران اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے اور ہم پاکستان کے ساتھ بھی باہمی طور پر مفید تعلقات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ایک صوبے کے گورنر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے انہوں نے دیکھا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے بہت اہم ہیں۔ ڈاکٹر جلال زادہ نے اس انٹرایکٹو سیشن کی میزبانی کی کوششوں کو سراہا جس نے تجربات کو شیئر کرنے کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وطن واپسی پر ملاقات کے نکات کو ایران کی پارلیمنٹ میں پیش کریں گے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو بڑھانے کے طریقوں پر مزید تبادلہ خیال کریں گے، اور پی سی ایف آر کے وفد کو باہمی فائدہ مند تعلقات کے امکانات پر بات چیت کے لیے مدعو کرنے کی تجویز بھی پیش کریں گے۔ ایران کے قونصل جنرل حسن نوریان نے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک باہمی طور پر مفید تعلقات رکھتے ہیں کیونکہ ایران 1947 میں پاکستان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک تھا جبکہ پاکستان 1979 کے انقلاب کے بعد ایران کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم دونوں برادر ممالک کے درمیان تجارت کے حجم کو بڑھانے پر کام کر رہے ہیں اور ایک سال کے عرصے میں 5 بلین ڈالر تک پہنچنے کا ہدف رکھتے ہیں۔ سیشن کے بعد سوال و جواب کا سیشن ہوا۔